WE News:
2026-06-03@05:00:04 GMT

صرف دولہا نہیں، شہ بالا کی بھی شان

اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT

صرف دولہا نہیں، شہ بالا کی بھی شان

بینڈ، باجا اور بارات ۔ ۔ ۔ شادی زندگی کا یادگار لمحہ، عموماً زندگی میں ایک مرتبہ ہی آتا ہے، اس دن دلہن کی اپنی زندگی میں سب سے زیادہ خوبصورت نظر آنے کی خواہش ہوتی ہے تو دولہا بھی سب سے منفرد دکھائی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ شادی میں کئی رسومات ہوتی ہیں، لڑکے ہوں یا لڑکیاں، بڑھ چڑھ کر ان میں حصہ لیتی ہیں، یہ قدیم رسمیں برسوں سے چلی آ رہی ہیں، کئی رسمیں وقت کے ساتھ بدلتی بھی رہتی ہیں۔ آج ہم ایک ایسی رسم کا ذکر کر رہے ہیں، برسوں سے شادی کی اہم تقریب اس کے بغیر بھی نامکمل سمجھتی جاتی ہے۔

ہم بات کر رہے ہیں شہ بالا کی، اس کے نام بھی مختلف ہیں، اردو زبان میں شہ بالا یا شاہ بالا ،پنجابی زبان میں سر بالا، یا سڑ بالا اور انگلش میں Paranymph.

یوں تو دولہا اور دلہن ہی سب کی نظروں کا محور ہوتے ہیں مگر دولہا کے ساتھ ساتھ خراماں خراماں چلتی ایک اور شخصیت بھی خود کو وی آئی پی تصور کرتی ہے اور یہ کوئی اور نہیں ہمارے بلاگ کا موضوع یعنی شہ بالا ہے ۔ ماضی کی باتیں تو بعد میں کرتے ہیں، موجودہ دور میں شاہ بالا کے لیے بچوں کا انتخاب ہی کیا جاتا ہے ۔ ایک معصوم اور پیارا بچہ دولہا کے ساتھ ساتھ سائے کی طرح ہوتا ہے، اس کی سج دھج ہی الگ ہوتی ہے۔ حلیہ اور روپ بھی دولہے جیسا ہوتا ہے۔ وہی لباس، وہی شاہانہ انداز، دلہن کے بعد اس دن دولہا کا لاڈلا صرف وہ ہی ہوتا ہے۔

اس رسم کا آغاز کیسے ہوا، اس سے متعلق مختلف کہانیاں نسل در نسل چلی آ رہی ہیں، اس کے تانے بانے قدیم یونانی تہذیب سے ملتے ہیں، شہ بالا کے لیے انگلش لفظ paranymph بھی دو یونانی الفاظ ۔ numfios اور para سے ہی مل کر بنا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ماضی میں جب کوئی بارات جاتی تو یہ اکثر ڈاکو اور لٹیروں کا نشانہ بن جاتی، لوٹ مار کے دوران دولہا کو بھی کبھی کبھار مار دیا جاتا تھا، اس کا حل یہ نکالا گیا کہ دولہا کے ہم عمر ایک شخص کو اس جیسے کپڑے پہنا کر اس کے پیچھے رکھا جاتا اور انتخاب کے لیے نظر اکثر دولہا کے کزنز میں سے کسی پر ٹھہرتی۔ دولہا کے قتل کی صورت میں دلہن کی شادی اسی سے کردی جاتی۔

قدیم تہذیب میں شادی کے انتظامات کی ذمہ داری شہ بالا کی ہی ہوتی تھی۔ برصغیر پاک و ہند میں یہ رسم کیسے آئی، اب اس کا جواب تلاش کرتے ہیں۔ کہتے ہیں انگریزوں نے یہ رسم یونانیوں سے لی، ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر میں قدم جمائے، برطانیہ نے یہاں حکومت کی تو انگریزوں کی دیکھا دیکھی مقامی باشندوں کو بھی یہ رسم پسند آئی اور پھر شادی کی دیگر کئی رسومات میں شہ بالا کی رسم بھی شامل ہو گئی مگر انہوں نے اس میں کچھ تبدیلی کی اور وقت کے ساتھ ساتھ مزید تبدیلیاں بھی آتی گئیں۔

گئے وقتوں میں ہمارے یہاں جیسے ہی دولہا کے سر سہرا سجتا تو وہ خود کو کئی پابندیوں میں گھرا محسوس کرتا، اس مشکل وقت میں اس کے دوست اس کے کام آتے۔ دولہا کچھ مانگنے میں ججھک محسوس کرتا اور چلنے میں مشکل پیش آتی تو یہ ساری ذمہ داریاں اس کا قریبی دوست یا عزیز بطور شہ بالا نبھاتا۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ دولہے کے شہ بالا کے لیے اس کے مقابلے میں کم خوبصورت فرد کا انتخاب ہونے لگا۔ دولہا کے ہم عمر فرد کو شہ بالا بنانے سے کئی مسائل پیدا ہونے لگے تو اس کا حل یہ نکالا گیا کہ شہ بالا کے لیے نظر کرم بچوں پر ٹھہرنے لگی۔

شہ بالا کے لیے بچوں کا انتخاب کیسے ہوا، اس سے متعلق دو رائے پائی جاتی ہیں، ایک رائے تو یہ ہے کہ کم خوبصورت افراد کا انتخاب ہونے کے بعد کئی افراد شہ بالا بننے سے انکار کرنے لگے۔ ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ دولہا اور شہ بالا میں مماثلت کے باعث کچھ ناخوشگوار واقعات بھی ہونے لگے۔ دونوں کا چہرہ پھولوں سے ڈھکا ہوتا، لباس بھی ایک جیسا ہوتا تھا، کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ غلطی سے شہ بالا کو ہی دولہا سمجھ لیا گیا۔ ان تمام مسائل کا حل یہ نکالا گیا کہ شہ بالا کے لیے چھوٹے اور پیارے بچوں کا انتخاب کیا جانے لگا اور یہ سلسلہ آج تک قائم ہے۔

موجودہ دور میں بچے ہی شہ بالا بنتے ہیں تو ان پر کوئی ذمہ داری تو نہیں ڈالی جا سکتی، اس طرح اب اس کا کردار صرف علامتی ہوتا ہے، شہ بالا بننے والے بچے کی بھی خوب عیاشی ہوتی ہے، خوبصورت لباس ملتا ہے تو شادی میں شریک افراد کی نظریں دولہا کے ساتھ ساتھ اس پر بھی ہوتی ہیں۔ شہ بالا کو کہیں اور نہیں، دولہا کے ساتھ اسٹیج پر جگہ ملتی ہے۔

شہ بالا تو عموماً بچے ہی بنتے ہیں مگر جون 2019 میں ایک خاص شادی میں ترک صدر رجب طیب اردوان ترکش نژاد جرمن فٹ بالر مسعود اوزیل کے ’شہ بالا‘ اور شادی کے گواہ بنے۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان بھی سات سال کی عمر میں اپنے کزن کی شادی میں شہ بالا بنے تھے۔

اردو زبان میں ایک دلچسپ ضرب المثل بھی پڑھنے کو ملتی ہے’دولہا دلہن پائے، شہ بالا لاتیں کھائے‘ یعنی اصل آدمی کی قدر ہوتی ہے دوسرے کی بے عزتی ہوتی ہے یا پھر فائدہ کسی اور کو اور مشقت بیچارے شہ بالا کو۔

کوئی کچھ بھی کہے یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کل شادی کی تقریبات شہ بالا کے بغیر نامکمل سمجھتی جاتی ہیں، دولہا کے ساتھ ساتھ اسے بھی اہمیت دی جاتی ہے، شہ بالا کے لیے منتخب ہونے والا بچہ خود کو اسپیشل محسوس کرتا ہے تو اس کے والدین کو بھی اس پر فخر ہوتا ہے۔
کیا آپ بچپن میں شہ بالا بنے، ضرور بتایئے گا؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احمد کاشف سعید

احمد کاشف سعید گزشتہ 2 دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ ریڈیو پاکستان اور ایک نیوز ایجنسی سے ہوتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا کا رخ کیا اور آجکل بھی ایک نیوز چینل سے وابستہ ہیں۔ معاشرتی مسائل، شوبز اور کھیل کے موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔

احمد کاشف سعید دلہا دلہن شہ بالا طیب اردوان عمران خان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: احمد کاشف سعید دلہا دلہن شہ بالا طیب اردوان شہ بالا کے لیے میں شہ بالا شہ بالا کی کا انتخاب ہوتا ہے ہوتی ہے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی