اسلام آباد(خبرنگارخصوصی) پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہاہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی اور آزمودہ تعلقات ہیں جن کی جڑیں باہمی اعتماد، تزویراتی ہم آہنگی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ خواہشات پر مبنی ہیں۔گزشتہ روز آئی ایس پی آرسے جاری کردہ بیان کے مطابق چین کی پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل وانگ گینگ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے طریقوں بالخصوص فضائی طاقت اور آپریشنل ہم آہنگی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ائیر چیف نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل وانگ گینگ کو پی اے ایف کے جدید فورس ڈھانچے، سٹریٹجک اقدامات اور اس کے آپریشنل نظر یہ کے ارتقاء کے بارے میں ایک جامع بریفنگ دی گئی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ نے دونوں فضائی افواج کے درمیان دوستی کے مضبوط رشتے کا بھی اعادہ کیا اور تربیت، ٹیکنالوجی اور آپریشنل شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پاک فضائیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔جنرل وانگ گینگ نے آپریشنل تیاریوں کی اعلیٰ پیشہ واریت اور پاک فضائیہ کی جدید ترین صلاحیتوں کو سراہا۔ وہ پاک فضائیہ کے ملٹی ڈومین آپریشنز کے ہموار انضمام سے خاص طور پر متاثر ہوئے، انہوں نے اسے جدید فضائی جنگ کی پہچان قرار دیا اور پی ایل اے اے ایف کی ملٹی ڈومین آپریشنز میں پاک فضائیہ کے جنگی تجربے سے سیکھنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔پی اے ایف کی قیادت کی پیشہ ورانہ ذہانت اور تزویراتی دور اندیشی کو سراہتے ہوئے معزز مہمان نے بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران پاک فضائیہ کی مثالی کارکردگی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے ائیر چیف کی پرعزم قیادت میں پی اے ایف کے پائلٹس کی جانب سے دیئے گئے فیصلہ کن اور نپے تلے جواب کی تعریف کی اور اسے بلا اشتعال جارحیت کے مقابلے میں درستگی، نظم و ضبط اور جرات کے نصاب کی مثال قرار دیا۔یہ ملاقات پاکستان اور چین کے گہرے تعاون اور جدت پر مبنی تعاون کے ذریعے آزمودہ سٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے مشترکہ عزم کا ثبوت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاک فضائیہ کے اے ایف

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال