غزہ پر بمباری روکنے کے لیے اسرائیل سے ٹرمپ کی اپیل ’حوصلہ افزا‘ ہے: حماس
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حماس نے آج (ہفتہ) کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کو “حوصلہ افزا” قرار دیا، جن میں انہوں نے اسرائیل سے غزہ پر بمباری روکنے کی اپیل کی تھی۔
عالمی خبررساں ادارے کے مطابق حماس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ قیدیوں کی رہائی اور جنگ کے خاتمے کے لیے فوراً مذاکرات شروع کرنے کو تیار ہے۔
حماس کے ترجمان طاہر النونو نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا: صدر ٹرمپ کے غزہ پر اسرائیلی بمباری فوراً روکنے کے مطالبات حوصلہ افزا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: حماس قیدیوں کے تبادلے، جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلا کے لیے فوراً مذاکرات شروع کرنے کو تیار ہے۔
اپنی جانب سے حماس کے رہنما محمود مرداوی نے جمعہ کے روز کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے غزہ کی جنگ ختم کرنے کی تجویز “مبہم اور غیر واضح” ہے اور اس کی بعض شقوں پر مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب حماس نے اس منصوبے پر اپنا جواب دیا، لیکن اس میں اپنے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کا ذکر نہیں کیا۔
مرداوی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا: امریکی تجویز مبہم، غیر واضح اور غیر مربوط ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس پر ثالثوں کے ذریعے مزید مذاکرات کیے جائیں۔
امریکی صدر نے جمعہ کی شام اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ پر بمباری “فوراً” روک دے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حماس نے اعلان کیا کہ وہ صدر ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ میں موجود تمام قیدیوں کی رہائی پر آمادہ ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے۔
ٹرمپ نے اپنے “ٹروتھ سوشل” اکاؤنٹ پر لکھا: “حماس کے جاری کردہ بیان کی بنیاد پر میرا خیال ہے کہ وہ مستقل امن کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ فوراً غزہ پر بمباری روک دے تاکہ ہم قیدیوں کو محفوظ اور تیزی سے نکال سکیں! فی الحال ایسا کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ ہم پہلے ہی ان تفصیلات پر بات کر رہے ہیں جن پر اتفاق ہونا ضروری ہے۔ یہ معاملہ صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق اُس دیرینہ امن سے ہے جس کا مشرقِ وسطیٰ طویل عرصے سے منتظر ہے۔”
اس سے قبل جمعہ کی شام کو حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ تمام قیدیوں کو رہا کر کے غزہ انتظامیہ کی غیر جانبدار شخصیات پر مشتمل کمیٹی کے سپرد کرنے پر آمادہ ہے۔ یہ دونوں نکات ٹرمپ کے اُس منصوبے کا حصہ ہیں جسے اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم، حماس نے زور دیا کہ منصوبے میں شامل “غزہ کے مستقبل” سے متعلق نکات پر مزید مذاکرات ضروری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔