ایرانی شہررفسنجان سالانہ 1 فٹ کی رفتار سے دھنس رہا، تحقیق میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
لاہور:
ایران میں پینے کا 60 فیصد پانی زیر زمین آبی ذخائر سے نکالا جاتا ہے مگر بڑھتی طلب اور کم بارشوں کے سبب ذخیروں میں پانی مسلسل گھٹ رہا ہے جس سے زمین بھی بیٹھ رہی۔
اب برطانوی لیڈز یونیورسٹی کی ماہر ارضیات، جیسکا پائن نے تحقیق سے دریافت کیا ہے، وسطی ایران میں 31 ہزار مربع کلومیٹر علاقے کے سالانہ دھنسنے کی رفتار دنیا میں سب سے زیادہ جس سے لاکھوں ایرانیوں کی زندگی متاثر ہو سکتی۔
اسی علاقے میں تاریخی شہر رفسنجان واقع جس سے سابق صدر، علی اکبر رفسنجانی تعلق رکھتے تھے۔
بقول پروفیسر جیسکا یہ سالانہ 1 فٹ کی رفتار سے دھنس رہا جو نہایت خطرناک امرہے۔ یہی رفتار رہی تو جلد شہر صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔