پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے خواجہ آصف کے بیوروکریٹس کے پرتگال میں پراپرٹی خریدنے کے بیان کا نوٹس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزیردفاع خواجہ آصف کے پرتگال میں بیوروکریٹس کی جانب سے پراپرٹی خریدنے کے بیان کا نوٹس لے لیا۔
پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا جنید اکبر خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کے پرتگال میں بیوروکریٹس کی جانب سے پراپرٹی خریدنے کے بیان کا معاملہ زیر بحث آیا، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے کہا گیا کہ وزیر دفاع کا یہ بیان انتہائی سنگین معاملہ ہے، کمیٹی نے معاملے پر آئندہ اجلاس میں وزارت داخلہ، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر حکام کو طلب کر لیا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکم دیا کہ وزارت داخلہ، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو بریفنگ دیں۔
خیال رہے کہ چند روز قبل، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کی گئی پوسٹ میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ملک کی بیوروکریسی کے بارے میں بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں جائیدادیں خرید چکی ہے۔
بعد ازاں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی کو تمام قوانین اور قواعد کا پابند ہونا چاہیے، جو بحیثیت پارلیمنٹیرینز مجھ پرلاگو ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیا آج تک کسی بیوروکریٹ کا احتساب ہوا ہے، کسی نے سوچا ہے کہ ان کے پاس کتنے پلاٹ ہیں، میرے پاس 2 کمرے کا فلیٹ ہے، پچھلے 25 سال سے وہاں رہ رہا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے بیوروکریسی کی شان میں بس اتنی گستاخی کی کہ یہ پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں، مجھے نہیں معلوم تھا کتنے لوگ خرید رہے ہیں یا اتنا رولا پڑ جائے گا اور اب رولا پڑگیا ہے تو میں انکوائری بھی کر رہا ہوں اور نام بھی بتاؤں گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جس کے ذریعے جائیدادیں خریدی گئیں، اس نے ان کی تصاویر بھی بنائی ہوئی ہیں، میں نے رولا ڈالا ہے، اب میڈیا اس کی تحقیقات کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پبلک اکاو نٹس کمیٹی نے پرتگال میں خواجہ ا صف
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔