خیبر پختونخوا کے شمالی اضلاع کے سنگلاخ پہاڑوں کی بلندیوں پر آزاد گھومنے والے قومی جانور مارخور اور آئی بیکس کے شکار کی مہنگی ترین بولی پشاور میں لگی، جو مجموعی طور پر 19 لاکھ 13 ہزار امریکی ڈالر سے زائد میں فروخت ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:مارخور کا غیر قانونی شکار کرنے پر 3 افراد گرفتار

رواں سال مارخور اور آئی بیکس کے شکار کے 39 پرمٹ خریدے گئے جن میں 4 مارخور جبکہ باقی آئی بیکس کے تھے۔ ان سے حکومت کو مجموعی طور پر 542 کروڑ 70 لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی۔

شکار کے لیے پرمٹ لینے والوں میں غیر ملکیوں کے ساتھ مقامی شکاری بھی شامل ہیں جو ایڈونچر شکار کے لیے بے تاب دکھائی دے رہے تھے۔

مقامی شکاری کی کامیابی

پشاور کے نوجوان شکاری ارباب صفوان آئی بیکس کا پرمٹ لینے میں کامیاب ہوئے اور چترال کے دور افتادہ پہاڑی علاقوں دیواگول اور بریپ میں شکار کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں بہت خوش ہوں، پہلی بار پہاڑوں میں شکار کروں گا۔

ٹرافی ہنٹنگ

خیبر پختونخوا حکومت نے مارخور کی آبادی میں خاطر خواہ اضافے اور مقامی آبادی کو سہولت دینے کے لیے مارخور ٹرافی ہنٹنگ کا آغاز کیا تھا، جس کی آمدنی کا 80 فیصد حصہ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق مقامی آبادی کو دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان میں استور مارخور کے شکار کا سیزن ختم، کتنے کروڑ روپے حاصل ہوئے؟

محکمے کے مطابق مارخور کے بعد کچھ سالوں سے آئی بیکس ٹرافی ہنٹنگ بھی متعارف کرائی گئی ہے جو شکاریوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔

محکمے کے مطابق پاکستان کا قومی جانور مارخور جو سخت پہاڑوں کی چوٹیوں پر گھومتا ہے، بین الاقوامی ٹرافی ہنٹنگ کا تاج ہے، اور چترال میں اس کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

اب چترال کے خشک اور سخت پہاڑوں میں گھومنے والے آئی بیکس بھی آمدنی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔

لمبے سینگوں، لمبی داڑھی اور بے مثال پھرتی والے یہ جانور پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہتے ہیں اور سردیوں میں خوراک کی تلاش میں نیچے آتے ہیں۔ ان کا شکار شکاریوں کے لیے بڑا چیلنج اور ایڈونچر سمجھا جاتا ہے۔

بولی کا طریقہ کار

محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا ہر سال ستمبر کے آغاز میں مارخور اور آئی بیکس کے شکار کے پرمٹ کے لیے بولی کا اعلان کرتا ہے، جس میں 3 مختلف کیٹیگریز رکھی جاتی ہیں: غیر ملکی، ملکی اور مقامی افراد کے لیے۔

مقامی شکاریوں کو فی پرمٹ 15 ہزار روپے کے بینک ڈرافٹ جمع کرانے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ہی وہ بولی میں حصہ لے سکتے ہیں۔

محکمہ تمام شکاریوں کو تاریخ دیتا ہے اور بولی پشاور میں منعقد ہوتی ہے۔ دنیا بھر کے شکاری حصہ لے سکتے ہیں، جبکہ پاکستانی اور مقامی شکاریوں کو خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔

پرمٹ کی اقسام اور قیمتیں

ڈی ایف او اعجاز خان کے مطابق غیر ملکیوں، پاکستانیوں اور مقامی شکاریوں کے لیے پرمٹ کی 3 مختلف قسمیں ہیں۔

غیر ملکیوں کے لیے ابتدائی قیمت 2 لاکھ ڈالر سے زائد ہوتی ہے۔پاکستانی شکاریوں کے لیے ابتدائی قیمت 900 ڈالر ہے۔مقامی شکاریوں کے لیے ابتدائی قیمت 525 ڈالر رکھی جاتی ہے۔

شکاری اپنی مرضی سے مزید بولی بڑھاتے ہیں۔

بولی کا ماحول اور دلچسپ واقعات

بولی کے دوران چیف کنزرویٹر ابتدا کرتے ہیں اور علاقے کا نام، پرمٹ کی تعداد اور شکار کی خصوصیات بیان کرتے ہیں۔

ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ ’آئی بیکس گولین گول کے لیے 900 ڈالر، شکار آسان اور جانور بڑے، شکاری دل کھول کر بولی لگائیں‘۔ جس پر ہال قہقہوں سے گونج اٹھا اور بولی کا آغاز ہوا۔

بولی میں شکاری یا اس کے نمائندے کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔

کچھ مقامی شکاریوں نے اپنی پسند کے علاقوں کے لیے زیادہ بولی دی۔ اپر چترال کے کھوژ گول آئی بیکس کے لیے پرمٹ 525 ڈالر سے شروع ہو کر 1500 ڈالر تک پہنچ گیا، جو حباب نامی شکاری نے حاصل کیا۔

شکار کی دشواریاں

مارخور اور آئی بیکس کا شکار ان کے بلند پہاڑوں پر رہنے، تیز نظر اور سونگھنے کی صلاحیت کی وجہ سے نہایت مشکل ہے۔

چترال کے مقامی شکاری آصف رضا کے مطابق ہمارے چترال میں کہاوت ہے کہ پہاڑی بکری کے شکار کا گوشت کھانے سے پہلے شکاری کو اپنا گوشت کھانا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا: مارخور ٹرافی ہنٹنگ کی سب سے بڑی بولی کتنے میں ہوئی؟

انہوں نے بتایا کہ کئی ہزار فٹ بلندی پر آکسیجن کی کمی، طویل سفر اور کئی دن انتظار شکار کو مشکل بنا دیتے ہیں۔

19 لاکھ ڈالر سے زائد کی بولی

بولی پشاور میں محکمہ جنگلی حیات کے دفتر میں لگی۔ ڈی ایف او کوہاٹ کے مطابق سب سے مہنگا مارخور کا پرمٹ 2 لاکھ 46 ہزار ڈالر میں فروخت ہوا۔مجموعی طور پر 39 پرمٹ 19 لاکھ 13 ہزار 842 ڈالر میں فروخت ہوئے۔

محکمے کے مطابق بڑے اور عمر رسیدہ جانوروں کا انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ نسل متاثر نہ ہو۔

مارخور کی آبادی میں اضافہ

1980 کی دہائی میں مارخور کی آبادی ختم ہونے کے قریب تھی۔ بعد میں حکومت اور مقامی آبادی نے مل کر تحفظ کیا۔

آج صرف چترال گول نیشنل پارک میں مارخور کی تعداد 4 ہزار سے زائد ہے اور غیر قانونی شکار پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی بیکس اپر چترال چترال شکار کا لائسنس لائسنس مارخور ہنٹنگ ٹرافی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی بیکس اپر چترال چترال شکار کا لائسنس لائسنس ہنٹنگ ٹرافی مارخور اور آئی بیکس کے شکار شکاریوں کے لیے مقامی شکاریوں ٹرافی ہنٹنگ مقامی شکاری اور مقامی مارخور کی کے مطابق چترال کے بولی کا ڈالر سے شکار کے ہوتی ہے

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟