یوٹیلٹی اسٹورز کی فروخت نہ ہونے والی اشیائے خوردونوش کی نیلامی کا عمل شروع
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 اگست2025ء)ملک بھر میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کا آپریشن مکمل بند ہونے کے بعد فروخت ہونے سے رہ جانے والی اشیائے خوردونوش کی نیلامی کا عمل شروع کر دیا گیا ۔وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے 31جولائی کو ملک بھر میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کا آپریشن مکمل بند کر کے اشیا ء کی خریدو فروخت کا عمل روک دیا گیاتھا جبکہ ادارے کے تمام اسٹورز سے اشیائے خورونوش اور دیگر سامان ویئر ہائوسز میںمنتقل کر دیا گیا تھا۔
(جاری ہے)
ملک بھر میں فروخت سے رہ جانے والی جانے والی اشیائے خوردونوش کی نیلامی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جن میں دالیں، چاول، مصالحے، پلاسٹک بیگ ،یوٹیلٹی اسٹورز کے اپنے برانڈکاگھریلو سامان شامل ہے ۔بتایا گیا ہے کہ نیلامی کے عمل میں شامل ہونے والوں کو مقررہ فارم پر حلف نامہ دینا ہوگا کہ وہ نہ تو سرکاری ملازم ہے اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے کا نادہندہ ہے ، یہ حلف نامہ 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر دینا ہوگا۔کامیاب بولی دہندہ کو تمام سامان 10 دن کے اندر اندر مقررہ مقامات سے وصول کرنا ہوگا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یوٹیلٹی اسٹورز دیا گیا کا عمل
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔