جسٹس جنید غفار نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
تصویر، جیو نیوز اسکرین گریب
جسٹس جنید غفار نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
گورنر ہاؤس سندھ میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے حلف لیا۔ وہ 13 ستمبر 2025 کو ریٹائر ہوں گے۔
جسٹس جنید غفار فروری 2025 سے قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
جوڈیشل کمیشن نے جسٹس جنید غفار کی بطور مستقل چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ تقرری کی منظوری دی۔
جسٹس محمد جنید غفار 14 ستمبر 1963 کو پیدا ہوئے، انہوں نے 1990 میں وکالت کی ڈگری حاصل کی اور 2013 میں سندھ ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج تعینات ہوئے۔
جسٹس محمد جنید غفار 2015 میں سندھ ہائیکورٹ میں بطور مستقل جج تعینات ہوئے۔
تقریبِ حلف برداری میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن، وکلا، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی بھی شریک ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس جنید غفار
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔