ایران کا بڑا شہر سالانہ ایک فٹ دھنسنے لگا، ماہرین کی خطرناک وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران میں زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال نے ایک سنگین ماحولیاتی بحران کو جنم دے دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کا ایک وسیع علاقہ بتدریج زمین میں دھنس رہا ہے۔
برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی سے وابستہ ماہر ارضیات جیسکا پائن کی تازہ تحقیق کے مطابق وسطی ایران کا تقریباً 31 ہزار مربع کلومیٹر علاقہ سالانہ غیر معمولی رفتار سے نیچے بیٹھ رہا ہے، جس میں سب سے زیادہ خطرہ تاریخی شہر رفسنجان کو لاحق ہے۔
یہی شہر سابق ایرانی صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کا آبائی علاقہ بھی ہے، جو اب سائنسی ماہرین کے مطابق سالانہ ایک فٹ کی رفتار سے دھنس رہا ہے ، جو دنیا میں سب سے زیادہ تیز زمین بیٹھنے کی شرح مانی جا رہی ہے۔
جیسکا پائن کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں یہ شہر مکمل طور پر صفحۂ ہستی سے مٹ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اپنی پینے کے پانی کی تقریباً 60 فیصد ضرورت زیر زمین آبی ذخائر سے پوری کرتا ہے، لیکن کم بارشوں، حد سے زیادہ زرعی استعمال اور پانی کے غیر متوازن نکاس نے زمینی تہوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ نتیجتاً زمین آہستہ آہستہ بیٹھ رہی ہے، جس سے عمارتوں میں دراڑیں، سڑکوں کا ٹوٹنا اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی جیسے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ رفسنجان اور اس کے مضافاتی علاقے زیرِ زمین پانی کی مسلسل نکاسی کے باعث زمین کی ساختی مضبوطی کھو چکے ہیں۔
پروفیسر جیسکا پائن نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے فوری طور پر پانی کے مؤثر انتظام، جدید آبپاشی نظام اور زیرِ زمین ذخائر کے تحفظ کے اقدامات نہ کیے تو یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں انسانی المیے میں بدل سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔