data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ حکومت نے مخدوش عمارتوں کے تمام مکینوں کو رہائش کی فراہمی ناممکن قرار دے دی۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ صوبے میں 740 عمارتیں مخدوش ہیں جن میں سے 51 انتہائی خطرناک ہیں، انتہائی خطرناک عمارتوں میں سے 11 خالی کرالی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے لیے ممکن نہیں کہ مخدوش عمارتوں کے تمام مکینوں کو رہائش فراہم کرے، حکومت دستیاب وسائل میں کچھ خاندانوں کو عارضی متبادل رہائش دے سکتی ہے، ماضی میں سندھ حکومت
نے سیلاب متاثرین اور کووڈ مریضوں کو عارضی شیلٹرز دیے تھے۔ شرجیل میمن نے مزید کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اٹھار ٹی نے لیاری بغدادی میں گرنے والی عمارت کے اطراف موجود ناقابل رہائش عمارتوں کو گرانا شروع کردیا ہے۔ دوسری جانب لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کمشنرکراچی حسن نقوی کو 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے جب کہ کمیٹی میں اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، ڈپٹی ڈائریکٹر ایس بی سی اے سمیت دیگر افسران بھی شامل ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی عمارت کے گرنے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کریگی جب کہ کمیٹی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات بھی پیش کرے گی۔ تحقیقاتی کمیٹی 48 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کرے گی۔ واضح رہے کہ کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں گزشتہ ہفتے ایک 5 منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں27 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

.

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سندھ حکومت کی نظر صرف ICCBSپر نہیں ٗ جامعہ کراچی کی پوری زمین پر ہے ٗ منعم ظفر

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251128-01-25
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی نظریں صرف کراچی یونیورسٹی کے ادارے ICCBSپر نہیں بلکہ کراچی یونیورسٹی کی سیکڑوں ایکڑ زمین پر ہے ،جماعت اسلامی جامعہ کراچی کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ ہے ،ہم اساتذہ کے تمام مطالبات کی مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں ، ICCBSکے حوالے سے مجوزہ قانون کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر غفران کی قیادت میں آئے ہوئے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفد میں انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے سیکرٹری معروف بن رؤف ، وائس پریذیڈنٹ ڈاکٹر ندا،جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر طہٰ بن نیاز ،ایگزیکٹیو کونسل ممبرز پروفیسر ڈاکٹر انتخاب الفت ، عاطف اسلم راؤاور سینئر اکاؤنٹ آفیسر ایچ ای جے محمد علی کاظمی بھی شامل تھے ۔ ملاقات میں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق،پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کے شعبہ تعلیم کے انچارج ابن الحسن ہاشمی اور انجینئر صابر احمد بھی موجود تھے۔غفران نے جامعہ کراچی اور اس سے وابستہ تحقیقی اداروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے آگاہ کیااوربتایا کہ ICCBS کے حوالے سے مجوزہ قانون ایک ایسے طریقہ کار کے ذریعے لایا جا رہا ہے جس میں نہ جامعہ کراچی کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی متعلقہ فیکلٹی، طلبہ یا ملازمین سے کوئی مشاورت کی گئی۔محض 1فیصد ڈونیشن دینے والے چند افراد کو ادارے کے بنیادی فیصلوں پر غیر معمولی اختیار دینا نہ صرف تعلیمی خودمختاری کے منافی ہے بلکہ اس سے سیکڑوں طلبہ، محققین اور ملازمین کے مستقبل پر براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے۔جامعہ کراچی 1700ایکڑ پر مشتمل جو کہ اب صرف 12500ایکڑ تک محدود ہوکر رہ گئی اور اب سندھ حکومت کی نظریں اس پر بھی قبضہ کرنے کی ہیں ۔ICCBSریسرچ کا ادار ہ ہے ، اگر یہ ادارہ ختم کردیں گے تو کراچی یونیورسٹی ہی ختم ہوجائے گی ۔انہوں نے بتایا کہ جامعہ کراچی کی زمینوں پر جاری قبضے کے حوالے سے قبضہ مافیا کی سرگرمیاں ایک عرصے سے ادارے کے قیمتی اثاثوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ عدالتوں میں جاری مقدمات اور مختلف فورمز پر دائر اپیلوں کے باوجود زمین پر قبضے کی مسلسل کوششیں تشویشناک ہیں۔انہوں نے کہاکہ ICCBS کا موجودہ بل کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔اساتذہ، طلبہ اور ملازمین کے بنیادی حقوق، ادارہ جاتی خودمختاری اور شفاف طرزِ حکمرانی کو متاثر کرنے والا ہر فیصلہ مسترد کیا جائے گا۔جامعہ کی زمینوں پر قبضے کی ہر کوشش کا قانونی و ادارہ جاتی سطح پر بھرپور مقابلہ ہوگا۔ انجمن اساتذہ کی نئی تشکیل شدہ Land Vigilance Committee اس حوالے سے مسلسل مانیٹرنگ اور رپورٹنگ جاری رکھے گی۔ICCBSکے حوالے سے مجوزہ قانون کا سب سے زیادہ نقصان جامعہ کراچی کو پہنچنے کا خدشہ ہے لہذا ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بھی چیز تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور طلبہ، فیکلٹی واسٹاف کے مستقبل کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے سوچی جائے۔ہمارامطالبہ ہے کہ مجوزہ بل پر اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ تکنیکی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ICCBS کے انتظامی و قانونی ڈھانچے کو جامعہ کراچی کے کوڈ کی بنیاد پر چلایا جائے۔ جامعہ کی زمینوں کے ریکارڈ کی جدید ڈیجیٹل میپنگ اور قانونی فائر وال کا نفاذ ہو۔قبضہ مافیا کے خلاف مشترکہ آپریشن اور مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے خصوصی میکانزم بنایا جائے۔انجمن اساتذہ جامعہ کراچی یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ ہم ادارے کے مفاد، اساتذہ کے حقوق اور طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اپنا آئینی، اخلاقی اور ادارہ جاتی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان سے ادارہ نورحق میں انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر غفران کی قیادت میں وفد ملاقات کررہا ہے

سیف اللہ

متعلقہ مضامین

  • کراچی :ناظم آباد بلاک تھری میں سرکاری اسکول کی دیوار گر گئی
  • حیدرآباد، UC.32میں ترقیاتی کام مکمل ، مکینوں میں خوشی کی لہر
  • ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ، نوجوانوں کیلئے اہم خبر
  • ای سی او: دہشتگردی ترقی میں رکاوٹ، علاقائی رابطوں کے فروغ کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اسحاق ڈار
  • پاکستانیوں کو امارات کے ویزے نہ ملنے سے متعلق حکومت کی وضاحت سامنے آگئی
  • وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور اہم شرط پوری کر دی
  • طلبہ کے مخصوص رنگ کے سوئٹر لازمی شرط ختم کی جائے، والدین ایکشن کمیٹی
  • سندھ حکومت کی نظر صرف ICCBSپر نہیں ٗ جامعہ کراچی کی پوری زمین پر ہے ٗ منعم ظفر
  • حکومت عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے لیکن آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے ممکن نہیں، رانا ثنااللہ
  • سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں دو سال بعد بھی وائس چانسلر کا تقررناہوسکا