شمالی عراق میں میتھین کے اخراج سے5 ترک فوجی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
استنبول(صباح نیوز)شمالی عراق میں میتھین کے اخراج سے پانچ ترک فوجی جاں بحق ہوگئے ،واقعہ ایک فوجی کی باقیات تلاش کرنے کے دوران پیش آیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اتوار کے روز شمالی عراق میں غاروں میں تلاشی کی کارروائی کے دوران میتھین گیس کے اخراج سے پانچ ترک فوجی جاں بحق ہو گئے، وزارتِ دفاع نے مزید واضح کیا کہ یہ واقعہ ایک ایسے حساس وقت میں پیش آیا ہے جب ترکیہ اور کردوں کے درمیان دیرینہ تنازعہ ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ قبل ازیں پی کے کے عسکریت پسند گروپ عشروں سے جاری اپنی مسلح جدوجہد ختم کرنے پر راضی ہو گیا تھا۔اس تنازع میں 40000 سے زیادہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں جو 1984 میں شروع ہوا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک فوجی کی باقیات کی تلاش جاری تھی۔ اسے کرد عسکریت پسندوں نے مئی 2022 میں علاقے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کی لاش کبھی برآمد نہیں ہو سکی تھی۔اس وقت ترکیہ آپریشن Claw Lock انجام دے رہا تھا اور اس کے فوجی سرحد کے ساتھ غاروں میں چھپے کردستان ورکرز پارٹی کے کرد عسکریت پسندوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ایک بیان میں کہا گیا، ایک غار میں تلاشی کی کارروائی کے دوران ہمارے 19 اہلکاروں کو میتھین گیس کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ غار پہلے ایک ہسپتال کے طور پر استعمال ہونے کے لیے مشہور تھا۔فوجیوں کو فوری طور پر علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا لیکن ان میں سے پانچ کی موت واقع ہو گئی۔ہلاکتوں کی خبر اس وقت سامنے آئی جب کرد نواز ڈی ای ایم پارٹی کا ایک وفد ترک حکومت سے جاری مذاکرات کے دوران کردستان ورکز پارٹی کے جیل میں قید بانی عبداللہ اوکلان سے ملاقات کر رہا تھا۔وفد نے کہا، “ملاقات کے دوران ہمیں بتایا گیا کہ کردستان کی علاقائی حکومت کے علاقے میں میتھین گیس کے زہر کی وجہ سے فوجیوں کی جانیں ضائع ہو گئیں۔”مزید کہا گیا، “اس واقعے سے اوکلان اور ہم سب کو گہرا صدمہ ہوا ہے۔ ہم اللہ سے ہلاک شدہ لوگوں کی مغفرت کی دعا اور ان کے اہلِ خانہ اور رشتہ داروں سے تعزیت کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔