اٹلی نے تاریخ رقم کردی، پہلی بار آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اٹلی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے لیے اپنی جگہ پکی کرکے تاریخ میں نیا باب رقم کر دیا، جب کہ نیدرلینڈز نے بھی میگا ایونٹ میں رسائی حاصل کرلی۔
اٹلی نے یہ کارنامہ یورپ کوالیفائر 2025 ایونٹ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے گرنزی اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف فیصلہ کن فتوحات کے ذریعے انجام دیا۔ اس کامیابی کے بعد اٹلی پہلی مرتبہ آئی سی سی کے سب سے بڑے ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں مجموعی طور پر 20 ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔ میزبان بھارت کے علاوہ سری لنکا، افغانستان، آسٹریلیا، بنگلادیش، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز، امریکا اور نیوزی لینڈ گزشتہ ورلڈکپ کے سپر ایٹ مرحلے تک رسائی کے باعث پہلے ہی ایونٹ میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔
ادھر پاکستان، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ نے اپنی بہتر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رینکنگ کے سبب براہِ راست میگا ایونٹ کا ٹکٹ حاصل کرلیا ہے۔
اب باقی 6 ٹیموں کا فیصلہ ریجنل کوالیفائرز سے ہوگا، جس میں افریقہ سے 2، امریکا سے ایک اور ایشیا و ایسٹ ایشیا پیسفک ریجن سے 3 ٹیمیں ٹورنامنٹ کا حصہ بنیں گی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ کرکٹ کے میدان میں اٹلی جیسا غیر روایتی ملک بھی عالمی اسٹیج پر قدم رکھنے جا رہا ہے، جو کھیل کی عالمی مقبولیت میں اضافے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔