معرکۂ حق یوم آزادی، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا وطن عزیز کیلیے تجدیدِ عہد وفا
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
اوورسیز پاکستانی، دیارِ غیر میں رہ کر بھی ملکی ترقی و استحکام میں پیش پیش ہیں، قومی تعمیر میں اوورسیز پاکستانیوں کو قابل ِ فخر کردار پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
معرکۂ حق یوم ِآزادی پر اوورسیز پاکستانیوں نے پیغام دیا کہ پاکستان ہمارا فخر ہے اور ہمارے سینوں میں دھڑکتا ہے۔
اوورسیز پاکستانی کا کہنا ہے یہ سچ ہے کہ ہم دیارِ غیر میں ہیں اور وطن عزیز سے ہزاروں کلو میٹر دور ہیں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہم جہاں بھی رہتے ہیں ہمارے دل میں پاکستان رہتا ہے، ہمارے سینوں میں دل نہیں پاکستان دھڑکتا ہے اور ہماری سانسوں میں مچلتے جذبے کا نام پاکستان ہے۔
اوورسیز پاکستانی کا کہنا تھا کہ جب بھی لوگ نام پوچھنے آتے ہیں تو سینہ چوڑا کرتے ہیں اور پاکستان بتاتے ہیں۔ پاکستان ہماری آن، ہماری شان اور ہمارا فخر ہے، ہمارے دلوں کی ایک ہی آواز، پاکستان زندہ باد ہے۔
بیرونِ ملک پاکستانی، ہر آزمائش میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ اوورسیز پاکستانی قومی خدمت، قربانی اور خلوص کی زندہ مثال ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اوورسیز پاکستانی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔