حج اگلے سال سے موسم بہار میں داخل، گرمیوں میں اگلا حج 25 سال بعد ہوگا، سعودی محکمہ موسمیات
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
نیشنل سینٹر فار میٹیورولوجی (این سی ایم) کے ترجمان حسین القحطانی نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کا حج موسم گرما میں آخری حج ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ آئندہ 8 حج کے سیزن موسمِ بہار میں ہوں گے، جس کے بعد 8 حج موسمِ سرما میں ادا کیے جائیں گے۔ پھر حج خزاں میں آئے گا اور تقریباً 25 سال بعد حج ایک بار پھر موسمِ گرما میں آئے گا۔
یہ بھی پڑھیے: بہتر حج انتظامات، گرمی سے متاثرہ عازمین کی تعداد میں 90 فیصد کمی ریکارڈ
این سی ایم کے ترجمان نے بتایا کہ یہ تبدیلی قمری کیلنڈر کے چکر کی وجہ سے ہو رہی ہے، جو آئندہ برسوں میں حجاج کرام کو زیادہ معتدل موسم میں عبادات کی ادائیگی کا موقع فراہم کرے گی۔
دوسری جانب اس سال شدید گرمی کی وجہ سے سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے حج کے دوران عازمین کو صبح 10 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان براہِ راست دھوپ سے بچنے کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں تاکہ عازمین حج کو ہیٹ اسٹروک سے بچایا جاسکے۔
وزارت صحت نے عازمین کو چھتریوں کے استعمال، زیادہ پانی پینے اور حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی بھی تاکید کی ہے تاکہ گرمی کی شدت سے ہونے والی بیماریوں جیسے ہیٹ اسٹروک اور تھکن سے محفوظ رہا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بہار حج 2025 سعودی عرب گرمی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بہار
پڑھیں:
چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
چین نے اپنی خلائی سرگرمیوں میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے جمعہ کے روز لیجیان-1 وائی 15 کیریئر راکٹ کے ذریعے 5 مصنوعی سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں بھیج دیے۔
چینی حکام کے مطابق راکٹ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 33 منٹ پر شمال مغربی چین میں واقع ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس انوویشن پائلٹ زون سے لانچ کیا گیا۔
کامیاب پرواز کے بعد راکٹ نے تمام 5 سیٹلائٹس کو ان کے مقررہ مدار میں پہنچا دیا، جس کے ساتھ مشن اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
اس موقع پر جاری بیان میں کہا گیا کہ تمام سیٹلائٹس منصوبہ بندی کے مطابق اپنے مخصوص مدار میں داخل ہو گئے ہیں، جس سے لانچنگ کی کامیابی کی تصدیق ہوگئی۔
یہ مشن چین کے تجارتی خلائی پروگرام کی مسلسل پیش رفت کا مظہر ہے، حالیہ برسوں میں چین نے سیٹلائٹ لانچنگ، خلائی تحقیق اور تجارتی خلائی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ملک اپنے خلائی پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے مختلف راکٹ مشنز اور سیٹلائٹ منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے کامیاب مشنز نہ صرف چین کی لانچنگ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتے ہیں بلکہ تجارتی خلائی صنعت کی ترقی اور مستقبل کے خلائی منصوبوں کے لیے بھی اہم سنگ میل تصور کیے جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چین خلائی مشن سیٹلائٹ مدار