ورلڈ ہیریٹیج سائٹ ٹیکسلا ، قلعہ روہتاس،ہرن مینار اور ہڑپہ کے تحفظ بحالی کے لیے اربوں کے فنڈز منظور
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
سٹی 42: صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں 13 ارب 47 کروڑ کے فنڈز منظور ہوئے
فنڈز کی منظوری صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے 18 ویں اجلاس میں دی گئی،اجلاس کی صدارت چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ ڈاکٹر نعیم رؤف نے کی
ورلڈ ہیریٹیج سائٹ ٹیکسلا کے تحفظ بحالی کیلئے 4 ارب 19 کروڑ کے فنڈز کی منظوری دی گئی ، قلعہ روہتاس کے تحفظ بحالی بہتری اور انتظام کیلئے 2 ارب 83 کروڑ کے فنڈز کی منظوری دی گئی ، ہرن مینار شیخوپورہ کے تحفظ بحالی بہتری اور انتظام کیلئے 1 ارب 82 کروڑ کے فنڈز منظور کیے
ہڑپہ ساہیوال کے تحفظ بحالی بہتری اور انتظام کیلئے 1 ارب 72 کروڑ کےفنڈز کی منظوری دی گئی ، بابو صابو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سکیم کو منظوری کے بعد سی ڈی ڈبلیو پی کو بھیجنے کی منظوری دے دی گئی ، بزنس انکیوبیشن سینٹرز فیز ون کے قیام کے لیے پوزیشن پیپر کی منظوری دی گئی ۔
اجلاس میں سیکرٹری پی این ڈی بورڈ رفاقت علی اورممبران پی این ڈی بورڈ اور متعلقہ سیکٹرز کے افسران بھی اجلاس میں شریک تھے
جشن آزادی کی خوشیاں، برائلر گوسشت کی نئی قیمت کیا؟
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کی منظوری دی گئی فنڈز کی منظوری کے تحفظ بحالی کروڑ کے فنڈز اجلاس میں
پڑھیں:
سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
کراچی: سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت صوبائی حکومت نے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کابینہ نے “سندھ بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اصلاحاتی پیکیج 2026” کی منظوری دے دی، جس کے بعد صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں جدید ڈیجیٹل امتحانی نظام مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد امتحانات میں شفافیت بڑھانا، نتائج کی تیاری کو تیز اور درست بنانا اور طلبہ کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔
امتحانی نظام میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟
اصلاحاتی پیکیج کے تحت سندھ کے ساتوں تعلیمی بورڈز میں ایگزامینیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (EMIS) نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امتحانات میں او ایم آر (OMR) سسٹم، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے نتائج کی تیاری کے دوران انسانی غلطیوں میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ مارکنگ اور رزلٹ کا عمل پہلے سے زیادہ شفاف اور تیز ہوگا۔
ڈیجیٹل اسناد بھی جاری کی جائیں گی
سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت طلبہ کو مستقبل میں کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل اسناد جاری کی جائیں گی۔ ان اسناد کی آن لائن تصدیق بھی ممکن ہوگی، جس سے جعلی سرٹیفکیٹس کی روک تھام اور تصدیقی عمل مزید آسان بنایا جا سکے گا۔
24 ماہ میں اصلاحات مکمل کرنے کا ہدف
سندھ کابینہ نے ان اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے 24 ماہ پر مشتمل منصوبے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ کو ضروری قانون سازی کی تجاویز جلد تیار کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ نئے نظام کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
بورڈ چیئرمینز کی تقرری سے متعلق بھی اہم فیصلہ
کابینہ نے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کی تقرری کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 55 سال سے بڑھا کر 63 سال کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، تاکہ زیادہ تجربہ رکھنے والے افراد کو قیادت کا موقع مل سکے۔
اس کے علاوہ میٹرک بورڈ کراچی اور انٹرمیڈیٹ بورڈ حیدرآباد کے چیئرمینز کی خالی آسامیوں کو دوبارہ مشتہر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم پہلے سے درخواست جمع کرانے والے امیدواروں کی درخواستیں برقرار رہیں گی اور انہیں دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔