اسلام ٹائمز: حماس کی پیشکش میں کافی گنجائش ہے، وہ جنگی دباؤ میں ہے، مگر وہ پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔ قیدیوں کی رہائی ایک سیاسی حربہ ہے، جسے وہ اپنی بقا، عوامی مفادات اور مذاکراتی حیثیت بہتر کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ لہٰذا اسے قطعی شکست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسے ہم مشروط مذاکراتی قبولیت اور سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر پیش کرسکتے ہیں اور ساتھ ہی واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ بیان اور زمینی عمل میں فرق ہوسکتا ہے، حقیقی نتیجہ شاید انھی اشاروں پر منحصر ہو، جو اوپر ذکر کئے گئے ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

حماس کی طرف سے قیدیوں کے تبادلہ کے حالیہ بیان پر کئی طرح کے تبصرے اور تجزیئے آرہے ہیں۔ کیا یہ شکست ہے؟ سیاسی بالیدگی ہے؟ یا حکمتِ عملی کے طور پر وقتی سودے بازی؟ اس موضوع پر غیر جانبدارانہ تجزیئے کے لیے کچھ ریفرنس دیکر اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر دعوے کے ساتھ حالیہ معتبر ذرائع کے حوالہ بھی دیں گے، تاکہ حقیقت اور بیانیے دونوں کو پرکھا جا سکے۔

ایک جملے میں خلاصہ
حماس کی قیدیوں کی رہائی کی پیشکش مکمل شکست نہیں دکھاتی، بلکہ زیادہ امکان ہے کہ یہ ایک پیچیدہ سیاسی حکمتِ عملی ہو، جو دباؤ میں آنے کے باوجود سیاسی زندگی اور عسکری حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش ہو، تاکہ حالات سے فائدہ اٹھا کر مذاکراتی و انسانی نرمی دکھانے جیسے اقدامات کے ساتھ ساتھ  بیک وقت اپنی بنیادی سرخ لکیر (خصوصاً عدم واگذاریِ اسلحہ) پر قائم رہا جا سکے۔ 

مفصل تجزیہ
1) اب جو اعلان ہوا۔۔۔ وہ کیا ہے؟ (حقائق)
حماس نے باضابطہ کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تبادلے کے فارمولے کے مطابق تمام زیرِِقبضہ اسرائیلی قیدیوں (زِندہ یا لاشیں) کو آزاد کرنے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ "میدانی حالات" (field conditions) پورے کیے جائیں اور درمیانی فریق(ثالث) مذاکرات میں شامل ہوں۔ اس اعلان کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے بمباری روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ ایک مناسب موقع ہے۔ اقوامِ متحدہ اور بعض ثالثی فریقین نے بھی اس پیشکش کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

2) حماس کے ممکنہ مقاصد (منطقی محرکات)
حماس کی یہ پیشکش ایک یا ایک سے زیادہ درج ذیل مقاصد پورے کرسکتی ہے:
A.

فوری انسانی/سیاسی نفع (Relief & Legitimacy):
قیدیوں کی رہائی سے غزہ کے عوام کو فوری ریلیف (جیسے بمباری میں کمی، امداد کی آمد) مل سکتی ہے۔۔۔ اور حماس کو عالمی نگاہ میں "ذمہ دار فریق" کے طور پر دیکھا جائیگا، جس سے حماس کو مستقبل میں سیاسی فائدہ مل سکتا ہے۔
B. پراکسی/سیاسی بقا کا ہتھکنڈہ (Preservation):
اپنے فوجی ڈھانچے کو پوری طرح ختم ہونے سے بچانے کے لیے حماس کا یہ اسٹریٹجک قدم ہوسکتا ہے۔ وہ نصف راستہ طے کرسکتی ہے: قیدی چھوڑے گی مگر اسلحہ یا اندرونی نیٹ ورک کی واپسی/پھلاؤ برقرار رکھے گی۔ یہ طویل المدت بقا کا راستہ ہوسکتا ہے۔ 
C. دباؤ کا بَدلنا (Leverage swap):
قیدیوں کے تبادلے سے اسرائیل پر اخلاقی و سیاسی دباؤ بڑھتا ہے؛ اس کا استعمال حماس مذاکراتی فریم ورک میں مزید واپسی یا ریلیف کے لیے کرسکتی ہے۔ 
D. علاقائی ثالثیوں کے ذریعے بین الاقوامی قبولیت:
قطر، مصر یا اقوامِ متحدہ جیسے ثالث بیچ میں آئیں تو حماس کو بقیہ سیاسی حیثیت برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

3) کیا یہ پورے 20 نکات کی قبولیت ہے؟ (حقیقت بمقابلہ بیانیہ)
نہیں، دستیاب بیانات بتاتے ہیں کہ حماس نے قیدیوں کی رہائی میں آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن ٹرمپ پلان کے تمام نکات بالخصوص "غزہ کی ڈیمیلٹرائزیشن" یا "حماس کا مکمل اسلحہ چھوڑنا" وغیرہ پر مکمل قبولیت کا واضح/بلاشرط اعلان نہیں کیا۔ وہ شرائط، وقت بندی، اور سکیورٹی گارنٹیز (مثلاً اسرائیلی فوجی پریزنس یا عارضی انتظامیہ) کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس کا مطلب: شرطیہ تعاون۔۔۔۔ نہ کہ غیر مشروط ترکِ اسلحہ یا مکمل سیاسی رضامندی۔

4) کیا اسے شکست کہا جا سکتا ہے؟
 یہ حماس کی شکست ہے، کہنے والے دلیل دیتے ہیں کہ: فوجی دباؤ، فضائی تباہی اور معاشی قحط نے حماس کو عملی طور پر راستہ بدلنے پر مجبور کیا؛ قیدی چھوڑنا قوت کا نقصان ہے۔ ایک بڑے پیمانے پر قیدی ریلیز کرنے سے حماس کی جنگی دسترس اور مذاکراتی پوزیشن کمزور پڑ سکتی ہے۔ لیکن اس  کے خلاف دلیل یہ ہے: قیدی ریلیز کرنے کو سیاسی کامیابی کے طور پر بھی پیش کیا جا سکتا ہے: حماس نے شرطیہ پیشکش کرکے دکھایا کہ وہ مذاکراتی فریم میں بات کرسکتی ہے اور اگر وہ لازمی سکیورٹی گارنٹیز یا انتظامی شرائط حاصل کر لے تو وہ اسے آگئے بڑھا سکتی ہے۔ متحرک سیاسی مذاکرات میں فریق جب بھی مواقعے کے مطابق نرم لہجہ اختیار کرتا ہے تو یہ بالیدگی کا اشارہ ہوتا ہے، شکست کا نہیں۔

5) آئندہ ممکنہ مناظر (Scenarios)۔۔۔ کِس حد تک ممکن ہیں؟
1۔ تبادلہ + معاہدہ (Likely-ish): قیدیوں کا فوری ایک بڑا پیکج جاری، عارضی/فیزڈ فائر بندی، ثالثی انتظام، تعمیراتی امداد۔۔۔۔ اور احتجاجی/مسلح سرگرمیوں میں وقتی کمی۔ (زیادہ امکان)
2۔ نیم قبولیت، کشیدگی دوبارہ (ممکن): قیدیوں کا تبادلہ جاری، مگر بنیادی مسائل (اسلحہ، کنٹرول) برقرار رہیں۔۔۔۔۔ چھ مہینے میں دوبارہ جھڑپیں۔ (نمایاں امکان)
3۔ حماس کا مکمل خاتمہ (کم امکان): حماس اپنی مسلح شاخ ختم کر دے اور صرف  سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئے۔۔۔۔ مگر زمینی حقائق، عوامی حمایت اور علاقائی بیک اپ کو دیکھتے ہوئے یہ کم ہی ممکن ہے۔

6) اس کا علاقائی و بین الاقوامی مطلب کیا ہوگا؟
اسرائیل/امریکہ کیلئے قلیل مدت میں سیاسی فتح: اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی صورت میں امریکہ اسرائیل کو سیاسی و اخلاقی جیت مل سکتی ہےــ مگر اگر حماس نے اپنا وجود برقرار رکھا تو حقیقی سکیورٹی خطرات باقی رہیں گے۔
حماس کو اندرونی پشت پناہی برقرار رکھنے کا موقع: عوامی ہمدردی یا سیاسی برتری حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے، خاص طور پر اگر امداد اور تعمیر نو پر شفاف وعدے ہوں۔ علاقائی ثالثوں (Egypt, Qatar) کی اہمیت بڑھے گی۔ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق گروپس بھی معاہدے کی نگرانی چاہتے ہیں۔

7) کن اشاروں (Indicators) پر نظر رکھیں
یہ پتہ لگانے کے لئے کہ یہ واقعتاً سیاسی کامیابی ہے یا عارضی سودہ، درج ذیل نکات پر توجہ کرنا ہوگی۔
1۔ کیا حماس نے باضابطہ طور پر "عدم اسلحہ" قبول کیا؟ (اگر نہیں تو وہ بقا کی پالیسی اختیار کر رہی ہے)۔
2۔ قیدیوں کی رہائی کا شیڈول اور ثالث کون ہے؟ (قطر/مصر/اقوامِ متحدہ کی کیا ضمانتیں ہیں)۔ 
3۔ اسرائیل کا فائر بندی واپس لینے یا بمباری روکنے کا عملی اقدام صرف بیانیہ کافی نہیں۔
4۔ حماس کے عسکری گروپس کی منظم سرگرمی۔۔۔۔ کیا وہ پھیل رہے یا منجمد؟ (سرنگیں، میزائل فائرنگ، بیرونی کوآرڈینیشن)۔
5۔ مقامی عوامی ردعمل، کیا غزہ کی عوام حماس کی اس حکمت عملی کو سپورٹ کر رہی ہے یا وہ براہِ راست مزاحمت یا حکومت مخالف ہو رہی ہے۔؟
6۔ ثالثی شواہد اور مانیٹرنگ رسائی اقوامِ متحدہ یا نیوٹرل نگران ٹیم کی رسائی۔

8) آخر میں نتیجے کے طور پر یہ کہا جاسکتا ہے
حماس کی پیشکش میں کافی گنجائش ہے، وہ جنگی دباؤ میں ہے، مگر وہ پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔ قیدیوں کی رہائی ایک سیاسی حربہ ہے، جسے وہ اپنی بقا، عوامی مفادات اور مذاکراتی حیثیت بہتر کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ لہٰذا اسے قطعی شکست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسے ہم مشروط مذاکراتی قبولیت اور سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر پیش کرسکتے ہیں اور ساتھ ہی واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ بیان اور زمینی عمل میں فرق ہوسکتا ہے، حقیقی نتیجہ شاید انھی اشاروں پر منحصر ہو، جو اوپر ذکر کئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب

حوالہ جات
1۔ حماس کی قیدیوں کی رہائی کی پیشکش: رپورٹس کے مطابق حماس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تناظر میں قیدیوں کو رہا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، البتہ کچھ شرائط کے ساتھ۔ (ماخذ: Reuters، Al Jazeera)
2۔ ٹرمپ اور اقوامِ متحدہ کا ردعمل: ٹرمپ نے اسرائیل پر دباؤ ڈالا کہ بمباری روکے اور اس موقع کو مذاکرات کے لیے استعمال کرے؛ اقوام متحدہ اور ثالثی ممالک نے بھی اس پیشکش کو اہم قرار دیا۔ (ماخذ: The Guardian، UN statements)
3۔ حماس کے ممکنہ مقاصد: سیاسی فائدہ، بقاء کی حکمتِ عملی اور عالمی سطح پر اپنی ساکھ دکھانے کے لیے اس قدم کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ (ماخذ: Al Monitor، Middle East Eye)
4۔ 20 نکات کی مکمل قبولیت نہیں: حماس نے غیر مشروط طور پر تمام نکات تسلیم نہیں کیے، خاص طور پر اسلحہ چھوڑنے اور مکمل ڈیمیلٹرائزیشن کے حوالے سے۔ (ماخذ: Times of Israel، AFP)

5۔ شکست کا مؤقف: بعض مبصرین اسے حماس کی کمزوری اور اسرائیلی دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ (ماخذ: BBC Analysis)
6۔ بالیدگی کا مؤقف: کئی تجزیہ کار اسے حماس کی سیاسی حکمت عملی قرار دیتے ہیں کہ وہ مزاحمت کے ساتھ ساتھ سیاسی راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتی ہے۔ (ماخذ: Al Jazeera، Carnegie Endowment)
7۔ آئندہ ممکنہ مناظر: یا تو قیدیوں کا تبادلہ اور وقتی فائر بندی ہوگی، یا دوبارہ جھڑپیں شروع ہوسکتی ہیں، یا (کم امکان) حماس کا مکمل عسکری ڈھانچہ ختم ہو جائے گا۔ (ماخذ: Foreign Policy، Brookings)
8۔ علاقائی اثرات: قطر اور مصر جیسے ممالک کی ثالثی بڑھے گی، اسرائیل وقتی فائدہ اٹھائے گا اور حماس اندرونی طور پر اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کرے گی۔ (ماخذ: UN، Al Arabiya)
9۔ کلیدی اشارے: قیدیوں کی رہائی کا شیڈول، ثالث کی شمولیت، اسرائیل کی بمباری کا رکنا یا جاری رہنا، حماس کا اسلحہ رکھنا یا چھوڑنا، یہ سب مستقبل کے نتائج طے کریں گے۔ (ماخذ: Human Rights Watch، UN OCHA)

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قیدیوں کی رہائی کی سیاسی حکمت ہوسکتا ہے کرسکتی ہے کے طور پر کے لیے اس کر رہی ہے کی پیشکش سکتی ہے کے ساتھ حماس کو کی کوشش حماس کی سکتا ہے حماس کا

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود