ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری، مختلف حادثات میں 6 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور : ملک کے مختلف حصوں میں مون سون کی موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث مختلف حادثات میں کم از کم 6 افراد جاں بحق جبکہ 25 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں، کئی علاقوں میں نظام زندگی متاثر ہوا، بجلی کی فراہمی معطل، سڑکیں زیر آب اور کچے مکانات کو نقصان پہنچا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ جانی نقصان رپورٹ ہوا، ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں بارش کے دوران کچے مکان کی چھت گرنے سے 2 کمسن بچیاں جاں بحق ہوگئیں، اسی طرح بہاولنگر میں بھی ایک اور حادثے میں 4 سالہ بچہ چھت گرنے کے باعث جاں بحق ہوا۔
بارشوں کے دوران مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 25 سے زائد بتائی جا رہی ہے، جنہیں مقامی اسپتالوں میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
لاہور میں شدید بارش کے باعث نشتر ٹاؤن میں سب سے زیادہ 45 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ دیگر علاقوں میں بھی بارش نے نظام زندگی متاثر کیا، متعدد فیڈرز ٹرپ کرنے کے باعث بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے جبکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہونے والی بارش سے اگرچہ موسم خوشگوار ہو گیا، لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی تعمیر شدہ عمارت سے بارش کے پانی کے ٹپکنے کی اطلاعات نے اربوں روپے کے پراجیکٹ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، شہریوں نے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع خصوصاً مردان، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی، جنوبی وزیرستان میں طوفانی بارش کے باعث ایک جامع مسجد کی چھت گر گئی جبکہ کئی گھروں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا، مقامی انتظامیہ نے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں آج سے 29 جون تک گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خصوصاً کچے مکانات اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد حفاظتی اقدامات کریں۔
ریسکیو ادارے، ضلعی انتظامیہ اور مقامی حکومتیں ہائی الرٹ پر ہیں جبکہ نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کے لیے اقدامات جاری ہیں، مون سون بارشوں کا موجودہ سلسلہ چند دنوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقوں میں بارش کے کے باعث
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔