ڈیرن سیمی کو امپائر پر تنقید کرنا مہنگا پڑ گیا، بھاری جرمانہ عائد
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ویسٹ انڈیز کے ہیڈ کوچ ڈیرن سیمی کو امپائر پر تنقید کرنا مہنگا پڑ گیا، جس پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جرمانہ عائد کر دیا۔
آئی سی سی نے ڈیرن سیمی کو کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کی میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ کیا ہے، ساتھ ہی ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی ان کے ریکارڈ میں شامل کر دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ڈیرن سیمی نے آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز کوڈ آف کنڈکٹ کی لیول ون خلاف ورزی کی، انہوں نے پلیئرز اینڈ اسپورٹس اسٹاف کے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 7.
آئی سی سی کے مطابق ڈیرن سیمی نے پریس کانفرنس میں ایک امپائر کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، ڈیرن سیمی نے اپنی غلطی تسلیم بھی کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈیرن سیمی
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔