اسلام آباد کے زون-5 میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سیلنگ آپریشن WhatsAppFacebookTwitter 0 28 June, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز )وفاقی وزیر داخلہ اینڈ اینٹی نارکوٹکس محسن نقوی کی ہدایت اور چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈی جی سول ڈیفنس محمد علی رندھاوا اور کی سربراہی پر اسلام آباد بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کے تحت اسلام آباد بھر میں غیرمجاز تعمیراتی سرگرمیوں کے خاتمے کیلئے سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ جنرل بلڈنگ اینڈ ہاسنگ کنٹرول (بی اینڈ ایچ سی) نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) کے زون-5 میں ایک بڑا سیلنگ آپریشن کیا۔ یہ آپریشن بی اینڈ ایچ سی نے انفورسمنٹ، آئی سی ٹی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون سے کیا۔

آپریشن کے دوران زون-5 میں واقع وسنہ پیلیس مارکی کو بلڈنگ پلانز کی غیر منظوری اور تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی پر سیل کر دیا گیا۔ جناح گارڈنز سوسائٹی (فیچز) کے توصیف کمرشل اور شاہین کمرشل بلاکس میں زیر تعمیر 14 غیرمنظور شدہ اور غیرقانونی کمرشل انفراسٹرکچر کو سیل کیا گیا۔ جاپان روڈ کے کنارے زیر تعمیر 2 اضافی عمارتوں کو متعلقہ بلڈنگ بائی لاز کی پاسداری نہ کرنے پر سیل کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں، جاپان روڈ کے قریب ہی خلاف ورزی کرنے والوں کو 3 اسٹاپ ورک اور ریگولرائزیشن نوٹسز بھی جاری کئے گئے۔ یہ کارروائیاں بلڈنگ پلانز جمع نہ کروانے، غیرمجاز کمرشل سرگرمیوں اور سی ڈی اے کی لازمی فیسز و جرمانوں کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے ضوابط کی خلاف ورزی پر عمل میں لائی گئیں۔

بی اینڈ ایچ سی کی ٹیموں نے آئی سی ٹی پولیس کے سیکورٹی کور اور مجسٹریٹ آئی سی ٹی کی قانونی نگرانی میں قانونی کارروائی کرتے ہوئے سرکاری سیلنگ اور انتباہی نوٹسز لگائے، نیز زیر تعمیر جگہوں کو محفوظ کر دیا۔ واضح رہے سی ڈی اے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہراتی رہے گی اور اس سلسلے میں شہریوں، بلڈرز اور ڈویلپرز سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ضروری منظوریوں کے بغیر تعمیراتی کام شروع کرنے سے گریز کریں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی جائیداد کی خریداری یا سرمایہ کاری سے قبل اس کی منظوری کی قانونی حیثیت کی تصدیق کر لیں۔ سی ڈی اے منصوبہ بند ترقی اور قانونی پاسداری کے مفاد میں آئی سی ٹی بھر میں ایسے ایکشنزجاریرکھے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمیر علی میں دہشتگردوں کے حملے میں 13 جوان شہید، جوابی کارروائی میں 14 خوارج ہلاک میر علی میں دہشتگردوں کے حملے میں 13 جوان شہید، جوابی کارروائی میں 14 خوارج ہلاک اسرائیل اور حماس کے پاس جنگ بندی کیلیے سنہری موقع ہے؛ قطر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ 30 ارب ڈالر کے جوہری معاہدے کی تردید کردی معرکہ حق بھارت کی یادداشت سے کبھی ختم نہیں ہوگا:فیلڈ مارشل وزیر اعظم نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کردی سانحہ سوات پر ڈی سی کے بجائے وزیر اعلی گنڈا پور کو معطل کیا جائے: عطا تارڑ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اسلام آباد

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے