data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مشرق وسطیٰ میں کئی روز سے جاری کشیدگی کے بعد بالآخر ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جنگ بندی طے پا گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کے بعد نہ صرف جنگی کارروائیاں روکنے پر اتفاق ہوا بلکہ اسرائیل نے بھی باضابطہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرتے ہیں۔ اگر اس معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو اسرائیل پوری قوت کے ساتھ ردعمل دے گا۔

نیتن یاہو کا دعویٰ تھا کہ اسرائیل نے ایرانی جوہری پروگرام کو ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کر دیا ہے اور اپنے دفاعی اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے گزشتہ شب کابینہ، وزیر دفاع اور موساد کے سربراہ کے ساتھ اہم ملاقات کی، جس کے بعد آپریشن کی کامیابی کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔

 جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے لاحق دوہری اور فوری خطرات کو مؤثر طور پر ختم کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی حملوں کے بعد ایران نے گزشتہ شب قطر میں امریکی فوجی اڈے پر جوابی میزائل حملہ کیا تھا، جس کے بعد حالات سنگینی کی نئی سطح پر پہنچ گئے۔

تاہم امریکی صدر کے فوری مداخلت اور ثالثی کے بعد فریقین نے پسپائی اختیار کی۔

ایرانی حکام کی جانب سے بھی جنگ بندی کی تصدیق کر دی گئی ہے، جبکہ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ فضائی حملوں کے اختتام کے بعد ملک کی فضائی حدود دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔ اسرائیلی ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق، خطرہ کم ہونے کے بعد تمام پروازوں کو بحال کر دیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ اسرائیل نے نیتن یاہو کر دیا کے بعد

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان