نون لیگ کی وکٹ گرنے کو تیار، اہم رہنماء کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے تصدیق کی ہے کہ اس سلسلے میں پیٹرن انچیف عمران خان نے گرین سگنل دے دیا ہے۔ زبیر عمر کو عید کے بعد باقاعدہ طور پر پی ٹی آئی کا حصہ بنائے جانے کا امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ نون کے اہم رہنماء کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق گورنر اور مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کے سابق ترجمان زبیر عمر کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان ہے۔ زبیر عمر کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق پی ٹی آئی پیٹرن ان چیف سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے تصدیق کی ہے کہ اس سلسلے میں پیٹرن انچیف عمران خان نے گرین سگنل دے دیا ہے۔ زبیر عمر کو عید کے بعد باقاعدہ طور پر پی ٹی آئی کا حصہ بنائے جانے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا امکان ہے میں شمولیت پی ٹی آئی
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔