data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر) پاکستان بزنس فورم نے فنانس بل 2025 میں ترمیم کے تحت درآمدی روئی اور کپاس کے دھاگے (یارن) پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کے حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ملکی ٹیکسٹائل سیکٹر میں طویل عرصے سے موجود بگاڑ کو دور کرنے کی سمت ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ خصوصی بات کرتے ہوئے پاکستان بزنس فورم جنوبی پنجاب کے چیئرمین ملک طلعت سہیل نے کہا کہ یہ اقدام ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (EFS) کے تحت موجود اہم عدم توازن کو ختم کرتا ہے اور حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ٹیکسٹائل ویلیو چین میں مساوات کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ اْن کا کہنا تھا، “یہ اصلاح مقامی صنعت کی حمایت میں حکومت کے پختہ عزم کا حوصلہ افزا اشارہ ہے۔ تاہم، فورم نے مطالبہ کیا کہ مقامی روئی کے کاشتکاروں اور سپنرز کو بھی ریلیف دیا جائے۔ سہیل نے نشاندہی کی کہ اگرچہ درآمدی روئی پر اب ٹیکس لاگو ہے، لیکن مقامی روئی اور یارن بدستور سیلز ٹیکس کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، جو بالآخر کسانوں پر منتقل ہو جاتا ہے۔ “مقامی سپنرز اب بھی جی ایس ٹی کے تابع ہیں، جسے وہ کسانوں سے وصول کرتے ہیں اور یوں انہیں ایک طرح سے ود ہولڈنگ ایجنٹ بنا دیا گیا ہے۔ یہ ایک غیر منصفانہ صورتحال ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے،” انہوں نے کہا پی بی ایف نے روئی کی پیداوار سے حاصل ہونے والی ضمنی مصنوعات—روئی کے بیج اور بنولہ کھل—پر سیلز ٹیکس کے خاتمے کا مطالبہ بھی دہرایا، جو کہ مویشیوں کے شعبے کے لیے اہم خام مال ہیں۔ فورم نے واضح کیا کہ بڑے روئی پیدا کرنے والے ممالک میں یہ اشیاء ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔ سہیل نے خبردار کیا کہ “ان اشیاء پر 18 فیصد جی ایس ٹی کا نفاذ کسانوں کو نفع بخش حد سے نیچے لے آتا ہے اور انہیں زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف پانی کے وسائل پر دباؤ بڑھتا ہے بلکہ روئی کی پیداوار کی کم رپورٹنگ کا رجحان بھی فروغ پاتا ہے، جو قومی محصولات پر منفی اثر ڈالتا ہے۔”پی بی ایف نے حکومت کی صنعت سے مشاورت کے عمل کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو پوری ویلیو چین کو مستحکم بنائے۔ فورم نے کہا، “جزوی اصلاحات کافی نہیں ہیں۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ عالمی تجارتی انضمام، مقامی صنعت، روزگار یا سرمایہ کاری کی قیمت پر نہ ہو۔”اسی طرح شق 37AA پر بھی صدر پاکستان بزنس فورم خواجہ محبوب نے کھل کر پوزیشن لی جس پر ایک کمیٹی بنا دی گء گرفتاری کا سنگل اختیار ختم کروایا۔ فورم نے حالیہ معاشی اصلاحات کی بھی تعریف کی، جن میں بجلی کے نرخوں میں کمی—16–17 سینٹ فی یونٹ سے کم ہو کر تقریباً 11 سینٹ تک آنا—اور شرح سود میں 22 فیصد سے 11 فیصد تک کمی شامل ہے۔ سہیل طلعت نے کہا ان اصلاحات نے نہ صرف مہنگائی کو مستحکم کیا ہے بلکہ کاروباری طبقے کا اعتماد بھی بحال کیا ہے۔” پی بی ایف نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے تحت زیر التوا ٹیکس سے متعلق معاملات کو جلد از جلد حل کریں اور صنعتی ترقی کے لیے ہدفی اصلاحات کے عمل کو جاری رکھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فورم نے نے کہا

پڑھیں:

وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم