ایرانی حملوں میں 4 صیہونی ہلاک اور 70 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا کہنا تھا کہ اسرائیل کیخلاف میزائل حملوں میں 2 صیہونی لڑاکا طیارے F-35 نشانہ بنے۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ صبح اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران کی سلامتی و خود مختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملہ کر دیا۔ جوابی کارروائی میں تہران نے تل ابیب پر سینکڑوں میزائل داغ دئیے۔ اسرائیل کے خلاف یہ میزائل آپریشن 4 مرحلوں میں انجام دیا گیا۔ جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 4 صیہونی ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے۔ جانی نقصان میں اضافے کا قوی امکان ہے۔ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جاری بیان کے مطابق، میزائل حملوں میں 2 صیہونی لڑاکا طیارے F-35 بھی نشانہ بنے۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ اس دفعہ ایرانی حملے میں اسرائیل کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ یہانتک کہ بعض اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے تل ابیب میں 6 عمارتوں کے زمین بوس ہونے کی رپورٹس بھی دیں۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے گزشتہ صبح کی صیہونی جارحیت کو تہران کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ایران پر صیہونی رژیم کے دہشت گرد حملوں میں 78 افراد شہید اور 320 کے قریب زخمی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حملوں میں
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔