Daily Mumtaz:
2026-06-03@05:41:06 GMT

ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح کتنی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح کتنی ہے؟

سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز کی ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس اسکیم مقبول اور محفوظ سرمایہ کاری کا انتخاب ہے۔

1966 میں شروع کی گئی یہ اسکیم خاص طور پر شہریوں کی مدد کے لیے بنائی گئی تاکہ پاکستان اور بیرون ملک دونوں اپنی بچت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاسکیں۔

ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس مختلف مالیات میں دستیاب ہیں بشمول 500، ایک ہزار، پانچ ہزار، دس ہزار، پچاس ہزار، ایک لاکھ، پانچ لاکھ اور دس لاکھ روپے شامل ہیں۔

سرٹیفکیٹس سے ادائیگی مشترکہ طور پر یا نامزد ہولڈرز میں سے کسی ایک کے ذریعہ وصول کی جاسکتی ہے۔

ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ کسی بھی نیشنل سیونگ سینٹر (این ایس سی)، شیڈول بینکوں کی مجاز شاخوں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے خریدے جا سکتے ہیں۔

قومی بچت بینک نے منافع کی شرح 11.

19 فیصد مقرر کی ہے۔ درج ذیل منافع ہیں جو ایک شخص 100,000 روپے کی سرمایہ کاری پر 10 سال کی پختگی تک کما سکتا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی کے مطابق منافع پر ٹیکس اور زکوٰۃ کی کٹوتی کی جاتی ہے۔ فائلرز کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس 15 فیصد جبکہ نان فیلڈرز کے لیے 35 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

Post Views: 3

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈیفنس سیونگ

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود