لاہور:

جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ادارے نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں قائم نجی چڑیا گھروں اور سرکس میں جنگلی جانوروں کو بے رحمی کے ساتھ اسیری میں رکھنے کے خلاف درخواست دائر کردی، عدالت نے پنجاب وائلڈ لائف سمیت متعلقہ فریقین کو طلب کرلیا۔

ماحولیاتی اور جانوروں کے حقوق کی قانونی فرم اور تحقیقی تھنک ٹینک انوائرمنٹل اینڈ اینیمل رائٹس کنسلٹنٹس کے سربراہ اور  وکیل التمش سعید اور ان کی ٹیم نے عدالت کے سامنے موقف رکھا کہ نجی اور  روڈ سائیڈ چڑیا گھروں اور سرکسوں میں شیروں، تیندوں، اور ریچھوں جیسے جنگلی جانوروں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔

درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ  ان جانوروں کو جھیلوں کے کنارے بنے تفریحی مقامات میں تنگ، غیر فطری پنجروں میں قید رکھا جاتا ہے، جہاں ان کی آزادی، وقار، اور قدرتی ضروریات کو بری طرح کچلا جا رہا ہے، شدید گرمی اور درجہ حرارت میں لوہے کے پنجرے میں قید جانوروں کی حالت کا اندازہ لگانا بھی محال ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر کو تسلیم کیا کہ جنگلی جانور جاندار اور حساس مخلوق ہیں اور ان کی نجی قید پنجاب وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو طلب کرکے انہیں قانون پر مکمل عمل درآمد کا حکم دیا ہے۔ مزید برآں، عدالت نے متعلقہ مقامات کے معائنے اور رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔ 

درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جنگلی جانوروں کی نجی قید پر آئینی پابندی عائد کی جائے اور تمام متاثرہ جانوروں کو قانونی پناہ گاہوں میں منتقل کیا جائے، جہاں انہیں مناسب دیکھ بھال، قدرتی ماحول اور ذہنی سکون میسر آسکے۔

واضح رہے کہ لاہور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں بنائی گئی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں بھی نجی چڑیا گھر بنائے جارہے ہیں جبکہ مختلف شہروں خاص طور پر دیہات میں سرکس لگائے جاتے ہیں جہاں جنگلی جانوروں سے مختلف کرتب کروائے جاتے ہیں۔

التمش سعید ایڈووکیٹ کا کہنا ہے یہ اقدام ایک بڑی قانونی تبدیلی کی علامت ہے، جنگلی جانوروں کے تحفظ کو صرف اصولوں میں نہیں بلکہ عمل میں بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا ہم معزز جسٹس عابد عزیز شیخ کے بے مثال عدالتی وژن اور مظلوم جانوروں کے لیے انصاف کی جدوجہد پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں، یہ مقدمہ جانوروں کے حقوق کے حصول کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنگلی جانوروں جانوروں کے عدالت نے

پڑھیں:

ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق

فائل فوٹو۔

ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔ 

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔ 

بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔

والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔

اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق