Daily Ausaf:
2026-07-24@12:17:39 GMT

خاموش لابی۔۔۔۔۔بلندسازشیں

اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
کینیڈی کااسرائیلی نیوکلیئرپروگرام کی بین الاقوامی نگرانی پرزوردینامحض ایک سفارتی معاملہ نہیں تھابلکہ اس دورکی سردجنگ کی سیاسی وتزویراتی حقیقت کاحصہ تھا۔1963ء میں جان ایف کینیڈی نے اسرائیل کوخطوط لکھے،جن میں دیموناتنصیبات کامعائنہ کرنے کا سخت مطالبہ کیا۔ اسرائیلی قیادت نے امریکی دباؤکومستردکرتے ہوئے اس معاملے کو’’قومی بقا‘‘کاحصہ قراردیا۔
بعض محققین کاخیال ہے کہ اسرائیلی لابی اور کینیڈی انتظامیہ کاتناؤمحض پالیسی کامعاملہ نہیں، بلکہ اس تاریخی تناؤنے امریکی سیاسی کلچراورخارجہ پالیسی پردوررس اثرات ڈالے۔
نیشنل سیکیورٹی آرکائیو2006ء میں ’’ اسرائیل حدعبور کرتا ہے‘‘میں ایونرکوہن اورولیم برکے مطابق کس طرح جان ایف کینیڈی کے ساتھ تناؤاورمبہم حالات میں قتل،لابی اورخارجی پالیسی کی یوں سیاہ گٹھ جوڑکی ایسی یادگارمثال ہمارے سامنے ہے کہ آج تک کینیڈی کی موت ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
2018میں امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی،اورگولان کی پہاڑیوں پراسرائیلی حاکمیت کی توثیق گویاٹرمپ کے سابقہ دورمیں اسرائیل اور امریکا کاتعلق بظاہرعروج پردکھائی دیتاتھاتاہم حالیہ برسوں میں بعض امورپردونوں کانقطہ نظر متصادم دکھائی دیالیکن ایران کے ایٹمی پلانٹ پر خوفناک حملہ کے جواب میں جب ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کواپنے میزائلوں کانشانہ بنایاتواس کے فوری بعدایک مرتبہ پھرٹرمپ کی طرف سے سیزفائرکااعلان کردیاگیااورپہلی مرتبہ ٹرمپ کے بیانات سے اسرائیل کے ساتھ تناؤکی کیفیت کااظہارسامنے آیاجس کی وجہ ایران پرحملے کے طریقہ کارپراسرائیل نے اپنے تحفظات کااظہارکیاجس کے بعداسرائیل کی سکیورٹی پالیسی اورامریکی مفادات کاتفاوت یعنی بعض حساس خفیہ معلومات کااسرائیل کی جانب سے مبینہ افشاکا انکشاف بھی سامنے آیا۔
حالیہ دنوں میں،ٹرمپ کارویہ بعض اسرائیلی پالیسیوں اوراقدامات پرشدید ناراضگی کاعکاس نظر آرہا ہے۔ اس کابنیادی سبب عسکری پالیسیوں میں اختلاف یعنی اسرائیل کاایران اوردیگرہمسایہ ممالک پرجارحانہ مؤقف،جوامریکی امن منصوبوں اور ’’ڈی، اسکلیشن ‘‘ پالیسیوں سے ہم آہنگ نہیں۔اسرائیل کی جانب سے بعض حساس خفیہ معلومات کالیک ہونا یا امریکی توقعات پرپورانہ اترنا، معاہدہ شکنی اوراعتماد کا فقدان بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ٹرمپ کامزاج،ذاتی سیاسی تناؤاور اسرائیلی قیادت کارویہ بعض مواقع پرٹکراؤکا باعث بن گیا۔
سوال یہ ہے کہ کیاٹرمپ کی حالیہ ناراضگی یہودی لابی کومتحرک کرسکتی ہے؟امریکامیں اسرائیلی لابی روایتی طورپرری پبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں پارٹیوں میں ہمہ گیراثرورسوخ رکھتی ہے۔حالیہ برسوں میں اس لابی نے ٹرمپ کواسرائیل نواز پالیسیوں،جیسے امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی اورگولان کی پہاڑیوں کواسرائیلی حصہ تسلیم کرنے جیسے اقدامات پر سراہا۔تاہم،حالیہ ناراضگی اورتنقید اس لابی میں بے چینی کاباعث بن رہی ہے۔اس کاممکنہ نتیجہ ہوسکتاہے۔
آئندہ انتخابی مہم اوردیگرسیاسی حمایت میں لابی کی جانب سے سردمہری کے طورپرمالی امدادمیں کمی ہوسکتی ہے۔
اسرائیل نوازمیڈیاپلیٹ فارمزاورتھنک ٹینکس کی جانب سے ٹرمپ مخالف بیانیے کافروغ کاامکان بھی ہوسکتاہے جس سے امریکی رائے عامہ میں ٹرمپ کے خلاف مہم شروع کی جاسکتی ہے۔
قانون سازایوانوں میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے سینیٹرزاورارکانِ کانگریس کی مخالفت کی شکل میں سیاسی محاذآرائی شروع ہوسکتی ہے۔
اندرونی بیوروکریسی اوراسٹیبلشمنٹ میں لابی کااستعمال کرتے ہوئے خارجہ پالیسی میں ٹرمپ کو غیرمؤثرکرنے کی کوششیں اور خفیہ دباؤکا امکان بھی ہے۔
امریکی سیاسی تاریخ شاہدہے کہ اسرائیل کی لابی محض خارجی پالیسی کاحصہ نہیں،بلکہ امریکی سیاسی عمل کاحصہ ہے۔ماضی میں جان ایف کینیڈی اوردیگر رہنمائوں کی مثال یہ باورکراتی ہے کہ اسرائیل کی لابی محض’’مشیر‘‘یا’’حامی‘‘نہیں، بلکہ بعض مواقع پر پالیسی سازی کی سمت اوربعض اوقات تقدیرِسیاست تک متعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔تاہم ٹرمپ اور اسرائیل کاحالیہ تنامحض وقتی اختلافِ رائے نہیں بلکہ امریکی داخلی سیاسی امتحان ہے۔اسرائیلی لابی،ماضی کی روایات اورتاریخی مثالوں کی بنیادپر،اس پوزیشن میں ہے کہ اگرٹرمپ اسرائیل مخالف یااس کی مرضی سے ہٹ کرکوئی راہ اختیارکرتے ہیں تویہ لابی محض تنقیدتک محدود نہیں رہے گی۔یہ لابی،ماضی کی مانند،سیاسی،ابلاغی اورمالی محاذوں پرمتحرک ہوکر امریکی صدرکیلئے ایسے چیلنج کھڑے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،جن کاتاریخی باب جان ایف کینیڈی کی داستان کاحصہ بن چکاہے۔
اس صورتحال میں کیاامریکااسرائیل کی پالیسی کایرغمال بن چکاہے؟محققین کی اس کے متعلق کیارائے ہے؟آئیے دیکھتے ہیں!
جان مؤئرشائمراوراسٹیفن والٹ’’دی اسرائیل لابی اوریوایس فارن پالیسی،2007‘‘ کی رپورٹ میں اسرائیلی لابی اوراس کی امریکی پالیسی پرگرفت کاتفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کونمایاں کرتے ہیں کہ امریکااسرائیل کی حمایت محض اسٹریٹجک ضرورتوں تک محدودنہیں بلکہ داخلی سیاسی وانتخابی مصلحتوں کاحصہ ہے۔ نوم چومسکی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکااسرائیل کومحض امدادنہیں دیتابلکہ اس کی دفاعی صنعت اورخطے میں جارحانہ پالیسیوں کاحصہ بن کراس سے مادی، تزویراتی اورسیاسی فوائدسمیٹتاہے۔
امریکاکی اسرائیل سے بے پناہ حمایت محض’’ہمدردی‘‘یا’’مذہبی ہم آہنگی‘‘کامظہر نہیں۔ یہ تاریخی، سیاسی اوراقتصادی مصلحتوں کا مرکب ہے ۔ اسرائیل،امریکی اسلحہ سازکمپنیوں اورسیاسی لابیوں کانقطہ اتصال بن چکاہے۔یوں واشنگٹن اور تل ابیب کارشتہ محض دو ریاستوں کامعاملہ نہیں، بلکہ عالمی طاقت اورمصلحت کامعرکہ ہے۔امریکاکی اس ’’مجبوری‘‘ کو محض اقتصادی یافوجی تناظرتک محدود نہیں رکھاجا سکتا۔ یہ ایک ہمہ جہت،تاریخی اور تہذیبی تعلق ہے،جوحال اورمستقبل کی عالمی سیاست کی راہ متعین کرتاہے۔
امریکا اوراسرائیل کارشتہ محض دوریاستوں کاسفارتی یااقتصادی لین دین نہیں،بلکہ تاریخی، اسٹریٹجک،تہذیبی اورسیاسی مصلحتوں کا گہراامتزاج ہے۔مغرب میں تہذیبی ہم آہنگی اور امریکی سیاست میں عیسائی-یہودی روایت،بائبل اور ’’وعدہ کی گئی سرزمین‘‘جیسے تاریخی بیانیے کااثر غالب ہے۔اسرائیل کومشرقِ وسطی کا’’ناقابلِ تسخیر قلعہ‘‘بناتے ہوئے امریکا نے خطے میں روس،چین اورایران جیسے حریفوں کاراستہ روکنے کی حکمت عملی اختیارکررکھی ہے۔
اسرائیل امریکی دفاعی صنعت کاسب سے بڑاگاہک ہے۔اس لیے یہ محض’’امداد‘‘نہیں بلکہ ایک مربوط اقتصادی چکرہے۔اسرائیل نواز لابیاں اور دیگر گروہ امریکی انتخابی میدان اورقانون سازی پر گہر ا اثررکھتے ہیں۔نوم چومسکی نے کئی دہائیوں تک امریکی پالیسی اورجارحیت پربے لاگ تنقید کی ہے۔چومسکی کی تحریریں امریکی سامراج،اسرائیل کی حمایت اورمڈل ایسٹ میں فوجی مداخلت کاپردہ چاک کرتے ہوئے واشنگٹن اورتل ابیب کی ہمہ گیرہم آہنگی کوعریاں کرتی ہیں۔چومسکی اپنی کتاب’’تسلط یابقا‘‘میں لکھتے ہیں:امریکا اسرائیل کو محض مشرقِ وسطی کاگڑھ تصورنہیں کرتابلکہ اپنی پالیسی کا حصہ بناچکاہے۔اسرائیل اورامریکاکاتعلق محض دوستانہ یا اتحادی نہیں،بلکہ دونوں کاسامراجی مقصدمیں شراکت کارشتہ ہے۔امریکاکااسرائیل کی بے پناہ حمایت کرنا محض ’’دوست ریاستوں‘‘کامعاملہ نہیں،یہ طاقت اور اسلحے کاکھیل ہے۔اسٹریٹجک قبضے اور وسائل پر کنٹرول کی داستان ہے۔اندرونی لابیوں اورعالمی بینکنگ سسٹمزکی کارفرمائی ہے۔تہذیبی،تاریخی اور سیاسی ہم آہنگی کاحصہ ہے اورسب سے بڑھ کر، ’’عالمی بالادستی‘‘اور’’نئے سامراجی عہد‘‘کاتسلسل ہے۔نوم چومسکی جیسے محققین نے اس تعلق کومحض دوستانہ یااتحادی اندازمیں نہیں،بلکہ اس دورکا سب سے طاقتور’’استعماری گٹھ جوڑ‘‘قراردیاہے۔
امریکااسرائیل کی حمایت محض اس لیے نہیں کرتاکہ اسرائیل اس کااتحادی ہے،بلکہ اس لیے کرتاہے کہ اسرائیل عالمی سیاست اور اقتصادیات کامرکزبن چکاہے۔عرب ریاستوں، ایران اوردیگرعلاقائی طاقتوں کومعتدل یامحدودرکھنے کاامریکی عزم اسرائیل کی طاقت اوربقاء سے جڑاہے۔ان دوریاستوں کاتعلق یہ ہے کہ یہ ’’عالمی اقتدار،جدیداستعماراور اقتصادی جارحیت‘‘ کا حصہ ہیں۔ چومسکی جیسے محققین اس ربط کو تاریخی تناظر میں محض اتحاد یا دوستی کی صورت میں قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسرائیل کواس مقصد کا محوری ستون کہتے ہیں۔
یہ کہانی صرف ایران،امریکااوراسرائیل کی نہیں،یہ دراصل طاقت،مفادات اورحکمتِ عملی کی اس بازیگری کانام ہے جس میں انسانیت کی بقاباربارسوال بن کرابھرتی ہے۔مشرقِ وسطی کی دھرتی پرامن کی صبح طلوع کب ہوگی،اس کاجواب فی الحال تاریخ کے اوراق منتظرہیں۔مگریہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک طاقتوراپنے مفادات کی بھینٹ کمزوروں کو چڑھاتے رہیں گے، جنگ کاشعلہ کبھی بجھ نہ پائے گا۔یہ سارامنظر محض دو یا تین ریاستوں کاتنازعہ نہیں،بلکہ عالمی طاقت،تاریخی جدوجہد اور تہذیبی بقاکاحصہ ہے۔مشرقِ وسطیٰ کی ویران بستیوں اورخستہ حال ملبے میں یہ سبق بھی مضمرہے کہ تاریخ محض عہدوں کانام نہیں،یہ عبرت اوربصیرت کاچراغ بھی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: اسرائیل کی حمایت جان ایف کینیڈی اسرائیلی لابی ہے کہ اسرائیل میں اسرائیل اسرائیل کو ہے اسرائیل کی جانب سے نہیں بلکہ کرتے ہوئے پالیسی کا ہم آہنگی کاحصہ ہے کی سیاسی لابی اور بلکہ اس

پڑھیں:

فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار

(گزشتہ سے پیوستہ)
دوم انصاف ،اقبالؒ کے نزدیک امن صرف اسی وقت قائم ہوسکتاہے جب انصاف ہو۔قرآن کہتا ہے ،بے شک اللہ عدل اوراحسان کاحکم دیتاہے۔ (النحل: 90)
پاکستان کوہرمعاملے میں انصاف،توازن اور اصولی موقف اختیارکرنا چاہیے۔پاکستان کوایک غیرجانبدارثالث کے طورپردونوں فریقین کے مؤقف کوسمجھتے ہوئے ایک منصفانہ حل پیش کرنا چاہیے،نہ کہ کسی ایک طاقت کے زیرِاثرآکر۔
سوم احترامِ خودمختاری :تیسرا اصول انسانیت کو مقدم رکھناہے۔اقبال کاپیغام جغرافیائی حدودسے بلندتھا۔وہ انسان کوبحیثیت انسان دیکھتے تھے۔وہ فرماتے ہیں ’’مذہب نہیں سکھاتاآپس میں بیررکھنا ‘‘۔ خودمختاری کااحترام بہت اہم ہے۔اقبالؒ نے ہمیشہ غلامی اوربیرونی تسلط کے خلاف آواز اٹھائی۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایران کی خود مختاری اور امریکاکے عالمی کرداردونوں کومدنظررکھتے ہوئے ایک متوازن حکمت عملی اختیارکرے لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ امن کے راستے کبھی آسان نہیں ہوتے۔جب بھی دنیامیں امن کی کوئی کوشش ہوتی ہے،توبعض عناصراپنے سیاسی، معاشی یا تزویراتی مفادات کے باعث اعتماد سازی کے عمل کوکمزورکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے حالات میں اصل امتحان معاہدے پردستخط کرنانہیں بلکہ اس اعتمادکوبرقرار رکھنا ہوتاہے جس پرامن کی بنیادرکھی جاتی ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے پاس اپنے اس کردارکو بڑھانے کے لئے کئی عملی راستے موجود ہیں:
پہلا،سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ، پاکستان کوچاہیے کہ وہ اسلامی تعاون تنظیم اوراقوامِ متحدہ جیسے فورمزپرفعال کرداراداکرے اور ایران- امریکا تنازع کے مستقل حل کے لئے دوبارہ ٹھوس تجاویزپیش کرے۔
دوسرا،اعتمادسازی کے اقدامات ہیں۔امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ عدم اعتماد ہے۔ جب ریاستیں ایک دوسرے پراعتمادکھو دیتی ہیں تو معاہدے کاغذکے ٹکڑے بن جاتے ہیں۔اس لئے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کواپنی سفارتی حکمتِ عملی کامرکزی حصہ بنائے۔یہ اعتمادصرف سرکاری سطح پرنہیں بلکہ عوامی سطح پربھی ہونا چاہیے ۔پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتمادکی فضاقائم کرنے کے لئے غیررسمی ملاقاتوں،تھنک ٹینکس،اورعلمی کانفرنسزکا انعقاد کرسکتاہے۔ علمی و ثقافتی تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبے ، اور بین الاقوامی کانفرنسزکے انعقاد میں اقبالؒ اکیڈمی اہم کرداراداکرسکتی ہے۔پاکستان کوچاہیے کہ وہ ایک ’’مکالماتی کلچر‘‘کو فروغ دے ،ایسا کلچرجس میں اختلاف کو برداشت کیاجائے،سوال کودبایانہ جائے اور دلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔ سوال کودبایانہ جائے،اوردلیل کوترجیح دی جائے۔یہی وہ فضاہے جس میں امن پنپ سکتاہے۔
تیسرا،اقتصادی تعاون ہے کیونکہ اقتصادی استحکام بھی امن کا ایک اہم جزوہے۔اقبالؒ ایک مضبوط اورخوددارمعیشت کے قائل تھے۔ پاکستان اگرخطے میں اقتصادی روابط کو فروغ دے،تویہ ممالک کوتصادم کی بجائے تعاون کی طرف راغب کرسکتاہے۔ اقبالؒ نے خودی کے ساتھ ساتھ خود کفالت پربھی زوردیا۔ ایک مضبوط معیشت نہ صرف داخلی استحکام لاتی ہے بلکہ خارجی سطح پربھی وقارعطاکرتی ہے۔پاکستان اگرعلاقائی اقتصادی تعاون کوفروغ دے، تجارتی روابط کووسعت دے،اورمشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرے تووہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے خطے کے لئے امن کاراستہ ہموارکرسکتاہے۔
چوتھا،مذہبی اورتہذیبی ہم آہنگی کافروغ ہے۔ مذہب کاکرداربھی اس ضمن میں نہایت اہم ہے۔ بدقسمتی سے آج مذہب کواکثرشدت پسندی کے ساتھ جوڑاجاتاہے،حالانکہ اسلام کااصل پیغام امن،رحمت اوراعتدال ہے۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونے کے ناطے ایک ایسامتوازن بیانیہ پیش کرسکتاہے جو مذہب کوشدت پسندی کے بجائے امن اوررواداری کے ساتھ جوڑتاہو،جواقبالؒ کی تعلیمات کابھی نچوڑ ہے۔ اقبال ؒکی فکرمیں مذہب ایک زندہ قوت ہے جو انسان کوبیدارکرتی ہے، اسے ذمہ داری کااحساس دلاتی ہے،
اوراسے خیرکے راستے پرگامزن کرتی ہے جیسا کہ اقبالؒ نے فرمایا:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
ریاستوں کاکردارافرادکے کردارسے بنتا ہے۔ لہٰذاپاکستان کے پالیسی سازوں، سفارتکاروں، اور دانشوروں کواقبال کی فکرکوعملی جامہ پہناناہوگا۔امن کے قیام کے لئے صرف ریاستی سطح پر اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ فکری وتہذیبی سطح پربھی کام کرنا ضروری ہوتا ہے۔پاکستان اس حوالے سے ایک منفردمقام رکھتا ہے۔ اس کی تہذیب،اس کی زبان ،اس کاادبی ورثہ سب امن،محبت اوررواداری کاپیغام دیتے ہیں۔اقبالؒ کی شاعری خودایک سفارتی قوت ہے۔ان کے اشعاردلوں کونرم کرتے ہیں،ذہنوں کوروشن کرتے ہیں اورانسان کواس کی اصل پہچان دلاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں ’’ہارڈ پاور‘‘یعنی فوجی طاقت کی بجائے ’’سافٹ پاور‘‘یعنی سفارت،ثقافت،اور نظریہ زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے ۔ اگر پاکستان اقبالؒ کے فلسفہ کواپنی خارجہ پالیسی کاحصہ بنالے اوراس ادبی وفکری ورثے کواپنی سافٹ پاورکے طورپراستعمال کرے تووہ دنیامیں نہ صرف ایک مثبت تاثر قائم کرسکتاہے بلکہ ایک امن کے سفیر کے طورپرابھرسکتاہے۔
امریکااورایران کے درمیان مصالحت کے لئے پاکستان درج ذیل اقدامات کرسکتاہے:
غیرجانبدارثالثی کی پیشکش،دونوں ممالک کے درمیان خفیہ مذاکرات کی میزبانی،مشترکہ اقتصادی منصوبوں کی تجویز،علاقائی امن کانفرنس کا انعقاد۔
اس حوالے سے پاکستان کے تمام اقدامات اقبال کے تصورِانسانیت کی وحدت کے عین مطابق ہیں۔
دنیااس وقت ایک نازک دورسے گزررہی ہے۔ایک غلط فیصلہ،ایک غلط فہمی یاایک غیرذمہ دارانہ اقدام بڑے بحران کوجنم دے سکتا ہے۔ایسے وقت میں پاکستان کواقبال کے اس پیغام کواپنارہنمابناناچاہیے:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یقین،مسلسل عمل اورانسانیت سے محبت ہی وہ طاقتیں ہیں جودنیا کوتباہی سے بچاسکتی ہیں۔آج کی دنیا میں طاقت کی نوعیت بدل چکی ہے اب صرف عسکری قوت کافی نہیں بلکہ فکری، ثقافتی او سفارتی قوت بھی اہم ہوچکی ہے۔ پاکستان اگران تمام جہات میں توازن پیدا کرے تووہ ایک مؤثرعالمی کردارادا کرسکتاہے۔
اقبال ؒکی فکرمحض کتابوں تک محدودنہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔فکرِ اقبالؒ ہمارے لیے محض ایک ادبی ورثہ نہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی ہے ۔ اگرہم اس فکرکواپنی پالیسیوں ،اپنے اداروں، اوراپنی اجتماعی زندگی میں شامل کرلیں توہم نہ صرف اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں بلکہ دنیا کے لئے بھی ایک مثال بن سکتے ہیں۔اگر پاکستان ان اصولوں کواپنائے تونہ صرف وہ اپنے اندراستحکام لاسکتاہے بلکہ عالمی امن میں بھی ایک کلیدی کرداراداکرسکتاہے۔
دعاہے کہ اللہ تعالی پاکستان کوامن،عدل اور خیرکاعلمبرداربنائے،اللہ ہمیں اقبال ؒکے افکارکوسمجھنے اوران پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اوردنیاکے تمام ممالک کوتنازعات کی بجائے مکالمے،جنگ کی بجائے امن اورنفرت کی بجائے انسانیت کاراستہ اختیار کرنے کی توفیق عطافرمائے۔اس پرعمل کرنے ، اور اسے دنیاتک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے۔ اللہ پاکستان کوامن،عدل اورانسانیت کاعلمبردار بنائے۔
اقبال اکیڈمی لاہورمیں 14جولائی2026 کوسیمینارسے خطاب

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم