لاہور، والد کی وفات، تحریک انصاف کے مفرور رہنماء حماد اظہر گھر پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
پی ٹی آئی رہنماء حماد اظہر کے والد سینیئر سیاست اور سابق گورنر پنجاب میاں اظہر گزشتہ روز انتقال کر گئے تھے۔ مرحوم کی نماز جنازہ آج ڈیڑھ بجے قذافی سٹیڈیم لاہور میں ادا کی جائے گی۔ 9مئی مقدمات کی وجہ سے مفرور حماد اظہر اپنی رہائشگاہ پہنچے۔ حماد اظہر اپنے والد میاں اظہر کی نماز جنازہ میں شریک ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کے 9 مئی کے مقدمات میں مفرور رہنماء حماد اظہر اپنی رہائشگاہ پہنچ گئے۔ پی ٹی آئی رہنماء حماد اظہر کے والد سینیئر سیاست اور سابق گورنر پنجاب میاں اظہر گذشتہ روز انتقال کر گئے تھے۔ مرحوم کی نماز جنازہ آج ڈیڑھ بجے قذافی سٹیڈیم لاہور میں ادا کی جائے گی۔ 9 مئی مقدمات کی وجہ سے مفرور حماد اظہر اپنی رہائشگاہ پہنچے۔ حماد اظہر اپنے والد میاں اظہر کی نماز جنازہ میں شریک ہوں گے۔ حماد اظہر کے اپنی رہائشگاہ پہنچنے پر تعزیت کرنے والوں تانتا بندھ گیا۔ گارڈن ٹاون کے ابوبکر بلاک میں حماد اظہر کی رہائش گاہ پر کارکنوں اور رہنماوں سمیت شہریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رہنماء حماد اظہر اپنی رہائشگاہ کی نماز جنازہ میاں اظہر
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔