خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسلادھار بارش کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق صوبے کے بالائی اضلاع ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، چترال (اپر و لوئر)، دیر (اپر و لوئر)، سوات، بونیر، ملاکنڈ، بٹگرام، شانگلہ، کوہستان (اپر و لوئر)، کولائی پالس کوہستان، تورغر، پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ اور چارسدہ میں موسالادھار بارشوں کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے الرٹ جاری کردیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں 5 سے 11 جولائی تک موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق صوبے کے بالائی اضلاع ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، چترال (اپر و لوئر)، دیر (اپر و لوئر)، سوات، بونیر، ملاکنڈ، بٹگرام، شانگلہ، کوہستان (اپر و لوئر)، کولائی پالس کوہستان، تورغر، پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ اور چارسدہ میں موسالادھار بارشوں کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ صوبے کے دیگر اضلاع باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، کوہاٹ، ہنگو میں ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے اور صوبے کے میدانی علاقوں بنوں، کرک، لکی مروت، ڈی آئی خان، ٹانک، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بھی شدید بارشوں کا امکان ہے۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ تیز اور شدید بارش کے باعث پشاور، مردان، نوشہرہ، کوہاٹ، ڈی آئی خان کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے، صوبے کے بالائی علاقوں میں دریائے چترال، دریائے سوات، دریائے پنجکوڑہ اور دریائے کابل میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ اسی طرح بارش کے باعث ایبٹ آباد، بٹگرام، بونیر، دیر، چترال، شانگلہ، کوہستان، ملاکنڈ اور مانسہرہ میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ تاہم پی ڈی ایم اے نے تمام اضلاع کو ہنگامی اقدامات کے لیے مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ حساس علاقوں کی مقامی آبادی کو فوری طور پر الرٹ کیا جائے، اس دوران ایمرجنسی سروسز اور ریسکیو اہلکار الرٹ کرتے ہوئے ہنگامی سامان اور دستیاب وسائل پہلے سے موجود رکھے جائیں۔ پی ڈی ایم اے نے سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے نے اپر و لوئر کا خدشہ ہے صوبے کے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔