قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت کے اجلاس سے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو باہر نکال دیا گیا۔ اراکین نے انہیں مزید سننے سے انکار کرتے ہوئے معذرت بھی مسترد کردی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت کا اجلاس چیئرمین حفیظ الدین کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں چیئرمین نے سیکریٹری صنعت و پیداوار کی عدم شرکت پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسفار کیاکہ سیکریٹری صنعت و پیداوار کہاں ہیں؟

یہ بھی پڑھیں وضاحت مسترد، ایمل ولی نے چیئرمین پی ٹی اے کیخلاف تحریک استحقاق پیش کردی

چیئرمین کمیٹی کے سوال پر اجلاس میں موجود محکمے کے جوائنٹ سیکریٹری نے بتایا کہ سیکریٹری پی اے سی کے اجلاس میں گئے ہیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ پیغام بھجوا کر سیکریٹری کو یہاں بلائیں۔

چیئرمین حفیظ الدین نے ایک اور سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ نیپرا کے لوگ اجلاس میں کیوں موجود نہیں؟ جس پر کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علویٰ نے کہاکہ شاید نیپرا کے لوگ کابینہ اجلاس میں گئے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی حفیظ الدین نے کہاکہ آپ کی نیپرا سے قربت کے حوالے سے ہم جانتے ہیں، جس پر مونس الٰہی نے جواب دیاکہ جی ہمارا تو چولی دامن کا ساتھ ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے سی ای او کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو شاباش دیتا ہوں کہ آپ کا تعلق عوام کے ساتھ نہیں بلکہ نیپرا کے ساتھ ہے۔ ہماری سفارشات کو اہمیت نہیں دی جارہی، لیکن ہم بھی عملدرآمد کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔

اجلاس میں کے الیکٹرک کے سی ای او اور رکن سیف رضا علی گیلانی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ جس پر سید رضا علی گیلانی نے کہاکہ جب تک سی ای او کمیٹی میں ہے میں نہیں بیٹھوں گا۔

سی ای او کے الیکٹرک نے اس بات پر بھی اعتراض کیاکہ ارکان اسمبلی اور کراچی چیمبرز کو زوم کی سہولت دی گئی ہے، جبکہ ان کو کراچی سے بلایا گیا۔

چیئرمین کمیٹی نے سی ای او کے الیکٹرک سے استفسار کیاکہ کیا آپ نے عدالت سے کراچی صنعت کرونا سبسڈی کا کیس واپس لیا ہے، جس پر انہوں نے کہاکہ ہم کیس واپس نہیں لے سکتے۔

یہ بھی پڑھیں چیئرمین پی ٹی اے باچا خان مرکز پہنچ گئے، ایمل ولی کے ساتھ کدورتیں ختم

سی ای او کے الیکٹرک کے جواب پر ممبران اظہار برہم ہوئے، اور مزید سننے سے انکار کردیا، جس پر انہیں اجلاس سے نکال دیا گیا، اور ان کی معذرت بھی مسترد کردی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اجلاس سے نکال دیا سی ای او کے الیکٹرک قائمہ کمیٹی اجلاس قومی اسمبلی معذرت مسترد وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اجلاس سے نکال دیا سی ای او کے الیکٹرک قائمہ کمیٹی اجلاس قومی اسمبلی وی نیوز سی ای او کے الیکٹرک چیئرمین کمیٹی کے الیکٹرک کے قائمہ کمیٹی حفیظ الدین کرتے ہوئے اجلاس میں اجلاس سے نے کہاکہ نکال دیا

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو