ٹیرف کا اطلاق یکم اگست سے ہوگا، ٹرمپ کا نیا یوٹرن
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ محصولات کا اطلاق یکم اگست سے ہوگا تاہم اب بھی بے یقینی کی صورت حال برقرار ہے۔عالمی خبر
رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 9 جولائی کو ختم ہونے والی 90 روزہ معطلی کے بعد نئی محصولات کے بارے میں تجارتی شراکت داروں کو خط بھیجنا شروع کردیں گے۔صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے 12 یا 15 خطوط بھیج سکتے ہیں اور ساتھ ہی بعض معاملات میں معاہدے بھی کیے جا چکے ہیں۔صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا کہ زیادہ تر ممالک یا تو خط کے ذریعے یا کسی ڈیل کے ذریعے معاملات 9 جولائی تک طے کر لیں گے تاہم جب صدر سے پوچھا گیا کہ آیا محصولات اس ہفتے ہی نافذ ہوں گی یا یکم اگست سے، تو انہوں نے اپنے بیان کو بار بار دہرایا اور واضح نہیں کیا۔اس کے بعد امریکی کامرس سیکرٹری ہاورڈ لیٹنک نے مداخلت کی اور بتایا کہ نہیں محصولات یکم اگست سے نافذ ہوں گی، صدر ابھی شرحیں اور معاہدے طے کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ Truth Social پر بھی اعلان کیا کہ پیر دوپہر سے “TARIFF Letters یا Deals” بھیجنا شروع ہو جائیں گے۔انھوں نے اپنی پوسٹ میں یہ نئی دھمکی بھی دی کہ اگر کوئی ملک برکس ممالک (برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقا) کے ”امریکا مخالف“ مو¿قف کا حصہ بنتا ہے تو اس پر اضافی 10 فیصد محصول بھی عائد کیا جائے گا۔
ٹرمپ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یکم اگست سے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔