پی ٹی سی ایل اربوں روپے کی پراپرٹیز کیسے فروخت کررہی ہے؟.قائمہ کمیٹی آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 26 مئی ۔2025 )قومی اسمبلی کی کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام نے سی ای او پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ( پی ٹی سی ایل ) کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی ای او پی ٹی سی ایل کدھر ہیں؟ پی ٹی سی ایل اربوں روپے کی پراپرٹیز کیسے فروخت کررہی ہے؟ چیئرمین کمیٹی نے سی ای او پی ٹی سی ایل کی عدم حاضری کو پارلیمنٹ کی توہین قرار دے دیا.
(جاری ہے)
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد ہوا، اجلاس میں پی ٹی سی ایل پراپرٹیز کی خرید وفروخت سے متعلق ایجنڈا زیربحث آیا چیئرمین کمیٹی نے سی ای او پی ٹی سی ایل کی قائمہ کمیٹی میں عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا. چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ سی ای او پی ٹی سی ایل کدھر ہیں؟چیئرمین کمیٹی نے سی ای او پی ٹی سی ایل کی عدم حاضری کو پارلیمنٹ کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سی ای او پی ٹی سی ایل کو بلاتے ہیں، ان کا مسلسل نہ آنا کمیٹی کی توہین ہے، ابھی پی ٹی سی ایل کا ایجنڈا ٹیک اپ ہی نہیں کرتے اگر سی ای او اسلام آباد ہیں تو انہیں بلائیں،جب تک سی ای او نہیں آتے ہم پی ٹی سی ایل کے ایجنڈے پر کوئی بات چیت نہیں کریں گے. پی ٹی سی ایل حکام نے کہا کہ سی ای او پی ٹی سی ایل یو اے ای سفارتخانے میں ایک میٹنگ میں گئے ہیں، جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ممبران دور دراز علاقوں سے اس اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہیں،جو ممبران نہیں آسکے وہ اجلاس میں آن لائن اجلاس میں شریک ہیں،اجلاس کے روز یو اے ای ایمبیسی میں میٹنگ رکھ لینا اچھا عمل نہیں ہے. چیئرمین قائمہ کمیٹی نے استفسار کیا کہ پی ٹی سی ایل اربوں روپے کی پراپرٹیز کیسے فروخت کررہی ہے؟ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت قانون کے حکام کو بھی طلب کرلیاہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سی ای او پی ٹی سی ایل چیئرمین کمیٹی نے قائمہ کمیٹی پراپرٹیز کی نے سی ای او اجلاس میں کہا کہ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔