محکمہ موسمیات کے مطابق 28 سے 31 جولائی کے دوران اسلام آباد کے ساتھ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی بارش کا امکان ہے۔ کل سے 31 جولائی تک دریائے چناب اور جہلم میں پانی کے غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ موسمیات نے کل سے ملک بھر میں مون سون کا نیا سپیل شروع ہونے کی پیش گوئی کر دی، بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی اور شہروں میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 28 سے 31 جولائی کے دوران اسلام آباد کے ساتھ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی بارش کا امکان ہے۔ کل سے 31 جولائی تک دریائے چناب اور جہلم میں پانی کے غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے۔بلوچستان میں 29 سے 31 جولائی جبکہ سندھ میں 30 سے 31 جولائی کے دوران بارشیں ہوں گی، اس دوران کچھ علاقوں میں طوفانی بارشیں بھی ہو سکتی ہیں، بارشوں کے باعث مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کر دیا گیا، مختلف شہروں میں نشیبی علاقے زیر آب جبکہ بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ متوقع ہے۔

دوسری جانب حافظ آباد سکھیکی میں 10 روز بعد بھی متعدد دیہات سے بارشی پانی کی نکاسی نہ ہوسکی، زمینی رابطہ بحال نہ ہونے سے مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ادھر کشمور میں گڈو بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی، تونسہ بیراج کے مقام پر بھی پانی کی سطح میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، لیہ میں دریائے سندھ کے پانی سے 70 موضع جات زیر آب آگئے، انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ راول ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 750 فٹ ریکارڈ کی گئی، ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے پر سپل ویز کھول دیئے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سے 31 جولائی پانی کی سطح میں پانی کا خدشہ

پڑھیں:

عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی

لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔

ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا