data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد : اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ سیاحت کسی بھی ملک کی معاشی، سماجی اور ثقافتی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں سیاحت کے فروغ سے نہ صرف ملکی معیشت کو استحکام مل سکتا ہے بلکہ روزگار کے بے شمار مواقع بھی پیدا ہوں گے، عوامی خوشحالی بڑھے گی اور دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت اور روشن چہرہ اجاگر ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے عالمی یوم سیاحت کے موقع کیا جو 27 ستمبر کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی تنوع، قدرتی حسن، قدیم تہذیبوں اور مذہبی و ثقافتی ورثے کی بدولت دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ پاکستان کی پہچان صرف بلند و بالا پہاڑوں، صحراوں اور ساحلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ وادی کالاش کی روایات، گندھارا تہذیب کی شان و شوکت اور کرتارپور کوریڈور جیسے روحانی مراکز اسے دنیا بھر کے مذاہب اور ثقافتوں کے لیے پرکشش بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے جامع ویزا پالیسی اختیار کی ہے جس کے تحت سکھ، ہندو اور بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے مقدس مقامات تک رسائی آسان بنائی گئی ہے۔یہ اقدامات نہ صرف بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی احترام کو فروغ دیتے ہیں بلکہ پاکستان کے پرامن اور مہمان نواز تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے ہیں۔ سیاحت کے فروغ کے لیے امن و امان بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

اسپیکر نے ملک میں امن قائم رکھنے کے لیے پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، نجی شعبے اور متعلقہ حکام پر زور دیا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ پاکستان کے قدرتی اور ثقافتی خزانوں کو عالمی سطح پر متعارف کروایا جا سکے۔

فاروق اعظم صدیقی ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیاحت کے فروغ ایاز صادق دنیا بھر کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز