امریکا میں بھارتی باسمتی چاول پر بھاری ٹیکس عائد، پاکستانی برآمدات کو فائدہ پہنچنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: امریکا کی جانب سے بھارتی باسمتی چاول پر بھاری ٹیکس عائد ہونے سے پاکستانی برآمدات کو نمایاں فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات بشمول باسمتی چاول پر 50 فیصد محصول عائد کیے جانے سے امریکا میں تجارتی بہاؤ کی سمت بدل گئی ہے، جس نے پاکستان کو امریکی چاول کی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔
پاکستان کے باسمتی چاول کی برآمدات میں حالیہ برسوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ڈین تعیناتی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کے مطابق مالی سال 2024 میں پاکستان نے تقریباً 7 لاکھ 72 ہزار 725 ٹن باسمتی چاول برآمد کیے، جن سے 876 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا، جو پچھلے مالی سال کے 5 لاکھ 95 ہزار 120 ٹن (مالیت 650 کروڑ 40 لاکھ ڈالر) سے کہیں زیادہ ہے, فی ٹن اوسط برآمدی قیمت بھی 1 ہزار 92 ڈالر سے بڑھ کر 1 ہزار 134 ڈالر تک پہنچ گئی۔
گلوبل ٹریڈ پلیٹ فارم وولزا کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2023 سے اکتوبر 2024 کے دوران امریکا، پاکستان کی کل باسمتی برآمدات کا 24 فیصد حصہ رہا جو 1 ہزار 519 شپمنٹس پر مشتمل تھا۔
راولپنڈی میں ڈینگی کی شدت میں اضافہ۔ 58 نئے کیسز کی تصدیق
اس کے بعد اٹلی 14 فیصد (908 شپمنٹس) اور برطانیہ 11 فیصد (716 شپمنٹس) کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے، مجموعی طور پر یہ تینوں مارکیٹیں پاکستان کی باسمتی چاول کی برآمدات کا تقریباً 49 فیصد استعمال کرتی ہیں۔
پاکستان اس وقت 110 سے زائد ممالک کو باسمتی چاول برآمد کر رہا ہے، جن میں دیگر اہم مارکیٹیں آسٹریلیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کینیڈا، نیدرلینڈز اور جرمنی شامل ہیں۔
رونالڈو نے 8 سال تک ڈیٹنگ کے بعد جورجینا سے منگنی کر لی
امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں امریکا میں چاول کی درآمدات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، سال 1993/94 میں یہ شرح 7 فیصد تھی جو 2022/23 میں بڑھ کر 25 فیصد سے زیادہ ہوگئی، ان درآمدات میں 60 فیصد سے زائد خوشبودار اقسام ایشیا سے آتی ہیں، جن میں زیادہ تر تھائی لینڈ کا جیسمین اور بھارت و پاکستان کا باسمتی شامل ہے۔
اگرچہ امریکا میں بھی خوشبودار چاول پیدا ہوتے ہیں، مگر ان کا معیار اور خوشبو ایشیائی چاول سے مختلف ہے، یو ایس ڈی اے کا اندازہ ہے کہ آنے والے برسوں میں خوشبودار چاول کی درآمدات میں مزید اضافہ ہوگا۔
بانی تحریک انصاف کی ضمانت کی 8 اپیلوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری
یہ محصولاتی تنازع اس وقت پیدا ہوا جب امریکا نے بھارت کے تجارتی اور توانائی تعلقات روس کے ساتھ محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے، جن کے نتیجے میں کئی بھارتی برآمدات، بشمول باسمتی چاول، دواساز مصنوعات اور الیکٹرانکس پر بھاری محصولات لگا دیے گئے۔
اگرچہ کچھ شعبوں کو بعد میں استثنا دے دیا گیا، لیکن باسمتی چاول بدستور 50 فیصد مکمل محصول کے تحت رہا، اس کے برعکس پاکستانی باسمتی چاول پر ابھی بھی صرف 19 فیصد محصول عائد ہے، جو اسے امریکی مارکیٹ میں نمایاں قیمت کا فائدہ دیتا ہے۔
بلوچستان میں موبائل انٹرنیٹ سروس ایک ہفتے سے معطل، عوام شدید مشکلات کا شکار
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق محصولات میں اس اضافے سے بھارت کی امریکا کو باسمتی برآمدات میں 50 سے 80 فیصد کمی آسکتی ہے اور قیمتیں تقریباً 1 ہزار 800 ڈالر فی میٹرک ٹن تک پہنچ سکتی ہیں، اس کے مقابلے میں پاکستانی باسمتی کی قیمت تقریباً 1 ہزار 450 ڈالر فی میٹرک ٹن ہے، جو اسے امریکی درآمد کنندگان اور خوردہ فروشوں کے لیے زیادہ مسابقتی بناتی ہے۔
امریکا بھر کے خوردہ فروش پہلے ہی پاکستانی باسمتی چاول میں بڑھتی دلچسپی کی اطلاع دے رہے ہیں۔
اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا میں سپر حلال گروسری کے سیلز مین خان محمد نے بتایا کہ پاکستانی چاول پہلے سے ہی مقبول ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: باسمتی چاول پر امریکا میں کے مطابق چاول کی
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔