لیڈرشپ بغیر ویژن کے ایسے ہی ہے جیسے جسم رُوح کے بغیر۔ ویژن کے بغیر لیڈر عہدہ، طاقت، اختیار اور منصب تو رکھ سکتا ہے، لیکن حقیقی لیڈرشپ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، کیونکہ لیڈرشپ کی بنیاد ہی ویژن پر ہوتی ہے۔ جس لیڈر کا ویژن جتنا بڑا ہوتا ہے، وہ اتنا ہی بڑا لیڈر بنتا ہے۔ قوموں کی تاریخ اور عظیم شخصیات کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر وہ لیڈر جس کا ویژن عظیم تھا، وہ آج بھی دُنیا میں عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
آج کے دُور میں، چاہے وہ کارپوریٹ لیڈرشپ ہو، سیاسی یا مذہبی قیادت، کسی سماجی ادارے یا خاندان کا سربراہ ہو یا کسی بھی ایسے عہدے پر فائز ہو جہاں لوگوں کی دیکھ بھال اور راہ نمائی کی ذمے داری ہو، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ لیڈرشپ کی اس بنیادی رُوح کو سمجھے اور ازسرِنو جائزہ لیتے ہوئے اپنی زندگی پر غور کرے۔
ڈیجیٹل میڈیا کے شور میں، جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں لیڈرز کے لیے ایک بڑی مشکل بھی کھڑی کردی ہے۔ کیا وہ ہجوم میں رہتے ہوئے اپنے ویژن پر فوکس رکھ سکتے ہیں؟ کیا ان کا ویژن عوامی رائے، معاشرتی رجحانات اور دوسروں کی کام یابیوں کی وجہ سے منفی طور پر متاثر تو نہیں ہورہا ہے؟
آج کے اس مضمون میں ہم لیڈرشپ کی اس اہم اور بنیادی خوبی یعنی ’’خودشناسی‘‘ پر بات کریں گے کہ کس طرح لیڈر آج کے سوشل میڈیا کے دور میں اس صلاحیت کو مزید نکھار کر اپنی لیڈرشپ کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔
نام ور برانڈنگ اور کلچر ایکسپرٹ، مارٹن لنڈاسٹرم لکھتے ہیں ’’جو لیڈر خود کو ہجوم سے الگ نہیں کر سکتے، وہ صحیح معنوں میں لیڈ نہیں کر سکتے۔ کیا آپ نوٹیفیکیشنز کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں؟ تو آپ قیادت نہیں کر رہے، آپ صرف آگ بجھا رہے ہیں۔ کیا آپ ہمیشہ آن لائن رہتے ہیں؟ تو آپ تخلیقی سوچ نہیں رہے، بس ردِعمل دے رہے ہیں۔ یہ ایک پھندا ہے۔ سلیک، ای میلز، ٹیکسٹس ، یہ 24/7 نوٹیفیکیشنز اور ردِعمل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ 9 سال پہلے میں نے اپنا فون چھوڑ دیا۔ ٹیکنالوجی سے نفرت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کہ اصل بصیرت اُس وقت آتی ہے جب آپ کے پاس سوچنے کے لیے جگہ ہو۔ توجہ کے لیے فاصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاموشی میں میں نے اپنے بہترین فیصلے کیے۔ فاصلے میں، میں نے اپنی سب سے گہری بصیرتیں پائیں۔ جب دُنیا اتنی توجہ بٹانے والی ہو تو تخلیقی ہونے کے لیے آپ کا پسندیدہ طریقہ کیا ہے؟‘‘
لیڈرشپ کی اس بنیادی مہارت اور خوبی کو مزید نکھارنے کے لیے چند اقدامات کی اشد ضرورت ہے، تاکہ لیڈر اپنے مقصد اور ویژن کے ساتھ انصاف کر سکیں اور اس پر بھرپور توجہ دے سکیں۔
جدائی نہیں، تنہائی ضروری ہے
آپ لیڈرشپ کے کسی بھی مقام یا منصب پر فائز ہوں، اگر آپ بالکل اکیلے ہیں تو آپ کہیں نہیں پہنچ سکتے۔ لیکن اگر آپ ہر وقت ہجوم میں گھرے رہتے ہیں، تو بھی آپ کہیں نہیں پہنچ سکتے۔ اسی طرح اگر آپ ہر وقت خبروں اور فائلوں کے گرد گھومتے یا دبے رہتے ہیں، تو آپ اپنی لیڈرشپ کو خود ہی کم زور کررہے ہیں۔ اس لیے لیڈرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ تنہائی اور اپنے ساتھ وقت گزارنے کی اہمیت کو سمجھیں، کیوںکہ یہی اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور اپنے مقصد کا ازسرِنو جائزہ لینے کا بہترین طریقہ ہے۔
مخلص اور ذہین لوگوں کی رفاقت، لیڈرز کی اصل طاقت
کسی بھی لیڈر کے لیے یہ جاننا نہایت اہم ہے کہ اس کا زیادہ تر وقت کن لوگوں کے ساتھ گزرتا ہے، کیوںکہ رفاقت ہمارے نظریات، شخصیت اور فیصلوں پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ ایک مشہورقول ہے۔’’اگر آپ کمرے میں بیٹھے لوگوں میں سب سے ذہین شخص ہیں، تو آپ غلط کمرے میں ہیں‘‘ کیوںکہ اگر آپ اپنے سے کم ذہین اور کم قابل لوگوں کے ساتھ بیٹھیں گے تو آپ کی صلاحیتیں اور سوچ وسیع ہونے کے بجائے محدود ہوجائیں گی۔ لہٰذا اپنے حلقہ احباب اور رفاقت میں ایسے ذہین اور قابل لوگ شامل کریں جو آپ کو آپ کی موجودہ صلاحیتوں اور سوچ سے آگے بڑھنے اور زیادہ گہرائی سے غوروفکر کرنے پر آمادہ کریں۔
گذشتہ دنوں معروف جریدے ’’فوربس‘‘ کے ایک مضمون ’’کیوں خود آگاہی، آج کے اے آئی دور میں سب سے اہم لیڈرشپ مہارت ہے‘‘ میں مصنف ایٹے کن ٹینک نے اس موضوع کو نہایت عمدگی سے واضح کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ سوفٹ اسکلز کو اکثر کم تر سمجھا جاتا ہے۔
مصنف اور وارٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈم گرانٹ نے اس اصطلاح کو ’’الم ناک غلط نام‘‘ قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اُنہوں نے ورلڈ اکنامک فورم میں بتایا، یہ اصطلاح پہلی بار امریکی فوج نے 1960 کی دہائی میں استعمال کی۔ اُس وقت سپاہیوں کی مہارتوں کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ’’ہارڈ‘‘ مہارتیں، جو مشینوں، ہتھیاروں اور ٹینک جیسے دھات سے متعلق کاموں کے لیے تھیں؛ اور ’’سوفٹ‘‘ یعنی باقی تمام مہارتیں۔
اگرچہ یہ مہارتیں ثانوی نہیں تھیں بلکہ نہایت ضروری تھیں، مگر لفظ ’’سوفٹ‘‘ نے رفتہ رفتہ کم زوری کا تاثر پیدا کیا اور ان کی اہمیت گھٹتی گئی۔ لیکن آج کے دور میں یہی مہارتیں پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہیں۔ خصوصاً ’’خود آگاہی‘‘ آئندہ نسل کے بڑے راہ نماؤں کو متعین کرے گی۔ دُنیا جس تیزی سے بدل رہی ہے اور جس طرح مصنوعی ذہانت (AI) کام کی دُنیا کو تبدیل کر رہی ہے، راہ نماؤں کے لیے اپنی ذات کی پہچان لازمی ہے کہ وہ جانیں وہ کون ہیں، کس بات پر قائم ہیں، اور یہ سب اُن کے عمل میں کیسے جھلکتا ہے۔ میں، بطور اپنی کمپنی کا سی ای او، یہ دیکھ چکا ہوں کہ اپنی اقدار پر قائم رہنا، اپنی طاقت اور کم زوری کو جاننا، اندھی جگہوں (blind spots) کا سامنا کرنا اور دوسروں پر اپنے اثرات سے آگاہ رہنا کس طرح ہماری تنظیمی ثقافت اور برانڈ کو تشکیل دیتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اس نے ہمیں بڑی ٹیک کمپنیوں کے مقابلے میں بھی برتری دی ہے۔ یہاں وہ حکمتِ عملیاں ہیں جو میں نے اپنائیں اور جن سے ہر لیڈر اس اہم مہارت کو پروان چڑھا سکتا ہے۔
حقیقت پسندی مگر حدود کے ساتھ (Authenticity With Boundaries)
آج ’’حقیقت پسندی‘ قیادت کا سب سے زیادہ چلن والا لفظ بن چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نئی نسل خالص سچائی کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے، چاہے پیغام کتنا ہی کچا کیوں نہ ہو۔ لیکن کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہے، اور حقیقت پسندی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
جب راہ نما اپنی بات چیت میں حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں تو اُن کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے اور غیر یقینی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ فرض کریں ایک سی ای او کسی سیکیوریٹی مسئلے کے دوران ملازمین کو بتائے کہ وہ دو راتوں سے سو نہیں سکا اور کمپنی کے گرنے کا خوف ہے۔ جب تک خطرہ حقیقی نہ ہو، ایسی بات بہتر ہے کہ کسی قریبی مشیر یا معالج تک محدود رکھی جائے۔
ماہرِنفسیات ٹوماس چامورو-پریموزک اپنی کتاب Don't Be Yourself میں خبردار کرتے ہیں کہ طاقت اکثر ہم دردی، انکساری اور خودآگاہی کو ماند کر دیتی ہے۔ ماہرنفسیات ڈاچر کیلٹن اسے ’’پاور پیراڈوکس‘‘ کہتے ہیں۔ جو راہ نما خدمت اور ایثار کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں، اقتدار ملنے کے بعد یہی اوصاف کھو بیٹھتے ہیں۔ لہٰذا حقیقت پسندی کو بھی حدود درکار ہیں، جو غوروفکر سے پیدا ہوتی ہیں۔ کچھ کہنے سے پہلے لمحہ بھر رُکیں، خود کو سنبھالیں اور اپنے الفاظ کے اثرات سوچیں۔ قیادت ہر جذبہ فوراً بیان کرنے کا نام نہیں، بلکہ وہ بات کہنا ہے جو ٹیم، مشن اور موقع کے لیے فائدہ مند ہو۔
روزانہ خود احتسابی کی عادت
مصنفہ جوآن ڈڈیون کہتی ہیں ’’میں صرف یہ جاننے کے لیے لکھتی ہوں کہ میں کیا سوچ رہی ہوں۔‘‘ روزانہ ڈائری لکھنے والے اس احساس سے متفق ہوں گے۔ زندگی کی دوڑ میں ہم اکثر رُک کر اپنے جذبات اور رویّوں کا جائزہ نہیں لیتے۔ لیکن تحریر اندرونی کیفیت سننے کا ایک پائے دار طریقہ ہے۔ جو راہ نما اپنے احساسات، کم زوریوں اور تعصبات کو سمجھتے ہیں وہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ زیادہ خود آگاہ راہ نما زیادہ کام یاب سمجھے جاتے ہیں۔ صبح کے وقت چند صفحات لکھنا مجھے روزمرہ کے شور سے الگ کر کے اپنی اصل سوچ سننے میں مدد دیتا ہے۔ آپ صبح یا رات کسی بھی وقت، بس خاموش جگہ پر بیٹھ کر جو دِل میں آئے لکھیں۔ نہ مٹائیں، نہ ایڈٹ کریں۔ مقصد ریکارڈ رکھنا نہیں بلکہ اندر کے خیالات باہر لانا ہے۔ بعد میں ذہن ہلکا اور صاف محسوس ہوتا ہے اور دن کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کا بھرپور، مگر درست استعمال
میں اکثر آٹومیشن اور اے آئی ٹولز کی حمایت کرتا ہوں کیوںکہ یہ ہمیں تھکا دینے والے کاموں سے آزاد کرتے ہیں اور وہ جگہ فراہم کرتے ہیں جہاں صرف انسان کی ضرورت ہے، جیسے غوروفکر اور ہم دردی کے ساتھ قیادت۔ بظاہر عجیب لگ سکتا ہے، مگر ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری آپ کی نرم مہارتوں اور خود آگاہی کو بڑھا سکتی ہے، جو آخرکار آپ اور آپ کی تنظیم کی اصل پہچان بنے گی۔
اوپر دیے گئے فوربس میگزین کے تین اہم نکات سے میں مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ یہ نکات لیڈرشپ میں خود احتسابی اور خودشناسی کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ہمیشہ سیکھنے کی جستجو
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لیڈرشپ کے مقام اور عہدے پر پہنچنے والے لوگ اکثر خود کو عقلِ کل سمجھنے لگتے ہیں، اور ان کے ارد گرد کے لوگ بھی انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ اب انہیں مزید سیکھنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری رائے میں، جیسے جیسے لیڈرلیڈرشپ کی سیڑھی پر اوپر بڑھتے جاتے ہیں، انہیں زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی ضرورت اور طلب ہونی چاہیے، کیوںکہ لیڈرشپ کا رجحان اور رویہ ہی قوموں کی پہچان بنتا ہے۔
اپنی ذات، کائنات اور قدرت کے ساتھ تعلق
دُنیا کے کسی بھی شعبے کا لیڈر اُس وقت تک کام یاب اور مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی ذات سے آگاہ نہ ہو اور قدرت و خالق کے ساتھ وفادار نہ ہو۔ یہ بات سننے میں اگرچہ عام سی لگتی ہے، لیکن حقیقت میں قوموں اور لیڈرشپ کی کام یابیوں کا بنیادی نکتہ یہی ہے۔ وہ لیڈر جو اپنے ادارے، ملک، معاشرے یا خاندان میں حقیقی تبدیلی کے خواہاں ہیں، انہیں اپنی ذات کے بارے میں مسلسل جاننے اور کائنات و قدرت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی جستجو ہمیشہ قائم رکھنی چاہیے۔ یاد رکھیں، لیڈرشپ ایک سفر اور ذمے داری ہے، اور اس سفر میں کام یابی صرف اُنہی کو نصیب ہوتی ہے جو کام یابی کے بنیادی اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن
یاد رکھیں لیڈرشپ ایک سفر اور ذمے داری ہے، اور اس سفر میں کام یابی صرف اُنہیں کو حاصل ہوتی ہے جو کام یابی کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ لیڈرشپ کے لیے خودشناسی کسی ایک دن، ٹریننگ سیشن، کتاب کے مطالعے یا کسی نشست کا نچوڑ نہیں بلکہ یہ ایک جاوداں زندگی اور مسلسل جاری رہنے والا سفر ہے۔ ہر لیڈر کے لیے اپنی ذات کا شعور ایک روزانہ کا عمل ہے جو ایک ارتقائی مرحلے سے گزرتا ہے۔ یہ لمحوں کا نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہوتا ہے۔ اسی لیے اہلِ نظر کہتے ہیں،’’اپنی ذات کا عرفان، قدرت کا سب سے بڑا انعام ہے۔‘‘
حقیقی کام یابی اپنی ذات کی پہچان اور اپنے باطن کی قوت کو جاننے میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لیڈرشپ کی اپنی ذات کام یابی اور اپنے کی ضرورت رہتے ہیں کے لیے ا نہیں کر راہ نما ہوتی ہے کسی بھی کے ساتھ اگر ا پ ا نہیں لیڈر ا نے اور ا گاہی
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔