محکمہ موسمیات پاکستان نے پیشگوئی کی ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں، بشمول اسلام آباد اور راولپنڈی، میں 25 جون یعنی بروز بدھ سے مون سون بارشوں کا آغاز ہونے والا ہے، جو موجودہ شدید گرمی کی لہر سے عارضی ریلیف فراہم کرے گا۔

تاہم، محکمہ موسمیات نے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد سمیت کئی بڑے شہروں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو چکی ہیں، جبکہ ایک مغربی ہوائی سلسلہ 25 جون کو بالائی علاقوں میں داخل ہوگا، جو اگلے دن مزید شدت اختیار کرے گا، جس سے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں متوقع ہیں۔ بعض مقامات پر شدید سے انتہائی شدید بارشیں ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان کے خوش ذائقہ پھل موسمیاتی تبدیلی کی لپیٹ میں، معیشت متاثر

آزاد جموں و کشمیر، خصوصاً نیلم ویلی، مظفرآباد، راولا کوٹ اور قریبی علاقوں میں 24 جون کی شام سے 2 جولائی تک وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔

گلگت بلتستان میں 26 سے 29 جون تک بارشوں کا امکان ہے، جبکہ پنجاب اور اسلام آباد میں 25 جون سے 1 جولائی تک موسلا دھار بارش اور گرج چمک کے ساتھ طوفان متوقع ہے، متاثرہ شہروں میں راولپنڈی، لاہور، سرگودھا، فیصل آباد اور سیالکوٹ شامل ہیں۔

جنوبی پنجاب کے اضلاع مثلاً ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں 26 سے 28 جون کے دوران اسی نوعیت کا موسم رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، خیبر پختونخوا میں بھی مون سون سرگرمیاں متحرک رہیں گی، جن میں سوات، دیر، پشاور اور وزیرستان جیسے علاقے 25 جون سے 1 جولائی تک بارشوں کی لپیٹ میں رہیں گے۔

مزید پڑھیں: پری مون سون نے گرمی کا زور توڑ دیا، موسم خوشگوار مزید بارشوں کی پیشگوئی

بلوچستان کے شمال مشرقی اور جنوبی اضلاع، جیسے شیرانی، سبی، لسبیلہ اور خضدار، میں 25 جون کی رات سے 28 جون تک بارش کا امکان ہے۔ سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقے، جن میں کراچی، حیدرآباد، سکھر اور تھرپارکر شامل ہیں، بھی 25 سے 28 جون کے دوران بارشوں اور تیز ہواؤں کی زد میں رہیں گے، اگرچہ درمیان میں وقفے بھی آ سکتے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ شدید گرمی کی لہر بتدریج ختم ہو جائے گی، تاہم بعض علاقوں میں برساتی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی، خصوصاً مری، گلیات، کوہستان، پنجاب اورخیبرپختونخوا کے کچھ حصوں میں، اچانک سیلاب کا باعث بن سکتی ہے۔

اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، پشاور، حیدرآباد اور کراچی جیسے شہروں کے نشیبی علاقوں میں 26 سے 28 جون کے دوران شہری سیلاب کا خطرہ بھی موجود ہے، اسی طرح خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے سبب آمدورفت میں رکاوٹ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں موسم شدید گرم، بارش کب ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے خوشخبری سنا دی

محکمہ موسمیات پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ گرج چمک، تیز ہواؤں اور بارش کے باعث کچے مکانات، بجلی کے کھمبے، درخت، گاڑیاں، ہورڈنگ بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے،کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی زرعی سرگرمیاں موسم کی پیشگوئی کے مطابق ترتیب دیں جبکہ سیاحوں اور مسافروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال مون سون سیزن 15 جون سے 15 ستمبر تک جاری رہے گا، اگرچہ یہ سیزن عمومی طور پر 3 ماہ پرمحیط ہوتا ہے، تاہم اس سال اس کے جلد آغاز اور تاخیر سے اختتام کے امکانات بھی موجود ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اربن فلڈنگ اسلام آباد بارش بلوچستان پنجاب تھرپارکر حیدرآباد خیبر پختونخوا طوفان کراچی کوہستان گلگت گلیات محکمہ موسمیات مون سون.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اربن فلڈنگ اسلام آباد بلوچستان تھرپارکر خیبر پختونخوا طوفان کراچی کوہستان گلگت گلیات محکمہ موسمیات محکمہ موسمیات اسلام آباد علاقوں میں کی پیشگوئی رہنے کی

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل