احتجاج اور مظاہرے دبائو بڑھائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251005-03-3
غزالہ عزیز
صمود فلوٹیلا کا مقصد اسرائیلی محاصرے کا شکار نسل کشی اور قحط کا نشانہ بننے والے فلسطینی عوام کو براہ راست امداد فراہم کرنا ہے۔ نہ ان کے پاس ہتھیار ہیں، نہ ہی ان کا کوئی فرد اس کے لیے کسی قسم کا ارادہ رکھتا ہے، ان کا مقصد صرف اور صرف بھوک اور تڑپتے بچوں، عورتوں اور مردوں کو امداد فراہم کرنا ہے لیکن اسرائیلی فوج اُن کے ساتھ ایسے سلوک کررہی ہے جیسے کہ وہ خطرناک ہتھیاروں سے لیس ہوں، ابھی کل ہی اسرائیلی بحریہ نے صمود فلوٹیلا کے 2 جہازوں پر دھاوا بول دیا، تقریباً 20 جنگی جہازوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا، مواصلاتی رابطے منقطع کردیے، انٹرنیٹ اور ریڈار سسٹم چلنا بند ہوگئے، صہیونی افواج نے کشتیوں پر پانی کی توپوں سے حملہ کیا، گندے غلیظ پانی سے نشانہ بنایا۔ ان جہازوں میں کون سے ہتھیار ہیں جن سے اسرائیلی بحریہ خوفزدہ ہے؟ یہ عمل دراصل اسرائیل کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ قحط اور بھوک کا شکار اہل غزہ تک غذائی امداد کو روکنے کے لیے ہر طرح کا طریقہ اختیار کرے گا جس کے لیے پچھلے کئی ہفتوں سے وہ اظہار کررہا تھا۔ عالمی برادری کی یہ پرامن کوششیں اس کو قبول نہیں ہے۔ وہ ایک عام پرامن سویلین مشن پر حملہ کرسکتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی کیا۔ ترک فلوٹیلا پر حملہ کرکے افراد کو شہید اور زخمی کیا۔ غزہ کی سمندری ناکہ بندی توڑنے کے لیے یہ اڑتیس ویں (38) کوششیں ہے۔ جس کی ابتدا 2008ء سے ہوئی تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غزہ کو دنیا سے کاٹ کر علٰیحدہ کرنے کی اسرائیلی کوششیں کب سے جاری ہیں۔ موجودہ عالمی صمود فلوٹیلا غزہ تک پہنچنے کی اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے اور اس میں 44 ملکوں سے امدادی کارکن شامل ہیں۔ اس کارواں میں پاکستان کے سینیٹر مشتاق احمد خان کے علاوہ دیگر 5 پاکستانی شامل ہیں۔ جنوبی افریقا سے نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈلا منڈیلا، سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ، فرانسیسی یورپی رکن پارلیمنٹ ریما حسن اور بارسلونا کے سابق میئر آرا کولائو بھی شریک ہیں۔ اٹلی اور اسپین نے اپنی جنگی کشتیاں بھیج کر فلوٹیلا کی حفاظت کا اعلان کیا تھا۔ لیکن انہوں نے براہ راست تصادم سے انکار کیا۔ انہوں نے صمود فلوٹیلا کے شرکا کو اسرائیل کے ممنوع قرار دیے گئے پانیوں میں داخلے سے منع کیا، لیکن قابض اسرائیل نے بین الاقوامی پانیوں میں ہی پرامن بحری قافلے کے شرکا کو روک کر رضا کاروں کو گرفتار کرلیا۔ پاکستان کے علاوہ اٹلی، اسپین، یونان اور جنوبی افریقا کے وزیراعظم اور دیگر حکومتی عہدے داروں نے قابض اسرائیلی حکام سے کہا ہے کہ وہ ان غیر مسلح کارکنوں کی سلامتی کو یقینی بنائے کیونکہ یہ کشتیاں اور رضا کار قابض اسرائیل کے لیے کسی خطرے یا خطرناک اقدام کا ارادہ نہیں رکھتے۔ امید ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت انہیں نشانہ نہیں بنائے گی۔
یہی بین الاقوامی دبائو ہے کہ ابھی تک جارحانہ اقدامات کے باوجود قابض اسرائیلی افواج نے رضا کاروں کو براہ راست ہتھیاروں سے نشانہ نہیں بنایا ہے۔ ورنہ اس سے قبل وہ دیگر فلوٹیلا کے رضا کاروں پر براہ ر است فائرنگ کروا کر قتل کرچکے ہیں۔ قابض اسرائیلی وزیراعظم آج خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی سیاسی تنہائی کا شکار ہیں، نئے عبرانی سال کے آغاز پر عوام کے نام اپنے پیغام میں اپنی سیاسی تنہائی کا ذمے دار یورپ کی مسلم اقلیتوں کو قرار دیتے ہیں کہ وہ موثر ہیں اور اپنی حکومتوں پر غزہ کے مسئلے میں دبائو ڈال رہی ہیں۔ صہیونیت کو رد کررہی ہیں، اس کی ایک وجہ وہ ڈیجیٹل انقلاب کو بھی قرار دے رہے ہیں، انہوں نے صاف اعتراف کیا کہ ان کے حریف (مسلم) جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کررہے ہیں، جس کے باعث روایتی میڈیا کی نسبت وہ انہیں زیادہ طاقت عطا کرتی ہے۔ یہ ڈیجیٹل طاقت ہمیں تنہا کررہی ہے۔ ظاہر ہے روایتی میڈیا پر تو کنٹرول کرکے اپنی مرضی کی خبریں دنیا کو بتائی جاسکتی ہیں، لیکن ڈیجیٹل انقلاب دنیا کو وہ بتاتا ہے جو روایتی میڈیا چھپاتے ہیں۔ خود قابض اسرائیلی حکومت کے حزب اختلاف کے رہنما نے نیتن یاہو کے پیغام پر سخت ردعمل دیا ہے۔ صہیونی اپوزیشن رہنما نیتن یاہو کے اس پیغام کو ’’جنونیت‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اور صہیونی ریاست کی تنہائی کو حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان غلط پالیسیوں نے اسرائیلی ریاست کو تیسری دنیا کے ملک کی مانند بدل دیا ہے۔ ایک دوسرے اپوزیشن رہنما اس پیغام کے بین السطور پیغام کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دراصل نیتن یاہو نے اسرائیلی عوام کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ ’’مجھے اپنی کرسی بچانے کے لیے ہمیشہ تنہائی اور جنگ درکار ہے‘‘۔
اپوزیشن رہنما پائپرغولان کہتے ہیں کہ ’’ہم اس سال تبدیلی لائیں گے اور ریاست کو بچائیں گے‘‘۔ بات یہی ہے کہ نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسیوں، غزہ کے عوام پر قحط مسلط کرنا اور انتہائی مظالم نے بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید اور ردعمل پیدا کیا ہے۔ قابض اسرائیل کے مقامی اور عالمی حلقوں میں ریاست کے خلاف مضبوط اور پرزور آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ ان حالات میں صمود فلوٹیلا کے جانباز رضا کاروں کی اپنی زندگیوں کو دائو پر لگا کر کی جانے والی کوششوں نے عالمی دبائو میں بہت اضافہ کیا ہے۔ جس کو قابض اسرائیلی ریاست کو برداشت کرنا مشکل ہورہا ہے۔ اس دبائو کو بڑھانے اور صمود فلوٹیلا کو قابض اسرائیلی حکومت کی طرف سے روکنے کے خلاف مختلف ملکوں نے مظاہروں اور احتجاج کی کال دی ہے، پاکستان میں بھی تنظیموں نے احتجاج کی کال دی ہے۔ کراچی میں 5 اکتوبر کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں اہل کراچی کی شرکت لازم ہے۔ وہ مجاہد رضا کار جانوں پر کھیل گئے ہیں ہم بھی گھروں سے نکلیں احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ غزہ کے لیے اکٹھے ہوجائیں، عالمی دبائو بڑھا ہے اسے اور بڑھانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قابض اسرائیلی صمود فلوٹیلا قابض اسرائیل بین الاقوامی اسرائیل کے فلوٹیلا کے رضا کاروں نیتن یاہو ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔