لیڈرشپ بغیر ویژن کے ایسے ہی ہے جیسے جسم رُوح کے بغیر۔ ویژن کے بغیر لیڈر عہدہ، طاقت، اختیار اور منصب تو رکھ سکتا ہے، لیکن حقیقی لیڈرشپ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، کیونکہ لیڈرشپ کی بنیاد ہی ویژن پر ہوتی ہے۔ جس لیڈر کا ویژن جتنا بڑا ہوتا ہے، وہ اتنا ہی بڑا لیڈر بنتا ہے۔ قوموں کی تاریخ اور عظیم شخصیات کی زندگیوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر وہ لیڈر جس کا ویژن عظیم تھا، وہ آج بھی دُنیا میں عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
آج کے دُور میں، چاہے وہ کارپوریٹ لیڈرشپ ہو، سیاسی یا مذہبی قیادت، کسی سماجی ادارے یا خاندان کا سربراہ ہو یا کسی بھی ایسے عہدے پر فائز ہو جہاں لوگوں کی دیکھ بھال اور راہ نمائی کی ذمے داری ہو، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ لیڈرشپ کی اس بنیادی رُوح کو سمجھے اور ازسرِنو جائزہ لیتے ہوئے اپنی زندگی پر غور کرے۔
ڈیجیٹل میڈیا کے شور میں، جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں لیڈرز کے لیے ایک بڑی مشکل بھی کھڑی کردی ہے۔ کیا وہ ہجوم میں رہتے ہوئے اپنے ویژن پر فوکس رکھ سکتے ہیں؟ کیا ان کا ویژن عوامی رائے، معاشرتی رجحانات اور دوسروں کی کام یابیوں کی وجہ سے منفی طور پر متاثر تو نہیں ہورہا ہے؟
آج کے اس مضمون میں ہم لیڈرشپ کی اس اہم اور بنیادی خوبی یعنی ’’خودشناسی‘‘ پر بات کریں گے کہ کس طرح لیڈر آج کے سوشل میڈیا کے دور میں اس صلاحیت کو مزید نکھار کر اپنی لیڈرشپ کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔
نام ور برانڈنگ اور کلچر ایکسپرٹ، مارٹن لنڈاسٹرم لکھتے ہیں ’’جو لیڈر خود کو ہجوم سے الگ نہیں کر سکتے، وہ صحیح معنوں میں لیڈ نہیں کر سکتے۔ کیا آپ نوٹیفیکیشنز کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں؟ تو آپ قیادت نہیں کر رہے، آپ صرف آگ بجھا رہے ہیں۔ کیا آپ ہمیشہ آن لائن رہتے ہیں؟ تو آپ تخلیقی سوچ نہیں رہے، بس ردِعمل دے رہے ہیں۔ یہ ایک پھندا ہے۔ سلیک، ای میلز، ٹیکسٹس ، یہ 24/7 نوٹیفیکیشنز اور ردِعمل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ 9 سال پہلے میں نے اپنا فون چھوڑ دیا۔ ٹیکنالوجی سے نفرت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کہ اصل بصیرت اُس وقت آتی ہے جب آپ کے پاس سوچنے کے لیے جگہ ہو۔ توجہ کے لیے فاصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاموشی میں میں نے اپنے بہترین فیصلے کیے۔ فاصلے میں، میں نے اپنی سب سے گہری بصیرتیں پائیں۔ جب دُنیا اتنی توجہ بٹانے والی ہو تو تخلیقی ہونے کے لیے آپ کا پسندیدہ طریقہ کیا ہے؟‘‘
لیڈرشپ کی اس بنیادی مہارت اور خوبی کو مزید نکھارنے کے لیے چند اقدامات کی اشد ضرورت ہے، تاکہ لیڈر اپنے مقصد اور ویژن کے ساتھ انصاف کر سکیں اور اس پر بھرپور توجہ دے سکیں۔
جدائی نہیں، تنہائی ضروری ہے
آپ لیڈرشپ کے کسی بھی مقام یا منصب پر فائز ہوں، اگر آپ بالکل اکیلے ہیں تو آپ کہیں نہیں پہنچ سکتے۔ لیکن اگر آپ ہر وقت ہجوم میں گھرے رہتے ہیں، تو بھی آپ کہیں نہیں پہنچ سکتے۔ اسی طرح اگر آپ ہر وقت خبروں اور فائلوں کے گرد گھومتے یا دبے رہتے ہیں، تو آپ اپنی لیڈرشپ کو خود ہی کم زور کررہے ہیں۔ اس لیے لیڈرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ تنہائی اور اپنے ساتھ وقت گزارنے کی اہمیت کو سمجھیں، کیوںکہ یہی اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور اپنے مقصد کا ازسرِنو جائزہ لینے کا بہترین طریقہ ہے۔
مخلص اور ذہین لوگوں کی رفاقت، لیڈرز کی اصل طاقت
کسی بھی لیڈر کے لیے یہ جاننا نہایت اہم ہے کہ اس کا زیادہ تر وقت کن لوگوں کے ساتھ گزرتا ہے، کیوںکہ رفاقت ہمارے نظریات، شخصیت اور فیصلوں پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ ایک مشہورقول ہے۔’’اگر آپ کمرے میں بیٹھے لوگوں میں سب سے ذہین شخص ہیں، تو آپ غلط کمرے میں ہیں‘‘ کیوںکہ اگر آپ اپنے سے کم ذہین اور کم قابل لوگوں کے ساتھ بیٹھیں گے تو آپ کی صلاحیتیں اور سوچ وسیع ہونے کے بجائے محدود ہوجائیں گی۔ لہٰذا اپنے حلقہ احباب اور رفاقت میں ایسے ذہین اور قابل لوگ شامل کریں جو آپ کو آپ کی موجودہ صلاحیتوں اور سوچ سے آگے بڑھنے اور زیادہ گہرائی سے غوروفکر کرنے پر آمادہ کریں۔
گذشتہ دنوں معروف جریدے ’’فوربس‘‘ کے ایک مضمون ’’کیوں خود آگاہی، آج کے اے آئی دور میں سب سے اہم لیڈرشپ مہارت ہے‘‘ میں مصنف ایٹے کن ٹینک نے اس موضوع کو نہایت عمدگی سے واضح کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ سوفٹ اسکلز کو اکثر کم تر سمجھا جاتا ہے۔
مصنف اور وارٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈم گرانٹ نے اس اصطلاح کو ’’الم ناک غلط نام‘‘ قرار دیا ہے۔ جیسا کہ اُنہوں نے ورلڈ اکنامک فورم میں بتایا، یہ اصطلاح پہلی بار امریکی فوج نے 1960 کی دہائی میں استعمال کی۔ اُس وقت سپاہیوں کی مہارتوں کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا ’’ہارڈ‘‘ مہارتیں، جو مشینوں، ہتھیاروں اور ٹینک جیسے دھات سے متعلق کاموں کے لیے تھیں؛ اور ’’سوفٹ‘‘ یعنی باقی تمام مہارتیں۔
اگرچہ یہ مہارتیں ثانوی نہیں تھیں بلکہ نہایت ضروری تھیں، مگر لفظ ’’سوفٹ‘‘ نے رفتہ رفتہ کم زوری کا تاثر پیدا کیا اور ان کی اہمیت گھٹتی گئی۔ لیکن آج کے دور میں یہی مہارتیں پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہیں۔ خصوصاً ’’خود آگاہی‘‘ آئندہ نسل کے بڑے راہ نماؤں کو متعین کرے گی۔ دُنیا جس تیزی سے بدل رہی ہے اور جس طرح مصنوعی ذہانت (AI) کام کی دُنیا کو تبدیل کر رہی ہے، راہ نماؤں کے لیے اپنی ذات کی پہچان لازمی ہے کہ وہ جانیں وہ کون ہیں، کس بات پر قائم ہیں، اور یہ سب اُن کے عمل میں کیسے جھلکتا ہے۔ میں، بطور اپنی کمپنی کا سی ای او، یہ دیکھ چکا ہوں کہ اپنی اقدار پر قائم رہنا، اپنی طاقت اور کم زوری کو جاننا، اندھی جگہوں (blind spots) کا سامنا کرنا اور دوسروں پر اپنے اثرات سے آگاہ رہنا کس طرح ہماری تنظیمی ثقافت اور برانڈ کو تشکیل دیتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اس نے ہمیں بڑی ٹیک کمپنیوں کے مقابلے میں بھی برتری دی ہے۔ یہاں وہ حکمتِ عملیاں ہیں جو میں نے اپنائیں اور جن سے ہر لیڈر اس اہم مہارت کو پروان چڑھا سکتا ہے۔
حقیقت پسندی مگر حدود کے ساتھ (Authenticity With Boundaries)
آج ’’حقیقت پسندی‘ قیادت کا سب سے زیادہ چلن والا لفظ بن چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نئی نسل خالص سچائی کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے، چاہے پیغام کتنا ہی کچا کیوں نہ ہو۔ لیکن کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہے، اور حقیقت پسندی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
جب راہ نما اپنی بات چیت میں حد سے آگے بڑھ جاتے ہیں تو اُن کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے اور غیر یقینی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔ فرض کریں ایک سی ای او کسی سیکیوریٹی مسئلے کے دوران ملازمین کو بتائے کہ وہ دو راتوں سے سو نہیں سکا اور کمپنی کے گرنے کا خوف ہے۔ جب تک خطرہ حقیقی نہ ہو، ایسی بات بہتر ہے کہ کسی قریبی مشیر یا معالج تک محدود رکھی جائے۔
ماہرِنفسیات ٹوماس چامورو-پریموزک اپنی کتاب Don't Be Yourself میں خبردار کرتے ہیں کہ طاقت اکثر ہم دردی، انکساری اور خودآگاہی کو ماند کر دیتی ہے۔ ماہرنفسیات ڈاچر کیلٹن اسے ’’پاور پیراڈوکس‘‘ کہتے ہیں۔ جو راہ نما خدمت اور ایثار کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں، اقتدار ملنے کے بعد یہی اوصاف کھو بیٹھتے ہیں۔ لہٰذا حقیقت پسندی کو بھی حدود درکار ہیں، جو غوروفکر سے پیدا ہوتی ہیں۔ کچھ کہنے سے پہلے لمحہ بھر رُکیں، خود کو سنبھالیں اور اپنے الفاظ کے اثرات سوچیں۔ قیادت ہر جذبہ فوراً بیان کرنے کا نام نہیں، بلکہ وہ بات کہنا ہے جو ٹیم، مشن اور موقع کے لیے فائدہ مند ہو۔
روزانہ خود احتسابی کی عادت
مصنفہ جوآن ڈڈیون کہتی ہیں ’’میں صرف یہ جاننے کے لیے لکھتی ہوں کہ میں کیا سوچ رہی ہوں۔‘‘ روزانہ ڈائری لکھنے والے اس احساس سے متفق ہوں گے۔ زندگی کی دوڑ میں ہم اکثر رُک کر اپنے جذبات اور رویّوں کا جائزہ نہیں لیتے۔ لیکن تحریر اندرونی کیفیت سننے کا ایک پائے دار طریقہ ہے۔ جو راہ نما اپنے احساسات، کم زوریوں اور تعصبات کو سمجھتے ہیں وہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ زیادہ خود آگاہ راہ نما زیادہ کام یاب سمجھے جاتے ہیں۔ صبح کے وقت چند صفحات لکھنا مجھے روزمرہ کے شور سے الگ کر کے اپنی اصل سوچ سننے میں مدد دیتا ہے۔ آپ صبح یا رات کسی بھی وقت، بس خاموش جگہ پر بیٹھ کر جو دِل میں آئے لکھیں۔ نہ مٹائیں، نہ ایڈٹ کریں۔ مقصد ریکارڈ رکھنا نہیں بلکہ اندر کے خیالات باہر لانا ہے۔ بعد میں ذہن ہلکا اور صاف محسوس ہوتا ہے اور دن کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کا بھرپور، مگر درست استعمال
میں اکثر آٹومیشن اور اے آئی ٹولز کی حمایت کرتا ہوں کیوںکہ یہ ہمیں تھکا دینے والے کاموں سے آزاد کرتے ہیں اور وہ جگہ فراہم کرتے ہیں جہاں صرف انسان کی ضرورت ہے، جیسے غوروفکر اور ہم دردی کے ساتھ قیادت۔ بظاہر عجیب لگ سکتا ہے، مگر ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری آپ کی نرم مہارتوں اور خود آگاہی کو بڑھا سکتی ہے، جو آخرکار آپ اور آپ کی تنظیم کی اصل پہچان بنے گی۔
اوپر دیے گئے فوربس میگزین کے تین اہم نکات سے میں مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ یہ نکات لیڈرشپ میں خود احتسابی اور خودشناسی کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ہمیشہ سیکھنے کی جستجو
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں لیڈرشپ کے مقام اور عہدے پر پہنچنے والے لوگ اکثر خود کو عقلِ کل سمجھنے لگتے ہیں، اور ان کے ارد گرد کے لوگ بھی انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ اب انہیں مزید سیکھنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری رائے میں، جیسے جیسے لیڈرلیڈرشپ کی سیڑھی پر اوپر بڑھتے جاتے ہیں، انہیں زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی ضرورت اور طلب ہونی چاہیے، کیوںکہ لیڈرشپ کا رجحان اور رویہ ہی قوموں کی پہچان بنتا ہے۔
اپنی ذات، کائنات اور قدرت کے ساتھ تعلق
دُنیا کے کسی بھی شعبے کا لیڈر اُس وقت تک کام یاب اور مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی ذات سے آگاہ نہ ہو اور قدرت و خالق کے ساتھ وفادار نہ ہو۔ یہ بات سننے میں اگرچہ عام سی لگتی ہے، لیکن حقیقت میں قوموں اور لیڈرشپ کی کام یابیوں کا بنیادی نکتہ یہی ہے۔ وہ لیڈر جو اپنے ادارے، ملک، معاشرے یا خاندان میں حقیقی تبدیلی کے خواہاں ہیں، انہیں اپنی ذات کے بارے میں مسلسل جاننے اور کائنات و قدرت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی جستجو ہمیشہ قائم رکھنی چاہیے۔ یاد رکھیں، لیڈرشپ ایک سفر اور ذمے داری ہے، اور اس سفر میں کام یابی صرف اُنہی کو نصیب ہوتی ہے جو کام یابی کے بنیادی اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن، اپنا تو بن
یاد رکھیں لیڈرشپ ایک سفر اور ذمے داری ہے، اور اس سفر میں کام یابی صرف اُنہیں کو حاصل ہوتی ہے جو کام یابی کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ لیڈرشپ کے لیے خودشناسی کسی ایک دن، ٹریننگ سیشن، کتاب کے مطالعے یا کسی نشست کا نچوڑ نہیں بلکہ یہ ایک جاوداں زندگی اور مسلسل جاری رہنے والا سفر ہے۔ ہر لیڈر کے لیے اپنی ذات کا شعور ایک روزانہ کا عمل ہے جو ایک ارتقائی مرحلے سے گزرتا ہے۔ یہ لمحوں کا نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہوتا ہے۔ اسی لیے اہلِ نظر کہتے ہیں،’’اپنی ذات کا عرفان، قدرت کا سب سے بڑا انعام ہے۔‘‘
حقیقی کام یابی اپنی ذات کی پہچان اور اپنے باطن کی قوت کو جاننے میں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لیڈرشپ کی اپنی ذات کام یابی اور اپنے کی ضرورت رہتے ہیں کے لیے ا نہیں کر راہ نما ہوتی ہے کسی بھی کے ساتھ اگر ا پ ا نہیں لیڈر ا نے اور ا گاہی
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔