Jasarat News:
2026-06-03@05:21:23 GMT

غزہ کا منظر نامہ اور ملین مارچ

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم و نسل کشی، صمود فلوٹیلا پر حملے کے خلاف اور نہتے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جماعت اسلامی کے تحت شاہراہ فیصل پر عظیم الشان ’’غزہ ملین مارچ‘‘ منعقد ہوا جس میں شہر بھر سے لاکھوں مردو وخواتین، مختلف طبقات و مکتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ غزہ ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے جماعت ِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ فلسطین کا کوئی دو ریاستی حل قبول نہیں، ریاست صرف ایک فلسطین اور قیادت صرف ایک حماس کی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اہل پاکستان کی رائے دیکھ لیں، حماس کے موقف کو تسلیم کریں، حماس کے ترجمان بنیں اور کسی بھی قسم کے بیرونی دبائو کو قبول کیے بغیر پاکستان میں حماس کا دفتر کھولنے کا اعلان کریں۔ دیگر اسلامی ممالک میں بھی حماس کا دفتر کھولا جائے۔ اپوزیشن و دیگر حکمران پارٹیاں بھی حماس اور اہل غزہ کی حمایت کریں اور کھل کر امریکا و اسرائیل کی مذمت کریں، عمران خان بلاشبہ سیاسی قیدی ہیں، ان کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ جیل سے دیگر اعلانات کی طرح حماس کی حمایت اور امریکا و اسرائیل کی مذمت کریں۔ اسرائیل کے نام کی کوئی بھی چیز ہے وہ مقبوضہ فلسطین ہے، پاکستان کا قومی موقف وہی ہے جو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اختیار کیا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ حکمران امریکی غلامی اختیار اور امریکا و اسرائیل سے قربت پیدا نہ کریں، اسرائیل کو تسلیم کرنے یا ابراہم ایکارڈ کی طرف جانے کی جس نے بھی کوشش کی عوام اس کا ناطقہ بند کردیں گے۔ حماس کی بصیرت، بصارت، مزاحمت، جد وجہد قربانیوں اور سفارتی کوششوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ ملین مارچ میں حافظ نعیم الرحمن نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ نہ صرف پوری امت مسلمہ بلکہ خود فلسطینی عوام کے احساسات و جذبات کا بھی ترجمان ہے، انہوں نے اپنے خطاب میں پیش آمدہ صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے، ایک جانب جہاں انہوں نے فلسطین کے درینہ موقف کا اعادہ کیا، حکومت اور اپوزیشن کے کردار پر تنقید کی وہیں انہوں نے اس لائن آف ایکشن کا بھی ذکر کیا جس سے انحراف سنگین مضمرات کا حامل ہوسکتا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں جس طرح بے گناہ فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلی جاری ہے اور جس بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی جارہی ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، اب تک 67 ہزار افراد شہید اور ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد افراد زخمی کیے جاچکے ہیں، غزہ پر مسلسل بمباری کے نتیجے میں پورا شہر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے، بائیس لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی کو جبری طور پر نقل مکانی پر مجبور کیا جارہا ہے، غزہ کی ناکہ بندی کی وجہ سے قحط کی سی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، اقوام متحدہ، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی تنظیمیں کھل کر کہہ رہی ہیں کہ اسرائیل غزہ میں جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے اقوام متحدہ کی کمیشن آف انکوائری بھی اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ غزہ میں نسل کشی کی جارہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر اسرائیل پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ عالمی عدالت ِ انصاف نے صہیونی رہنماؤں کے خلاف وارنٹ جاری کیے ہیں، مگر اس کے باوجود غزہ میں اسرائیلی درندگی کا کھیل جاری ہے اور بد قسمتی سے امریکا مسلسل اسرائیل کی حمایت اور سرپرستی کر رہا ہے۔ غزہ امن پلان کے تحت ایک ایسے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے جو فلسطینی عوام کی خواہشوں اور دیرینہ مطالبات کے برعکس ہیں، غزہ میں قیام امن کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اپنے منصوبے کو عرب اور اسلامی دنیا کے لیے امن کا عظیم منصوبہ قرار دے رہے ہیں ساتھ ہی ان کی دھمکیاں بھی جاری ہیں، کہتے ہیں کہ غزہ کا کنٹرول نہ چھوڑا تو حماس کو صفحہ ہستی سے مٹادیں گے جب کہ بن یامین نیتن یاہو نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر حماس نے جنگ بندی معاہدے کو قبول نہ کیا تو غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دی جائیں گی، جب کہ حماس نے اس منصوبے کے کچھ نکات کو قبول کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں انتہائی ہوشیاری اور چابکدستی کے ساتھ فلسطینیوں کے اصل بیانیے کو پس ِ پشت ڈال دیا گیا ہے اور ایسے حالات پیدا کردیے گئے ہیں کہ کسی طرح دنیا فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو تسلیم کرلے۔ مگر حقیقت وہی ہے جس کا اظہار جماعت اسلامی کے امیر نے کیا ہے کہ اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ ناجائز ہے، دو ریاستی فارمولا فلسطین کے مسئلے کا حل نہیں، فلسطینیوں کو حق ِ خود ارادیت دیے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ٹرمپ کے امن منصوبے کو کسی بھی طور نہتے فلسطینیوں کے امنگوں کا ترجمان قرار نہیں دیا جاسکتا، مذکورہ امن معاہدے میں فلسطینیوں سے مزاحمت کا حق بھی چھیننے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ خطے میں اسرائیل کو مکمل طور پر کھل کھیلنے کا موقع مل جائے۔ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ غزہ میں امن کے نام پر جو منصوبہ پیش کیا گیا ہے وہ حقیقی امن کے قیام کے لیے نہیں بلکہ امن کے نوبل انعام کی خواہش کی تکمیل اور اسرائیل کو مکمل طور پر تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہے، اگر امریکی صدر ٹرمپ خطے میں حقیقتاً امن کے قیام کے خواہش مند ہوتے تو غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد کی مخالفت نہ کرتے، اگر امریکا ویٹو نہ کرتا تو اب تک غزہ میں امن قائم ہوچکا ہوتا۔ اب تو ڈونلڈ ٹرمپ یہ بات کھل کر کہہ رہے ہیں کہ غزہ میں جارحیت کی وجہ سے اسرائیل پوری دنیا میں اپنی حمایت کھو چکا ہے، غزہ امن منصوبہ اسرائیل کا کھویا ہوا اعتماد بحال کردے گا۔ المیہ یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل مل کر شیطانی چال چل رہے ہیں مگر اس باب میں مسلم حکمران مسئلہ فلسطین کے دیرینہ موقف پر ڈٹے رہنے اور فلسطینی عوام کا مقدمہ لڑنے کے بجائے جارح قوتوں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں، جو سراسر عاقبت نا اندیشی اور اصولی موقف سے انحراف ہے۔ گزشتہ دنوں اقوامِ متحدہ میں دو ریاستی حل کی قرارداد کی منظوری کے بعد کئی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا بھی اعلان کیا جسے نہ امریکا نے تسلیم کیا اور نہ ہی اسرائیل نے حالانکہ دو ریاستی حل بھی فلسطین کے مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ فلسطین کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ امریکا کے بیس نکاتی امن فامولے پر غور کے لیے مصر کے شہر شرم الشیخ میں حماس اور ثالثوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے جس پر سفارتی حلقے جنگ بندی کے حوالے سے پر امید ہیں تاہم اس حقیقت سے کسی طور صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا کہ غزہ سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا، فوری جنگ بندی اور ناکہ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بغیر امن کی کوئی کوشش بارآور ثابت نہیں ہوسکتی، مزاحمتی قوتوں پر جنگ بندی کے لیے یک طرفہ شرائط عاید کرنا خطے میں قیام ِ امن کو بھیانک خواب بنادے گا۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دو ریاستی فلسطین کے ملین مارچ کو تسلیم بندی کے رہے ہیں امن کے کہ غزہ کے لیے ہیں کہ

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام