شانگلہ: بیٹوں نے اپنے 90 سالہ والد کی خواہش پر انکی دوسری شادی کروادی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے چار بیٹوں نے اپنے 90 سالہ والد کی دیرینہ خواہش پوری کردی۔
شانگلہ کے علاقے بشام شنگ میں ایک غیر معمولی اور دلچسپ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چار بیٹوں نے اپنے والد مولانا سیف اللّٰہ کی خواہش پوری کرتے ہوئے ان کی 55 سالہ خاتون سے دوسری شادی کروادی۔
پہلی بیوی کے انتقال کے بعد جب مولانا سیف اللّٰہ نے دوسری شادی کی خواہش ظاہر کی تو بیٹوں نے خود مناسب رشتہ تلاش کرنے کے بعد شادی کے تمام انتظامات پورے کرکے والد کی شادی بعوض ایک تولہ حق مہر کروادی
اس انھوکی شادی میں مولانا سیف اللّٰہ کے نواسے، نواسیوں، پوتے پوتیوں، پڑپوتوں اور پڑپوتیوں اور انکے بچوں نے بھی شرکت کی۔ ان کی شادی میں اہلِ خانہ سمیت اہلِ محلہ بھی بڑھ چڑھ کر شریک ہوئے۔
اہلِ محلہ کے مطابق مولانا سیف اللّٰہ کی اس عمر میں شادی، معاشرتی رویوں اور روایتی سوچ میں تبدیلی کی علامت ہے، جہاں عمر کی قید کے بغیر خوشی اور جذبات کی قدر کی گئی ہے۔
ان کے مطابق مولانا سیف اللّٰہ کے بیٹوں کا عمل والدین کی خواہشات کو اہمیت اور بڑھاپے میں بھی ان کی خوشی کو ترجیح دینے کی ایک قوی مثال ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔