جعفر ایکسپریس پر ایک بار پھر حملہ، ٹرین کو دوزان ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
کوئٹہ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔04 اگست ۔2025 )کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر ایک اور حملے کی کوشش کی گئی ہے پیر کی صبح کولپور کے قریب ریلوے ٹریک کی کلیئرنس کے لیے بھیجے گئے پائلٹ انجن پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ٹرین کو دوزان ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا.
(جاری ہے)
ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ریلوے انتظامیہ کے مطابق جعفر ایکسپریس سے قبل ایک پائلٹ انجن کوئٹہ سے سبی تک ٹریک کی جانچ کے لیے چلایا جاتا ہے تاکہ کسی ممکنہ تخریب کاری سے بچا جا سکے پیر کی صبح لیویز ذرائع کے مطابق دوزان کے قریب واقع ٹنل نمبر 16 کے قریب اس پائلٹ انجن پر فائرنگ کی گئی انجن کو پانچ گولیاں لگیں تاہم انجن کا ڈرائیور اور دیگر عملہ محفوظ رہا.
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کے بعد انجن کو بحفاظت دوزان اسٹیشن پہنچا دیا گیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے دوسری جانب دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے یاد رہے کہ جعفر ایکسپریس پہلے بھی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن چکی ہے 11 مارچ 2025 کو بھی کوئٹہ سے پشاور جانے والی نو بوگیوں پر مشتمل اس مسافر ٹرین پر حملہ کیا گیا تھا، اس وقت 400 سے زائد مسافر ٹرین میں موجود تھے. اس دلخراش واقعے میں مجموعی طور پر 26 مسافر شہید ہوئے تھے جن میں 18 کا تعلق آرمی اور ایف سی سے، 3 ریلوے اور دیگر اداروں سے جبکہ 5 عام شہری شامل تھے 354 یرغمالیوں کو زندہ بازیاب کرایا گیا تھا جن میں 37 زخمی تھے اس کے بعد جون 2025 میں جعفر ایکسپریس ایک بار پھر سندھ کے ضلع جیکب آباد میں بم دھماکے کا نشانہ بنی، جس سے چار بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، تاہم خوش قسمتی سے تمام مسافر محفوظ رہے تھے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جعفر ایکسپریس دیا گیا
پڑھیں:
ٹانک ،چیک پوسٹ پر حملہ ، 12 فوجیوں سمیت 15 شہید،12 خوارجی ہلاک
ضلع ٹانک میں قائم مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب دہشت گردوں کے حملے کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کی سکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں 12 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے غیر معمولی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے والے دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور انہیں ہلاک کر دیا۔
بیان کے مطابق حملے میں ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا اور چیک پوسٹ کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس حملے میں 15 اہلکار شہید ہوئے، جن میں 12 فوجی جوان، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک اہلکار شامل ہیں، جنہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور وطن کے دفاع، قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کا عزم غیر متزلزل ہے۔