اسلام آباد میں 1سال میں 1427ریسٹورنٹس پر 3کروڑ 30لاکھ روپے جرمانہ، رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
اسلام آباد میں 1سال میں 1427ریسٹورنٹس پر 3کروڑ 30لاکھ روپے جرمانہ، رپورٹ جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 29 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی دارالحکومت میں 1ہزار 427ریسٹورنٹس پر 3کروڑ 30 لاکھ کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
فوڈ اتھارٹی اسلام آباد نے سالانہ رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق مجموعی طور پر 13 ہزار 595 یونٹس کی انسپکشن کی گئی۔رپورٹ کے مطابق فوڈ اتھارٹی اسلام آباد نے مجموعی طور پر 1427 ریسٹورنٹس کو 3 کروڑ 30 لاکھ جرمانہ کیا۔
سالانہ رپورٹ کے مطابق مضرِ صحت خوراک کی تیاری اور فروخت پر 370 یونٹس سیل کیے گئے جبکہ 11 کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے 1 سال میں 2 ہزار 513 لائسنسز جاری کیے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی فوج کی غزہ میں بڑے فوجی آپریشن کی تیاری، شمالی علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری اسرائیلی فوج کی غزہ میں بڑے فوجی آپریشن کی تیاری، شمالی علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری پیپلز پارٹی کا وفاقی حکومت میں شمولیت کا امکان،اعلی عہدیداروں میں رابطے مخصوص نشستیں ہم سے لی گئیں، عدلیہ کا یہ اقدام سیاہ الفاظ میں لکھا جائے گا، عمر ایوب افغان مہاجرین کے پی او آر کارڈز کی مدت میں توسیع کی تجویز کابینہ کو بھیجنے کا فیصلہ ملک بھر میں آج سے 5جولائی تک شدید بارشیں متوقع، سیلاب اور اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری ایڈیشنل آئی جی مرزا فاران بیگ کی خدمات نیب کے سپرد، نوٹیفکیشن جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔