لاہور (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صنعتی اور مائنز ورکرز کے بچوں کیلئے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے میں مفت تعلیم کا اعلان کیا ہے، کارکنوں کے بچوں کو کامسیٹ یونیورسٹی کے 7 کیمپسز میں داخلہ دیا جائے گا، فیس حکومت پنجاب ادا کرے گی۔

وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی ہدایت پر پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ نے کارکنوں سے درخواستیں طلب کر لیں۔

پنجاب میں ورکرز کے بچے کامسیٹ یونیورسٹی، اسلام آباد، سب کیمپسز ایبٹ آباد، واہ کینٹ، اٹک، لاہور، ساہیوال اور وہاڑی میں پڑھ سکیں گے، معذور اور فوت شدہ ورکرز کے بچوں کو بھی کامسیٹ یونیورسٹی میں مفت تعلیم کی سہولت دی جائے گی۔

رجسٹرڈ ورکرز اسلام آباد کیمپس میں 9 جولائی، لاہور کیمپس 17 جولائی، واہ کینٹ اور ایبٹ آباد میں 4 اگست، وہاڑی اور اٹک میں 11 اگست اور ساہیوال میں 15 اگست تک درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔

درخواست فارم کے ساتھ ورکر کا قومی شناختی کارڈ، رجسٹرڈ سرٹیفکیٹ، طالب علم کا قومی شناختی کارڈ یا ب فارم، سوشل سکیورٹی کارڈ یا اولڈ ایج بینیفٹ کی کاپی منسلک کرنا ہوگی، ورکرز کے بچے کامسیٹ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر آن لائن اپلائی کر کے ڈاکیومنٹس ایڈمیشن فارم میں جمع کرائیں گے۔

وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا کہنا ہے کہ ورکر ہمارے سر کا تاج ہے، تعلیم اور صحت سمیت ہر سہولت دیں گے، پنجاب کے ہر ورکر کے بچوں کیلئے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے دروازے کھول رہے ہیں، پنجاب میں کوئی بچہ چاہے وہ مزدور کا بچہ ہے اب تعلیم سے محروم نہیں رہے گا، مزدوروں کی فلاح وبہبود کیلئے ایسے تاریخی اقدامات کررہے ہیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

بھارتی شہر کیدرناتھ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ، 7 افراد ہلاک

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کامسیٹ یونیورسٹی ورکرز کے کے بچوں

پڑھیں:

شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق

 ( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔

 یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔

 مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت