data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے نئی اعزازیہ پالیسی کی منظوری دے دی، پالیسی کےتحت بجٹ اعزازیہ، آرڈینری اعزازیہ اورکارکردگی اعزازیہ دیاجائےگا۔

پالیسی کے تحت بجٹ اعزازیہ وفاقی حکومت کی بجٹ سازی کی مشق میں شامل ملازمین کوملے گا، بجٹ اعزازیہ کے لیے وزارت خزانہ، ایف بی آر، وزارت منصوبہ بندی، قومی اسمبلی، سینیٹ سیکریٹریٹ اور وزیرِ اعظم آفس کےملازمین حقدارہوں گے، ہرمالی سال کے لیےاعزازیہ کی تعداد اور کن وزارتوں یا دفاتر کو دیا جائےگا، یہ فیصلہ وزیرخزانہ کریں گے۔

پالیسی کے تحت پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر کوآرڈینری اعزازیہ دینےکا اختیار حاصل ہو گا، آرڈینری اعزازیہ گریڈ ایک تا 22 کے تمام ملازمین کو ایک بنیادی تنخواہ کے برابر دیا جاسکےگا۔کارکردگی اعزازیہ پر مالی سال کے دوران قابل قدر کارکردگی کی بنیاد پر دیاجائے گا، کارکردگی اعزازیہ مالی سال میں ایک بنیادی ماہانہ تنخواہ کے برابر دیا جاسکےگا، لیکن یہ تعداد کل ملازمین کے 25 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی۔

مذکورہ بالا 25 فیصد کے علاوہ دیگر اہل ملازمین کو ’کارکردگی اعزازیہ‘ دیاجاسکےگا، کارکردگی اعزازیہ ایک مالی سال میں ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کے برابرہوگا۔پالیسی کے تحت اعزازیہ کی تمام ادائیگیاں پے رول اسٹیٹمنٹس میں ظاہرکی جائیں گی، اعزازیہ کی ٹیکسیشن مو نیٹائزیشن الاؤنس کی طرز پر ہوگی، کسی وزارت یا ڈویژن میں 6 ماہ سےکم مدت کے لیے تعینات ملازمین کو پرفارمنس اعزازیہ نہیں دیاجائےگا۔

وہ ملازمین جنہیں بجٹ اعزازیہ مل چکا یا ملنے کا امکان ہو، انہیں ’آرڈینری‘ یا ’پرفارمنس آنریریم‘ نہیں دیاجائے گا، بجٹ اعزازیے کی رقم اُس کے پہلے سے دیےگئے اعزازیہ میں ایڈجسٹ کی جائےگی،کوئی بھی ملازم ایک سے زائد اداروں سے اعزازیہ وصول نہیں کر سکےگا۔اس پالیسی میں بیان کردہ اعزازیہ کے علاوہ کوئی اور اعزازیہ نہیں دیا جائےگا-

یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے پر اعزازیہ پالیسی کی منظوری دی،ای سی سی نے اس حوالے سے 2 جون 2025 کو فیصلہ کیا تھا

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کارکردگی اعزازیہ بجٹ اعزازیہ ملازمین کو پالیسی کے ا رڈینری

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن