Islam Times:
2026-07-24@08:45:38 GMT

ایرانی حملوں میں 4 صیہونی ہلاک اور 70 زخمی

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

ایرانی حملوں میں 4 صیہونی ہلاک اور 70 زخمی

اپنے ایک جاری بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا کہنا تھا کہ اسرائیل کیخلاف میزائل حملوں میں 2 صیہونی لڑاکا طیارے F-35 نشانہ بنے۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ صبح اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ ایران کی سلامتی و خود مختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملہ کر دیا۔ جوابی کارروائی میں تہران نے تل ابیب پر سینکڑوں میزائل داغ دئیے۔ اسرائیل کے خلاف یہ میزائل آپریشن 4 مرحلوں میں انجام دیا گیا۔ جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 4 صیہونی ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے۔ جانی نقصان میں اضافے کا قوی امکان ہے۔ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جاری بیان کے مطابق، میزائل حملوں میں 2 صیہونی لڑاکا طیارے F-35 بھی نشانہ بنے۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ اس دفعہ ایرانی حملے میں اسرائیل کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ یہانتک کہ بعض اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے تل ابیب میں 6 عمارتوں کے زمین بوس ہونے کی رپورٹس بھی دیں۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے گزشتہ صبح کی صیہونی جارحیت کو تہران کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ایران پر صیہونی رژیم کے دہشت گرد حملوں میں 78 افراد شہید اور 320 کے قریب زخمی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حملوں میں

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ