وزیراعظم سے نانگا پربت سر کرنے والی پہلی قطری خاتون کوہ پیماء شیخہ اسماء الثانی کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں قطری کوہ پیما شیخہ اسماء الثانی سے ملاقات میں ان کا خیرمقدم کیا اور انہیں حال ہی میں نانگا پربت کو کامیابی سے سر کرنے والی خلیج اور قطر کی پہلی خاتون کا اعزاز حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اس اہم سنگ میل کو حاصل کرنے کیلئے شیخہ عاصمہ کی غیر معمولی ہمت اور عزم کو سراہا۔ وزیرِ اعظم نے ایڈونچر اور کوہ پیمائی کے ذریعے دنیا بھر کی خواتین بالخصوص نوجوانوں کو با اختیار بنانے کی آگاہی کو فروغ دینے کے حوالے سے ان کی تعریف کی۔ پاکستان کے قدرتی حسن کی آگاہی کے لیے ان کی کامیابی اور عزم کے اعتراف میں، وزیر اعظم نے شیخہ اسماء الثانی کو پاکستان کی ماؤنٹینز اینڈ ٹورازم کے لیے باقاعدہ طور پر برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی چودہ بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ کا پاکستان میں ہونا، پاکستان کیلئے فخر کی بات ہے، جو اسے کوہ پیماؤں اور ایڈونچر کے متلاشیوں کے لیے ایک اہم مقام بناتا ہے۔ انہوں نے شیخہ عاصمہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کے شاندار پہاڑوں کا انتخاب کیا اور ان کے چیلنجز اور قدرتی خوبصورتی کی طرف بین الاقوامی توجہ دلانے میں قابل قدر کردار ادا کیا۔ انہوں نے پاکستانی کوہ پیماء پورٹرز اور گائیڈز کی اہم شراکت کا بھی ذکر کیا جو دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو ان کی مہمات میں مدد فراہم کرتے ہیں، اور کہا کہ ان کی مہارت اور لگن اس طرح کی غیر معمولی کامیابیوں کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ پاکستان اور قطر کے درمیان گہرے اور دوستانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شیخہ اسماء کی کامیابی دونوں ممالک کے درمیان جرات، مثبت عزائم اور استقامت کی مشترکہ اقدار کی عکاس ہے۔ انہوں نے ایڈونچر ٹورازم، کھیلوں اور نوجوانوں کی شمولیت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے شیخہ اسماء آلثانی کے مساوی مواقع کی تخلیق میں جینڈر مساوات کمیشن کی نائب صدر کے طور پر فعال کردار کی بھی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے بین الاقوامی کوہ پیماؤں کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے جاری حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے انہیں تمام ضروری سہولیات، حفاظت اور مہمان نوازی کا یقین دلایا۔ دنیا کی 8,000 میٹر کی چوٹیوں میں سے تمام چودہ چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے، وزیراعظم نے شیخہ اسماء کو مستقبل کی کوہ پیمائی کے لیے پاکستان واپس آنے اور پاکستان کے متنوع اور دلکش مناظر کو مزید دریافت کرنے کے لیے دعوت دی۔ شیخہ اسماء الثانی نے اپنے دوروں کے دوران ان کی پرتپاک مہمان نوازی پر وزیراعظم اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ نانگا پربت کی اپنی حالیہ کوہ پیمائی کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے مقامی پورٹرز اور گائیڈز کے تعاون کی تعریف کی اور اس شاندار پہاڑ کی خوبصورتی کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے K2، جسے ماضی میں وہ سر کر چکی ہیں، اپنی سر کی گئیں تمام چوٹیوں میں بہترین پہاڑ قرار دیا اور کہا کہ اس کی خوبصورتی بے مثال ہے۔ وزیر اعظم نے شیخہ اسماء الثانی کی مستقبل کی کوششوں اور عالمی سطح پر نوجوانوں بالخصوص خواتین کو عزم کے ساتھ اپنے اہداف کے حصول کی ترغیب دینے کے لیے ان کی جاری کوششوں کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔