Islam Times:
2026-06-02@22:51:54 GMT

یورینیم کی افزودگی سرخ لکیر کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT

یورینیم کی افزودگی سرخ لکیر کیوں؟

اسلام ٹائمز: امریکی ایک برے معاہدے کی تلاش میں ہیں، جسے وہ جب بھی ضرورت ہو، بغیر قیمت کے نظرانداز کرسکیں، لیکن ایک اچھا معاہدہ وہ ہوتا ہے، جو فریقین کیلئے قابل قبول ہو۔ ٹرمپ کے جے سی پی او اے کو پھاڑ دینے کے بعد، جس چیز نے ایران کے ہاتھ مضبوط رکھے، وہ تھا "پابندیوں کو ہٹانے اور ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے اسٹریٹجک ایکشن" کا قانون تھا، جس نے ایران کے حق میں ایک توازن پیدا کیا۔ ایران نے افزودگی کی سطح کو بڑھا کر اور ایٹمی ایجنسی کیساتھ تعاون کی سطح کو منظم کرکے امریکیوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔ تحریر: محمد جواد اخوان

ایران اور مغرب کے درمیان دو دہائیوں پر محیط جوہری مذاکرات کے دوران اختلاف کا سب سے اہم نکتہ "یورینیم کی افزودگی" کا مسئلہ رہا ہے۔ افزودگی دونوں فریقوں کے درمیان اس قدر متنازعہ کیوں ہے؟ اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جوہری ٹیکنالوجی میں، (جو برسوں سے بنی نوع انسان کے لیے دلچسپی کا باعث رہی ہے) "ایٹمی ایندھن کی پیداوار کے سائیکل" کو ایک کلیدی عنصر سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی ملک اس عمل پر مکمل کنٹرول رکھتا ہو تو اسے حقیقی معنوں میں جوہری طاقت کہا جاتا ہے۔ اس سائیکل میں، جو سرنگوں سے یورینیم نکالنے سے شروع ہوتا ہے اور اس کی دوبارہ پروسیسنگ تک جاری رہتا ہے، اس میں سب سے اہم مرحلہ "یورینیم کی افزودگی میں اضافہ" ہے، تاکہ اسے توانائی کی پیداوار کے لیے تیار کیا جا سکے۔ دوسرے لفظوں میں، نیوکلیئر ہونے کا انحصار مکمل نیوکلیئر فیول سائیکل ہونے پر ہے اور ایک مکمل نیوکلیئر فیول سائیکل صنعتی طور پر یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔

افزودگی کے عمل میں سنٹری فیوجز کی اعلیٰ سطح کا ہونا ضروری ہے، جس میں مصنوعات کو حاصل کرنے کے لیے ایک خاص درستگی اور معیار کا ہونا ضروری ہے۔ درحقیقت، جوہری ایندھن کی پیداوار کے سلسلے کا سب سے پیچیدہ حصہ افزودگی ہے۔ بلاشبہ، افزودگی مختلف سطحوں اور فیصدوں پر کی جاتی ہے اور افزودگی کی یہ شرح مختلف مصنوعات میں استعمال ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کم افزودگی (5 فیصد تک) بنیادی طور پر جوہری توانائی پیدا کرنے کے مقصد کے لیے ہے، درمیانی افزودگی (20 فیصد تک) کا استعمال ادویات اور زراعت میں ریڈیو آسوٹوپس بنانے کے لیے کیا جاتا ہے، زیادہ افزودگی (60 فیصد تک) جدید آلات جیسے آبدوزوں میں استعمال کی جا سکتی ہے اور 90 فیصد اور اس سے اوپر کی افزودگی فوجی ایپلی کیشن یا ایٹم بم کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

افزودگی کے حق کو برقرار رکھنے پر ایران کے اصرار اور امریکہ کے انکار کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟
 ایندھن کی پیداوار کے وسیع سلسلے میں افزودگی کا کلیدی کردار ہے۔ اگر کسی ملک کے پاس افزودگی کی طاقت اور امکان نہیں ہے تو اس کا عملی طور پر مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس فیول سائیکل مکمل نہیں ہے۔ خاص طور پر ایران جیسا آزاد ملک، جو بڑی طاقتوں پر انحصار نہیں کرتا ہے اور سیاسی وجوہات کی بنا پر اپنے استعمال کے لیے دوسروں سے تیار شدہ جوہری ایندھن حاصل کرنے سے بھی محروم ہے۔ اس صورت میں، یہاں تک کہ متعدد جوہری پاور پلانٹس کی تعمیر سے بھی ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور یہاں تک کہ ملک کی تمام جوہری سرگرمیاں بھی غیر استعمال شدہ رہ سکتی ہیں۔ دوسری جانب جوہری ادویات اور زراعت جیسے شعبوں میں، غیر ملکی ایندھن فراہم کرنے والوں کے وعدوں پر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

ایک اور نقطہ نظر سے، جوہری افزودگی کی طاقت کو  قومی طاقت کے توازن کو بڑھانے کے لیے ایک قسم کا آلہ و ہتھیار بھی سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران، اپنی مذہبی بنیادوں پر بھروسہ کرتے ہوئے، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں بشمول جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے، لیکن اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ پرامن جوہری ٹیکنالوجی کو بھی اپنے لیے حرام قرار دے۔ آج جوہری ٹیکنالوجی کو قومی طاقت کا ایک جزو سمجھا جاتا ہے اور آج کی دنیا میں اس کی مرکزی علامت  افزودگی کی صلاحیت بھی ہے۔ یورینیم کی افزودگی آج طاقت کی سطح کو منظم کرنے اور دشمنوں اور سیاسی حریفوں کا مقابلہ کرنے کا ایک بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔

مثال کے طور پر، امریکہ اپنی اقتصادی اور سیاسی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ایران پر مختلف پابندیاں عائد کرتا ہے اور یہاں تک کہ دوسرے ممالک کو بھی ان پابندیوں کی تعمیل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کو ان پابندیوں کو چیلنج کرنے اور ان پر عائد ہونے والے دباو کو روکنے کے لیے افزودگی جیسے آلے کی ضرورت ہے۔ ایک ہی وقت میں، یہ آلہ دوسرے فریق کے رویئے کو  کنٹرول کرتا ہے۔ درحقیقت امریکیوں کی جانب سے ایران کو اس حق سے محروم رکھنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اگر امریکی دوبارہ اپنے وعدے سے مکر گئے تو ایران کے پاس کوئی موثر جوابی اقدامات نہیں ہوں گے۔

امریکی ایک برے معاہدے کی تلاش میں ہیں، جسے وہ جب بھی ضرورت ہو، بغیر قیمت کے نظرانداز کرسکیں، لیکن ایک اچھا معاہدہ وہ ہوتا ہے، جو فریقین کے لئے قابل قبول ہو۔ ٹرمپ کے جے سی پی او اے کو پھاڑ دینے کے بعد، جس چیز نے ایران کے ہاتھ مضبوط رکھے، وہ تھا "پابندیوں کو ہٹانے اور ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اسٹریٹجک ایکشن" کا قانون تھا، جس نے ایران کے حق میں ایک توازن پیدا کیا۔ ایران نے افزودگی کی سطح کو بڑھا کر اور ایٹمی ایجنسی کے ساتھ تعاون کی سطح کو منظم کرکے امریکیوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔

لہٰذا، افزودگی، ہر ملک کا فطری حق ہونے کے علاوہ، جوہری ایندھن کی قابل اعتماد فراہمی کی ضمانت دیتا ہے اور ساتھ ہی کسی بھی قسم کے معاہدے کی بقا کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔ اگر کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو اس معاہدے کو زندہ رہنے کے لیے افزودگی کے حق کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے پچھلے ٹوٹے ہوئے وعدے کو دیکھتے ہوئے، افزودگی کے بغیر نہ تو توازن قائم ہوگا اور نہ ہی مفاہمت اور معاہدے کی بقا کی ضمانت دی جاسکے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یورینیم کی افزودگی کی پیداوار کے نے ایران کے افزودگی کی افزودگی کے ایندھن کی معاہدے کی کی سطح کو جاتا ہے کرتا ہے ہوتا ہے کے لیے ہے اور

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟