پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، کے ایس ای 100 انڈیکس 134,000 کی سطح عبور کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز کاروبار کے آغاز میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا مگر بعد میں سرمایہ کاروں نے ایک بار پھر خریداری کا رجحان اپنایا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دورانِ کاروبار 134,000 کی سطح عبور کر گیا۔
دوپہر 2 بج کر 10 منٹ پر انڈیکس 743.53 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 134,113.
میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اہم اصلاحات پر عملدرآمد کیا گیا تو موجودہ تیزی کا رجحان مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا نئے مالی سال کا شاندار آغاز، کے ایس ای 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر
ان اصلاحات میں مالی نظم و ضبط، ٹیکس نیٹ میں توسیع، سرکاری اداروں کی نجکاری اور سبسڈی کا مرحلہ وار خاتمہ شامل ہیں، اگرچہ یہ اقدامات مشکل ہیں، لیکن طویل مدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
کاروبار میں گاڑیوں کی اسمبلنگ، کمرشل بینکنگ، سیمنٹ، آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور بجلی کی پیداوار جیسے اہم شعبوں میں خریداری دیکھنے میں آئی، انڈیکس میں نمایاں حصہ رکھنے والی کمپنیوں جیسے حبکو، ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل کے حصص کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
اس سے ایک دن پہلے، یعنی پیر کو بھی مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی دیکھی گئی، جس کی وجہ مضبوط کارپوریٹ نتائج کی توقعات، تجارتی خدشات میں کمی، اور بہتر معاشی اشاریے تھے۔ پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس 1,421 پوائنٹس یا 1.08 فیصد اضافے کے ساتھ 133,370 کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا نئے مالی سال کا شاندار آغاز، کے ایس ای 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر
بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کے اعلان پر نسبتاً پُرسکون ردِ عمل دیا تھا، اس دوران ڈالر کی قدر میں استحکام رہا جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔
صدر ٹرمپ نے جاپان، جنوبی کوریا سمیت 14 ممالک کو خطوط بھیج کر درآمدات پر محصولات میں اضافے کا اعلان کیا، لیکن اس پر عمل درآمد 1 اگست تک مؤخر کر دیا، جاپان کے نکئی انڈیکس نے ابتدا میں مندی دکھائی مگر ٹرمپ کی جانب سے تاریخ کو ’مضبوط مگر مکمل حتمی نہیں‘ کہنے کے بعد انڈیکس میں بہتری آئی۔
اپریل میں ٹرمپ نے شراکت دار ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لیے محصولات کو عارضی طور پر 10 فیصد پر محدود کیا تھا، جس کی مدت 9 جولائی کو ختم ہو رہی ہے، فی الحال صرف برطانیہ اور ویتنام کے ساتھ معاہدے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ: وجہ کیا ہے اور پاکستانی معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟
جون میں امریکا اور چین نے محصولات سے متعلق ایک بنیادی سمجھوتے پر اتفاق کیا، جس سے ان کے درمیان تجارتی جنگ میں وقتی طور پر ٹھہراؤ آیا ہے۔
اب جاپان اور جنوبی کوریا پر یہ محصولات 1 اگست سے بڑھ کر 25 فیصد ہو جائیں گے، جاپانی وزیر اعظم شیگیری اشیبا نے ان محصولات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایم ایس سی آئی کے مطابق جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 0.2 فیصد بڑھا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 0.4 فیصد اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1.5 فیصد بلند ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس آئل مارکیٹنگ کمپنیز آئی ایم ایف ایشیا پیسیفک بجلی کی پیداوار بینچ مارک پائیدار ترقی پاکستان اسٹاک ایکسچینج ٹیکس نیٹ جاپان سبسڈی سیمنٹ کمرشل بینکنگ معاشی استحکام نجکاری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس آئل مارکیٹنگ کمپنیز ا ئی ایم ایف ایشیا پیسیفک بجلی کی پیداوار پائیدار ترقی پاکستان اسٹاک ایکسچینج ٹیکس نیٹ جاپان سبسڈی معاشی استحکام نجکاری پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ایس ای 100 انڈیکس کے ساتھ
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔