Islam Times:
2026-06-03@02:04:56 GMT

مسئلہ فلسطین میں یورپ کی منافقت

اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT

مسئلہ فلسطین میں یورپ کی منافقت

اسلام ٹائمز: گارنٹی فراہم کرنے اور غاصب صیہونی رژیم پر دباو ڈالے بغیر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر کے فلسطینی پرچم لہرانے جیسے علامتی اقدامات کا واحد فائدہ میڈیا پر چرچوں اور سازباز کرنے والے عناصر کو مضبوط بنانے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ جبکہ زمینی حقائق میں حتی چھوٹی سی تبدیلی بھی رونما نہیں ہوئی اور اسرائیل بدستور غزہ کی پٹی کو نگلنے میں مصروف ہے اور ساتھ ہی ساتھ مغربی کنارے اور شام کے جنوبی علاقوں کر بھی ہڑپ کر جانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک کو اسلامی مزاحمت کا مقابلہ کرنے کے لیے سازباز کرنے والے فلسطینی عناصر کو ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔ لہذا وہ اپنے خیال میں اسلامی مزاحمت سے عاری مستقبل کے سیٹ اپ میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ تحریر: محمد زمانی
 
یورپی ممالک نے آخرکار طویل عرصے کی تاخیر (اگر اوسلو معاہدے کو مدنظر قرار دیں) سے فلسطین کی خودمختار ریاست کو تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ اپنے ان بار بار کے وعدوں پر عمل پیرا ہو سکیں جو مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی راہ حل پر مبنی تھے۔ لیکن اس اقدام میں اتنی طویل تاخیر کے علاوہ اس بات پر بھی ٹھوس شواہد پائے جاتے ہیں کہ یورپی ممالک کا یہ اقدام ان کے منافقانہ ترین سیاسی اقدامات میں سے ایک ہے۔ وہ اس منافقت کے ذریعے درج ذیل بنیادی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں:
1)۔ فیس سیونگ اور عزت حاصل کرنا: یورپی ممالک اس سے پہلے بھی غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے غزہ کے اسکولوں، اسپتالوں اور صحافیوں پر حملوں کی مذمت کر کے اپنی رائے عامہ میں پائے جانے والے شدید غصے اور ناراضگی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔
 
یاد رہے غزہ میں موجود انسانی بحران کی تصاویر اور رپورٹس ھشائع ہونے کے باعث مغربی رائے عامہ میں اسرائیل کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ اپنی حکومتوں پر بھی اسرائیل کی مدد کرنے کی وجہ سے برہم ہیں۔ مزید برآں، مغربی حکومتیں اس بات سے بھی خوفزدہ تھیں کہ کہیں بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں عوام میں اسرائیل کے خلاف پائی جانے والی نفرت کا فائدہ اٹھا کر الیکشن میں انہیں مشکل حالات سے دوچار نہ کر دیں۔ لہذا اسپین میں حکمفرما بائیں بازو کی حکومت کے علاوہ باقی یورپی حکومتوں کے بارے میں اس بات کا قومی امکان پایا جاتا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی جاسوسی ادارے موساد کے مشورے سے خودمختار فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ یوں اپنی عوام میں موجود بے چینی اور غم و غصے کو کنٹرول کر سکیں اور کسی حد تک اپنی مشروعیت بھی بچا سکیں۔
 
یورپی حکمران اس اعلان کے ذریعے عالمی سطح پر امریکہ کی اپنے اسٹریٹجک اتحادی یعنی اسرائیل کا دفاع کرنے کا راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ یوں کہ اپنے اس اقدام کی مدد سے اپنی رائے عامہ کو انتہائی اقدام سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ مغربی عوام اس وقت اپنی اپنی حکومتوں سے یہ انتہائی مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم سے ہر قسم کا سیکورٹی تعاون ختم کر دینے کے ساتھ ساتھ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے باعث اس پر پابندیاں بھی عائد کریں۔ اگر بالفرض یورپی حکومتوں نے خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان خلوص نیت سے کیا ہوتا تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کو بنیاد بنا کر اسرائیل کے خلاف پابندیوں کا بھی اعلان کرتے۔ لیکن یورپی حکمران امریکہ سے خوفزدہ ہیں اور کسی قیمت پر اسے ناراض نہیں کرنا چاہتے۔
 
2)۔ ذمہ داری سے جان چھڑانا: اگرچہ کچھ یورپی ممالک نے زبان کی حد تک قبضہ ختم ہونے اور فلسطینیوں کے حقوق فراہم کیے جانے کی بات کی ہے لیکن عمل کے میدان میں انہوں نے بھی اسرائیل کے خلاف موثر اور فیصلہ کن اقدامات جیسے فوجی اور سیکورٹی تعاون منقطع کر دینا، وسیع فوجی پابندیاں یا موثر اقتصادی دباو وغیرہ انجام دینے سے گریز کیا ہے۔ یوں یورپی ممالک نے نہ صرف اسرائیل کے خلاف دو ٹوک اقدامات کی ذمہ داری سے جان چھڑائی ہے بلکہ اسرائیل کو مدد کی فراہم جاری رکھنے اور خفیہ طور پر اس سے فوجی اور سیکورٹی تعلقات بحال رکںے کی خاطر ایک منافقانہ اقدام انجام دیا ہے۔
3)۔ سازباز کے مرتے منصوبے میں نئی روح پھونکنا: یورپی ممالک کی جانب سے خودمختار فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کا ایک اہم مقصد اور محرک سازباز اور مذاکرات میں نئی روح پھونکنا ہے۔
 
یہ بات فرانسیسی صدر کی تقریر میں بہت واضح طور پر دکھائی دیتی ہے جب اس نے فلسطین میں فرانسیسی سفارت خانہ کھولے جانے کو "اسرائیلی یرغمالیوں کی آزادی" سے مشروط کیا۔ اسرائیل کی بربریت اور انسان سوز مظالم پر مجرمانہ خاموشی کے باعث فلسطین اتھارٹی کی حیثیت ختم ہو چکی ہے جبکہ اسلامی مزاحمت کا اعتبار نہ صرف مغربی کنارے اور پوری عرب دنیا بلکہ پوری دنیا میں بڑھتا جا رہا ہے۔ لہذا حماس کے مقابلے میں محمود عباس اور فلسطین اتھارٹی کی حیثیت کا اعادہ کرنے اور اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کے مقابلے میں اسرائیل سے سازباز اور مذاکرات کے نظریے کی حمایت کی خاطر یورپی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوں انہوں نے دو ریاستی راہ حل کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ گذشتہ دو برس کے دوران حماس کی جانب سے شاندار مزاحمت کے باعث سازباز کا نظریہ دم توڑ رہا ہے اور آخری سانسیں لے رہا ہے۔
 
4)۔ مزاحمت سے عاری سیٹ اپ میں اپنا حصہ بنانا: گارنٹی فراہم کرنے اور غاصب صیہونی رژیم پر دباو ڈالے بغیر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر کے فلسطینی پرچم لہرانے جیسے علامتی اقدامات کا واحد فائدہ میڈیا پر چرچوں اور سازباز کرنے والے عناصر کو مضبوط بنانے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ جبکہ زمینی حقائق میں حتی چھوٹی سی تبدیلی بھی رونما نہیں ہوئی اور اسرائیل بدستور غزہ کی پٹی کو نگلنے میں مصروف ہے اور ساتھ ہی ساتھ مغربی کنارے اور شام کے جنوبی علاقوں کر بھی ہڑپ کر جانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک کو اسلامی مزاحمت کا مقابلہ کرنے کے لیے سازباز کرنے والے فلسطینی عناصر کو ساتھ ملانے کی ضرورت ہے۔ لہذا وہ اپنے خیال میں اسلامی مزاحمت سے عاری مستقبل کے سیٹ اپ میں اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست کو تسلیم ریاست کو تسلیم کر غاصب صیہونی رژیم سازباز کرنے والے اسرائیل کے خلاف یورپی ممالک نے اسلامی مزاحمت اور اسرائیل میں مصروف عناصر کو کی کوشش کے باعث رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔

(جاری ہے)

منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد