قائد اعظم کا اسرائیل پر موقف مشعل راہ، امن منصوبے پر پاکستان کے بھی تحفظات، ایکسپریس فورم
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو خونریزی اور نسل کشی کو اپنے مطالبات منوانے کیلیے استعمال کر رہا ہے، نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی دھمکیاں دیں لہٰذا ایسے شخص پر کس طرح اعتبار کیا جاسکتا ہے، ٹرمپ کے امن منصوبے پر پاکستان نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ اس میں اسلامی ممالک کے ساتھ طے شدہ نکات شامل نہیں، ان نکات کو سامنے لانا چاہیے۔
پاکستان کیلیے قائداعظمؒ کا اسرائیل پر موقف مشعل راہ ہے، فلسطین اور کشمیر کے ساتھ ہماری جذباتی وابستگی ہے، فلسطین امن معاہدے کے اثرات کشمیر پر بھی ہوں گے ، ٹرمپ غیر متوقع شخصیت ہیں، نیتن یاہو بھی قابل اعتماد شخص نہیں، دنیا پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے لہٰذا ہمیں سمجھداری سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ان خیالات کاا ظہار ماہرین امور خارجہ اور سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں نے ’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔ فورم کی معاونت کے فرائض احسن کامرے نے سرانجام دیئے۔
ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینی ٹیز جامعہ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین نے کہا کہ خونریزی اور جنگ کی صورتحال میں مسئلہ فلسطین اور غزہ کا مذاکرات کی میز پر آنابہتر ہے۔
اس کے پیچھے مسلم اور یورپی ممالک کا امریکا اور اسرائیل پر دباؤ ہے، فلسطین میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر یورپی ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت عوام کی بڑی تعداد نے جس انداز میں مظاہرے کیے انہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ماہر امور خارجہ محمد مہدی نے کہا کہ جن آٹھ ممالک کے سربراہان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، ان میں پاکستان واحد ملک سے جس کے اسرائیل کے ساتھ شروع دن سے ہی کوئی تعلقات نہیں اور نہ ہی پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا، ایران نے بھی اسرائیل کو تسلیم کیا تھا، 79ء کے بعد اس نے موقف بدلا اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کیا، پاکستان کیلئے یہ صورتحال انتہائی مشکل ہے۔
ہمارے لیے قائد اعظمؒ کا اسرائیل کے حوالے سے موقف مشعل راہ ہے۔ دفاعی تجزیہ کار کرنل (ر) عابد لطیف نے کہاکہ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو دھونس سے علاقے کو تبدیل کرنا چاہتا ہے، وہ کسی بارڈر، عالمی معاہدے، قانون کو نہیں مانتا اور اپنے اردگرد والے علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ ہر حال میں قائم کرنا چاہتا ہے، ٹرمپ کا امن منصوبہ ایسا پھل ہے جس کے چاروں اطراف کانٹے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔