26 اپوزیشن ارکان پنجاب اسمبلی کے خلاف نااہلی ریفرنس دائر
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
لاہور:
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپوزیشن جماعت سنی اتحاد کونسل کے 26 ارکان کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کردیا، ریفرنس میں 26اراکین پنجاب اسمبلی کے نام اور حلقوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
ریفرنس میں الیکشن کمیشن سے اراکین کی نااہلی کی استدعا کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکرپنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کی اور ریفرنس کے حوالے سے مزید مشاورت کی۔
یاد رہے کہ 27 جون کو اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی تقریر کے دوران ہلڑ بازی شور شرابہ، توڑ پھوڑ اور وزیراعلیٰ مریم نوازکے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا تھا۔28 جون کو اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپوزیشن کے 26 ارکان کی رکنیت معطل کرتے ہوئے ان کی نااہلی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے 26 اراکین کے خلاف ریفرنس کی دستاویزات میں سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سابق وزیر اعلیٰ میاں حمزہ شہباز کے خلاف فیصلے کی کاپی بھی شامل کی گئی ہے،ریفرنس میں اپوزیشن ارکان کی ہنگامہ آرائی کے متعلق تمام ثبوت شامل کئے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے بتایا کہ 26 ارکان کے خلاف نااہلی ریفرنس دائر ہوچکا ہے، آج الیکشن کمیشن حکام سے کچھ اہم قانونی معاملات پر رائے لینا تھی۔جو لوگ گالیاں دیں گے، توڑ پھوڑ اور ہلڑ بازی کریں گے وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں، پی ٹی آئی والوں نے فارم 47 کا تماشہ لگایا ہوا ہے۔
آئین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی، جو ارکان آئین کی پاسداری نہیں کرسکتے ان کو ہاؤس کا حصہ رہنے کاکوئی حق نہیں۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 63 میں عوامی نمائندوں کی اہلیت اور نااہلی کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔آئین کی پاسداری ہر رکن اسمبلی کا مقدس فریضہ ہے جس کا وہ حلف اٹھاتے وقت باقاعدہ اقرار کرتا ہے۔
یہ حلف کسی بھی آئینی شق یا آرٹیکل سے زیادہ اہم اور مقدس حیثیت رکھتا ہے۔ حلف اٹھانے کے بعد ہر رکن اسمبلی آئین کے تابع اور تمام قوانین کا پابند ہوتا ہیان کا مزید کہنا تھا کہ آئین کے ساتھ وفاداری نہ صرف ایک اخلاقی و آئینی ذمہ داری ہے بلکہ اس کی خلاف ورزی آئین سے متعلقہ شقوں کو از خود لاگو کر دیتی ہے۔
کسی بھی اور شق یا آرٹیکل سے بڑھ کر اہمیت اس عہد کی ہے جو ایک منتخب نمائندہ اسمبلی میں داخل ہوتے وقت کرتا ہے، سمبلی کے نظم و ضبط، آئینی روایات، اور جمہوری اقدار کو قائم رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اسپیکر نے واضح کیا کہ ایوان میں کسی بھی ایسے عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو آئین، حلف یا پارلیمانی روایات کیخلاف ہو۔ ایوان کا تقدس برقرار رکھنا اور آئین کی بالادستی قائم رکھنا ہی ایک جمہوری پاکستان کی ضمانت ہے۔ ایوان میں بدتمیزی، گالم گلوچ، اور مارپیٹ جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کی دشمنی ہے۔ایوان کا تقدس پامال کرنیوالوں کو معاف نہیں کیا جائے گا، اب یہ معاملہ الیکشن کمیشن کی کورٹ میں ہے، جہاں نااہلی کے فیصلے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن پنجاب اسمبلی ا ئین کی کے خلاف
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں