زاہد میر پاکستان ریفائنری کے دوبارہ ایم ڈی و سی ای او مقرر
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے زاہد میر کو دوبارہ چیف ایگزیکٹو آفیسراور منیجنگ ڈائریکٹرمقرر کرنے کی منظوری دے دی۔لسٹڈ کمپنی نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ اپنے نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ہمیں یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ زاہد میر کو پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کا منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر دوبارہ مقرر کیا جائے، ان کی تقرری یکم اگست 2025 سے 31 جولائی 2027 تک دو سال کے لیے مؤثر ہوگی۔پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل) کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق، زاہد میر یکم اگست 2019 سے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔زاہد میر پٹرولیم انجینئر ہونے کے ساتھ ساتھ ایم بی اے بھی ہیں، اور تیل و گیس کی صنعت میں سرکاری و نجی شعبے کی متعدد کمپنیوں میں 32 سال سے زائد کا وسیع تکنیکی و انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ اْنہیں آن شور اور آف شور دونوں اقسام کی سرگرمیوں میں وسیع تجربہ حاصل ہے اور وہ اپ اسٹریم آپریشنز کے تمام مراحل میں اعلیٰ سطح پر شامل رہے ہیں۔زاہد میر کو فیلڈ آپریشنز کی نگرانی کا بھی وسیع تجربہ حاصل ہے جن میں پیداواری عمل، ابتدائی انجینئرنگ، منصوبہ بندی، ترقی اور عملی نفاذ شامل ہیں، یہ تجربہ انہوں نے پاکستان اور برطانیہ میں قومی اور بین الاقوامی تیل و گیس کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے حاصل کیا۔پی آر ایل کی ویب سائٹ پر فراہم کردہ معلومات کے مطابق وہ اس سے قبل شیل، کوفپیک، پریمیئر آئل اور او جی ڈی سی ایل جیسے اداروں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زاہد میر
پڑھیں:
فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
(گزشتہ سے پیوستہ)
دوم انصاف ،اقبالؒ کے نزدیک امن صرف اسی وقت قائم ہوسکتاہے جب انصاف ہو۔قرآن کہتا ہے ،بے شک اللہ عدل اوراحسان کاحکم دیتاہے۔ (النحل: 90)
پاکستان کوہرمعاملے میں انصاف،توازن اور اصولی موقف اختیارکرنا چاہیے۔پاکستان کوایک غیرجانبدارثالث کے طورپردونوں فریقین کے مؤقف کوسمجھتے ہوئے ایک منصفانہ حل پیش کرنا چاہیے،نہ کہ کسی ایک طاقت کے زیرِاثرآکر۔
سوم احترامِ خودمختاری :تیسرا اصول انسانیت کو مقدم رکھناہے۔اقبال کاپیغام جغرافیائی حدودسے بلندتھا۔وہ انسان کوبحیثیت انسان دیکھتے تھے۔وہ فرماتے ہیں ’’مذہب نہیں سکھاتاآپس میں بیررکھنا ‘‘۔ خودمختاری کااحترام بہت اہم ہے۔اقبالؒ نے ہمیشہ غلامی اوربیرونی تسلط کے خلاف آواز اٹھائی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایران کی خود مختاری اور امریکاکے عالمی کرداردونوں کومدنظررکھتے ہوئے ایک متوازن حکمت عملی اختیارکرے لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ امن کے راستے کبھی آسان نہیں ہوتے۔جب بھی دنیامیں امن کی کوئی کوشش ہوتی ہے،توبعض عناصراپنے سیاسی، معاشی یا تزویراتی مفادات کے باعث اعتماد سازی کے عمل کوکمزورکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے حالات میں اصل امتحان معاہدے پردستخط کرنانہیں بلکہ اس اعتمادکوبرقرار رکھنا ہوتاہے جس پرامن کی بنیادرکھی جاتی ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے پاس اپنے اس کردارکو بڑھانے کے لئے کئی عملی راستے موجود ہیں:
پہلا،سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ، پاکستان کوچاہیے کہ وہ اسلامی تعاون تنظیم اوراقوامِ متحدہ جیسے فورمزپرفعال کرداراداکرے اور ایران- امریکا تنازع کے مستقل حل کے لئے دوبارہ ٹھوس تجاویزپیش کرے۔
دوسرا،اعتمادسازی کے اقدامات ہیں۔امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ عدم اعتماد ہے۔ جب ریاستیں ایک دوسرے پراعتمادکھو دیتی ہیں تو معاہدے کاغذکے ٹکڑے بن جاتے ہیں۔اس لئے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کواپنی سفارتی حکمتِ عملی کامرکزی حصہ بنائے۔یہ اعتمادصرف سرکاری سطح پرنہیں بلکہ عوامی سطح پربھی ہونا چاہیے ۔پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتمادکی فضاقائم کرنے کے لئے غیررسمی ملاقاتوں،تھنک ٹینکس،اورعلمی کانفرنسزکا انعقاد کرسکتاہے۔ علمی و ثقافتی تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے ، اور بین الاقوامی کانفرنسزکے انعقاد میں اقبالؒ اکیڈمی اہم کرداراداکرسکتی ہے۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ ایک ’’مکالماتی کلچر‘‘کو فروغ دے ،ایسا کلچرجس میں اختلاف کو برداشت کیاجائے،سوال کودبایانہ جائے اور دلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔ سوال کودبایانہ جائے،اوردلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔
تیسرا،اقتصادی تعاون ہے کیونکہ اقتصادی استحکام بھی امن کا ایک اہم جزوہے۔اقبالؒ ایک مضبوط اورخوددارمعیشت کے قائل تھے۔ پاکستان اگرخطے میں اقتصادی روابط کو فروغ دے،تویہ ممالک کوتصادم کی بجائے تعاون کی طرف راغب کرسکتاہے۔ اقبالؒ نے خودی کے ساتھ ساتھ خود کفالت پربھی زوردیا۔ ایک مضبوط معیشت نہ صرف داخلی استحکام لاتی ہے بلکہ خارجی سطح پربھی وقارعطاکرتی ہے۔پاکستان اگرعلاقائی اقتصادی تعاون کوفروغ دے، تجارتی روابط کووسعت دے،اورمشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرے تووہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے خطے کے لئے امن کاراستہ ہموارکرسکتاہے۔
چوتھا،مذہبی اورتہذیبی ہم آہنگی کافروغ ہے۔ مذہب کاکرداربھی اس ضمن میں نہایت اہم ہے۔ بدقسمتی سے آج مذہب کواکثرشدت پسندی کے ساتھ جوڑاجاتاہے،حالانکہ اسلام کااصل پیغام امن،رحمت اوراعتدال ہے۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے ایک ایسامتوازن بیانیہ پیش کرسکتاہے جو مذہب کوشدت پسندی کے بجائے امن اوررواداری کے ساتھ جوڑتاہو،جواقبالؒ کی تعلیمات کابھی نچوڑ ہے۔ اقبال ؒکی فکرمیں مذہب ایک زندہ قوت ہے جو انسان کوبیدارکرتی ہے، اسے ذمہ داری کااحساس دلاتی ہے،
اوراسے خیرکے راستے پرگامزن کرتی ہے جیسا کہ اقبالؒ نے فرمایا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
ریاستوں کاکردارافرادکے کردارسے بنتا ہے۔ لہٰذاپاکستان کے پالیسی سازوں، سفارتکاروں، اور دانشوروں کواقبال کی فکرکوعملی جامہ پہناناہوگا۔امن کے قیام کے لئے صرف ریاستی سطح پر اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ فکری وتہذیبی سطح پربھی کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔پاکستان اس حوالے سے ایک منفردمقام رکھتا ہے۔ اس کی تہذیب،اس کی زبان ،اس کاادبی ورثہ سب امن،محبت اوررواداری کاپیغام دیتے ہیں۔اقبالؒ کی شاعری خودایک سفارتی قوت ہے۔ان کے اشعاردلوں کونرم کرتے ہیں،ذہنوں کوروشن کرتے ہیں اورانسان کواس کی اصل پہچان دلاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں ’’ہارڈ پاور‘‘یعنی فوجی طاقت کی بجائے ’’سافٹ پاور‘‘یعنی سفارت،ثقافت،اور نظریہ زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے ۔ اگر پاکستان اقبالؒ کے فلسفہ کواپنی خارجہ پالیسی کاحصہ بنالے اوراس ادبی وفکری ورثے کواپنی سافٹ پاورکے طورپراستعمال کرے تووہ دنیامیں نہ صرف ایک مثبت تاثر قائم کرسکتاہے بلکہ ایک امن کے سفیر کے طورپرابھرسکتاہے۔
امریکااورایران کے درمیان مصالحت کے لئے پاکستان درج ذیل اقدامات کرسکتاہے:
غیرجانبدارثالثی کی پیشکش،دونوں ممالک کے درمیان خفیہ مذاکرات کی میزبانی،مشترکہ اقتصادی منصوبوں کی تجویز،علاقائی امن کانفرنس کا انعقاد۔
اس حوالے سے پاکستان کے تمام اقدامات اقبال کے تصورِانسانیت کی وحدت کے عین مطابق ہیں۔
دنیااس وقت ایک نازک دورسے گزررہی ہے۔ایک غلط فیصلہ،ایک غلط فہمی یاایک غیرذمہ دارانہ اقدام بڑے بحران کوجنم دے سکتا ہے۔ایسے وقت میں پاکستان کواقبال کے اس پیغام کواپنارہنمابناناچاہیے:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یقین،مسلسل عمل اورانسانیت سے محبت ہی وہ طاقتیں ہیں جودنیا کوتباہی سے بچاسکتی ہیں۔آج کی دنیا میں طاقت کی نوعیت بدل چکی ہے اب صرف عسکری قوت کافی نہیں بلکہ فکری، ثقافتی او سفارتی قوت بھی اہم ہوچکی ہے۔ پاکستان اگران تمام جہات میں توازن پیدا کرے تووہ ایک مؤثرعالمی کردارادا کرسکتاہے۔
اقبال ؒکی فکرمحض کتابوں تک محدودنہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔فکرِ اقبالؒ ہمارے لیے محض ایک ادبی ورثہ نہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی ہے ۔ اگرہم اس فکرکواپنی پالیسیوں ،اپنے اداروں، اوراپنی اجتماعی زندگی میں شامل کرلیں توہم نہ صرف اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں بلکہ دنیا کے لئے بھی ایک مثال بن سکتے ہیں۔اگر پاکستان ان اصولوں کواپنائے تونہ صرف وہ اپنے اندراستحکام لاسکتاہے بلکہ عالمی امن میں بھی ایک کلیدی کرداراداکرسکتاہے۔
دعاہے کہ اللہ تعالی پاکستان کوامن،عدل اور خیرکاعلمبرداربنائے،اللہ ہمیں اقبال ؒکے افکارکوسمجھنے اوران پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اوردنیاکے تمام ممالک کوتنازعات کی بجائے مکالمے،جنگ کی بجائے امن اورنفرت کی بجائے انسانیت کاراستہ اختیار کرنے کی توفیق عطافرمائے۔اس پرعمل کرنے ، اور اسے دنیاتک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے۔ اللہ پاکستان کوامن،عدل اورانسانیت کاعلمبردار بنائے۔
اقبال اکیڈمی لاہورمیں 14جولائی2026 کوسیمینارسے خطاب